شمیم ملک بریمپٹن، کینیڈا |  |
 |  مظاہرین نے کے ایف سی کو آگ لگادی |
ہائے، میرا نام شمیم ملک ہے۔ میں کینیڈا میں رہتا ہوں۔ میں نے جس لئے لکھنے کی، بلکہ سوال کرنے کی، ضرورت محسوس کی وہ یہ ہے کہ کراچی میں جو کے ایف سی کی ریسٹورنٹ ہے جس میں آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کے واقعات ہوئے ہیں وہاں ملک چھوڑنے سے پہلے میں کام کیا کرتا تھا۔ کچھ لوگوں کے لئےیہ ایک معمولی خبر ہوگی، لیکن میرے جیسے کچھ دوسرے لوگوں کے لئے یہ صرف ایک خبر ہی نہیں۔ اس کی وجہ کے ایف سی پاکستان سے، بالخصوص اس ریسٹورنٹ سے جہاں آگ لگی، میرا رشتہ ہے۔ مجھے یہ خبر پڑھ کر گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ خیر یہ میرا تعارف تھا۔۔۔۔ ویل، یہ سب کچھ مسجد پر حملے کے بعد شروع ہوا۔ یہ حملہ اپنے آپ میں برا ہے، غیراخلاقی ہے جیسا کہ ہم سمجھ سکتے ہیں انسانی یا مذہبی بنیادوں پر۔ لیکن جو اپنی بات منوانے کے لئے ایسا کرتے ہیں، کیا یہ فخر کرنے والی بھی کوئی بات ہے؟ کیا چھ انسانوں کو زندہ جلادینا جو کہ مسلمان بھی تھے، ایسی بات ہے جس پر ہم ایک قوم کی حیثیت سے فخر محسوس کرسکتے ہیں؟ شاید کچھ لوگوں کے لئے یہ موقع فخر کرنے کا ہو۔ کچھ معصوم لوگ جو مارے گئے شاید ان کے پاس اس وقت نوکری نہ رہی ہو کہ وہ اپنی فیملی کا پیٹ پال سکیں، وہ اس وقت مظاہرے میں شریک رہے ہوں گے، کچھ احتجاج اور توڑ پھوڑ میں شامل رہے ہوں، اور کچھ انسانوں کا قتل کر بیٹھے ہوں۔۔۔شاید جس نے ایسا کیا ہو اور ہلاکتوں کا ذمہ دار ہو وہ فخر کرے۔۔۔ لیکن میں، مسلمان کی حیثیت سے، کنفیوژڈ ہوں کہ کیا اس بات پر فخر کروں؟ کیا یہی سب کچھ اسلام نے مجھے سکھایا ہے؟ کیا یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے مرنے کے بعد میں جنت میں جاؤں گا؟ کیا میرے لئے ممکن ہے کہ ایک غلطی کو صحیح کروں، لیکن دوسری غلطی کے ذریعے؟ کیا میں کینیڈا میں اپنے دوستوں کو اس حملے کے بارے میں جواب دینے کے بعد فخر سے سر اٹھاکر رہ سکوں گا؟ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس بات پر فخر کروں کیا۔۔۔۔؟ اگر کوئی مجھے صحیح راستہ دکھائے، پلیز۔ لیکن۔۔۔ ٹھہریئے۔ شاید میں اس کا جواب جانتا ہوں، اپنے ہی سوال کا، کہ واقعات کچھ بھی ہوں، مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔ کیا میں صحیح ہوں؟
ہمارے قاری شمیم ملک کے مضمون پر ردعمل
نثا خان، پاکستان: اتنا دکھ تو مجھے مسجد پر حملے پر نہیں ہوا جتنا کے ایف سی پر وہ بےچارے زندہ جلادیے گئے۔ ہم کیسے بےشرم مسلمان ہوگئے ہیں، اچھا ہے جو امریکہ اور یورپ میں ہم لوگوں کو ذلیل کیا جاتا ہے، ہم لوگ کسی کے لائق نہیں ہیں۔ فرزانہ احمد، کینیڈا: کراچی میں ہنگامے میں ان سب کا ذمہ دار کون ہے، شیعہ یا سنی۔۔۔ ذمہ دار جو کوئی بھی ہو ہماری کنٹری کے لوگ فورا آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں جنہیں ہم مظاہرین کہتے ہیں، جنہیں اصل میں قاتل کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ یہ لوگ فورا اشتعال میں آجاتے ہیں اور ہنگامہ آرائی کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ یقین کریں ان میں سے کسی کا رشتہ دار اس میں نہ مارا گیا ہوگا جن لوگوں نے کے ایف سی میں آگ لگائی۔۔۔۔ سید جاوید علی جادو، پاکستان: میں بیان نہیں کرسکتا کہ میں نے ریسٹورنٹ میں آگ لگانے کی خبر سن کر کیا محسوس کی۔۔۔ چھ جانیں ضائع ہوگئیں۔ کیا ہم مسلمان کہہ سکتے ہیں؟ فیاض، رسالپور: میرے خیال میں آپ بالکل صحیح کہتے ہیں۔ ہم مسلمان ہوکر ایسا کرتے تو دوسروں سے کیا گلہ دعویٰ کروں، ہم اس قابل ہوجائیں کہ ملک دشمن لوگوں کو جواب دے سکیں اور ان کو ایسا کرنے سے منع کرسکیں۔ سید فرہاج، یو اے ای: ویل برادر، میں آپ کے دور کو سمجھ سکتا ہوں، اور آپ سے متفق ہوں۔۔۔ علی کاظمی، کینیڈا: کے ایف سی پاکستان میں امریکی علامت ہے اور لوگ امریکہ سے نفرت کرتے ہیں، اتنا کہ جو چیز مل جائے وہ جلادیتے ہیں اگر اس کا تعلق امریکہ سے ہے۔ مسجد پر حملوں سے۔۔۔ صرف امریکہ کو فائدہ ہوتا ہے، اس لئے اس نفرت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ ملک، اسپین: جہاں کتے سیاست دان ہوں وہاں کوئی اور توقع نہیں کی جاسکتی۔ محمد راشد، کراچی: میرے خیال میں آپ نے جو رائے دی ہے میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔ ہمیں ایک مسلمان ہونے کے ناطے سوچنا چاہئے آج کل کا مسلمان کس راستے پر جارہا ہے۔ کیا یہی ٹھیک راستہ ہے؟ بالکل نہیں۔ ہمیں اپنے غریبان میں دیکھنا چاہئے اور اپنے ماضی کو یاد کرنا چاہئے۔ نبیلہ فیاض، رسالپور: ہم میں شعور کب بیدار ہوگی یہ پتہ نہیں۔ ہم اپنے ملک میں اپنے لوگوں کو مارتے ہیں۔ کیا یہ انسانیت ہے کہ ہم مسلمان کہہ سکتے ہیں یا انسان کہلا سکتے ہیں۔ مرزا اشفاق، امریکہ: قاضی حسین احمد کے ایف سی میں شہید ہونے ولوں کے لئے ہڑتال کی کال دیکر اسلام کی خدمت کررہے ہیں، اسلام زندہ باد، قاضی کی ملوکیت زندہ باد۔ صفدر علی آبرو، شکارپور، پاکستان: جس وقت یہ خبر میں نے سنی، میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں لکھ سکوں۔ کراچی میں جو اس وقت ہورہا ہے وہ سراسر غلط ہے اور یہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اسلامی ملک میں رہنے والے سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ کچھ شرپسند لوگ ہم سب مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم سب ملکر ان چند شرپسندوں کو بےنقاب کریں۔ دہشت گردی کا مقابلہ ہم سب کو ملکر کرنا چاہئے۔ اس میں ہم سب کا بھلا ہے۔ شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات: دعا میں بہت طاقت ہے۔ شمیم بھائی آپ کا دکھ پڑھ کر دل جو پہلے ہی دکھی تھا اور زیادہ تکلیف میں آ گیا ہے۔ پوری دنیا ہو یا صرف میرا ملک، سب کا دکھ ایک سا ہی لگتا ہے۔ لیکن اپنا دکھ ایک دم خود سے جڑا ہوا اور زیادہ تکلیف دہ لگتا ہے۔ باری امام اور مدینت العلم کی تکلیف دل کا درد کم نہیں ہونے دے رہی۔ عشر حسن، ملتان، پاکستان: شمتم بھائی صرف کے ایف سی پر حملے کی بات نہیں۔ یہ وہشی لوگ کہاں ظلم نہیں کرتے؟ اب تو ان سے لوگ مسجد میں بھی محفوظ نہیں۔ ہم صرف دعا ہی کر سکتے ہیں کہ خدا ہمیں ان لوگوں سے محفوظ رکھے۔ قاسم، برطانیہ: وہ لوگ جنہوں نے بلڈنگ میں آگ لگائی، وہ لوگ جنہوں نے خو کش حملہ کیا اور حکومت، تینوں ہی ذمہ دار ہیں۔ جن لوگوں کے غزیز کے ایف سی اور مسجد پر حملے میں ہلاک ہو گئے، انہیں معاوضہ ملنا چاہئیے اور ان حملوں کے ذمہ دار افراد کو سخت سے سخت سزا ہونی چاہئیے۔ راجہ علی حمید، امریکہ: صرف کچھ لوگوں کی وجہ سے آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے پاکستانی ہونے پر فخر نہیں ہونا چاہئیے؟ یہ لوگ پاکستانیوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ کیا ہٹلر کی وجہ سے ہم جرمن لوگوں کو برا بھلا کہہ سکتے ہیں؟ مجھے تو افسوس ہے کہ پاکستانی ہونے کے باوجود آپ ایسا سوچتے ہیں۔ اسد شاہ، کراچی، پاکستان: اللہ نے ہمیں قران جیسی کتاب دی ہے۔ اگر ہم اس کو سمجھ کر پڑھیں تو تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ نہ تو ہم مذہب میں مکمل ہیں اور نہ ہی دنیاوی تعلیم میں، تو پھر یہ سب تو ہوگا ہی۔ سید غضنفر، راولپنڈی، پاکستان: کے ایف سی میں چھ مسلمان مر گئے اور سبھی نے تقریریں کرنا شروع کر دیں۔ جب روز روز مسجدوں میں بم بلاسٹ ہوتے ہیں اور درجنوں لوگ مارے جاتے ہیں تو کیا وہ مسلمان نہیں ہوتے؟ عثمان نعیم، لاہور، پاکستان: مجھے آپ کی بات سے پورا اتفاق ہے۔ اللہ ہمیں صحیح راستہ دکھائے۔ مجتبیٰ ہزاروی، پاکستان: یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ملک کو جہنم بنا دیا ہے۔ ہمارے تمام قانونی ادارے امریکہ کو خوش کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور جو باقی ہیں وہ حکم رانوں کی حفاظت میں۔ کے ایف سے میں ہلاک ہونے والوں کی ذمہ دار حکومت ہے جس نے ایسے لوگوں کو قانوں کا رکھوالا بنایا ہوا ہے۔ اس کے ذمہ دار افراد کو سزا ملنا ضروری ہے۔ محمد ریاض، امریکہ: جن لوگوں نے کے ایف سی میں آگ لگا کر چھ معصوم لوگوں کو جلایا ہے وہ انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے اب کے ایف سی، میک ڈانلڈ اور پیتزا ہٹ جیسے اداروں کو اپنے دفاع کے لیے مسلح ہو جانا چاہئیے۔ سید شاہد، نامعلوم: کیا ہم یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ جنہوں نے کے ایف سی پر حملہ کیا انہوں نے ہی مسجد کو بھی نشانہ بنایا؟ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ سب ایک کھیل ہے۔ عارف، کینیڈا: امریکہ کی ہر چال کامیاب رہی ہے اور اب کی دفع بھی وہ کامیابی سے مسلمان ممالک کو بےوقوف بنا رہے ہیں اور ہم پاکستانی تو ویسے بھی بہت معصوم ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ افسوس ناک خبر ہے یہ۔ عالیہ حسین، پاکستان: ہم سبھی جاہل ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سب سے ہم بطور ایک قوم اپنی بدنامی کر رہے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہئیے کہ یہ ٹھیک کام نہیں ہیں۔ احمد نوید، پاکستان: یہ سب تو تب تک چلتا رہے گا جب تک ہماری ذہنیت نہیں بدلتی۔ روحی سمینہ، کراچی، پاکستان: آپ سب نے تو یہ خبر اخباروں میں پڑھی ہوگی، لیکن جب یہ دھماکہ ہوا اس وقت میں کے ایف سی ہی جا رہی تھی، اور جس طرح سے بھگ دھڑ ہوئی رستے میں، اور جیسے لوگ بھاگے، جو ٹریفک جیم ہوا۔۔۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مشتعل لوگ بھی دراصل دہشت گردوں کے ساتھی ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں ہر عام شخص کو گھر جانے کی سوجھتی ہے نہ کہ وہاں کھڑے ہو کر شٹر توڑنے اور پیٹرول پمپس میں آگ لگانے کی۔ یہ در اصل شر پسند عناصر کی حرکت ہے عام لوگوں کی نہیں۔ ایاز مزاری، پاکستان: اس سب کے بعد حکومت کس منہہ سے غیر ملکی انویسٹرز کو سرمایہ کاری کی دعوت دے گی؟ فرحان صدیقی، برطانیہ: مجھے برطانیہ آئے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے۔ جب میں پہلی بار یہاں آیا تھا تو میرے ذہن میں یہ ڈر تھا کہ گیارہ ستمبر کے بعد یہاں میرے ساتھ امتیازانہ سلوک کیا جائے گا، مجھے جھک کر رہنا پڑے گا، اور یہاں کے مقامی لوگ مجھے دھتکاریں گے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ کسی نے مجھے مسلمان یا پاکستانی ہونے کا تانا نہیں دیا۔ مجھے یہاں پہنچ کر احساس ہوا کہ انسانی اور سیاسی حقوق کیا ہوتے ہیں اور انسان کی زندگی کی کیا احمیت ہے۔ یہاں میری نماز خود کش حملوں سے محفوظ ہے، میرے مذہب اور فرقے پر کسی کو اعتراض نہیں اور مجھے کم سے کم اپنے بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ یہ سوچ کر دل پر ایک خنجر سا چلتا ہے کہ میرے اپنے ملک میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ حق سیم، امریکہ: کسی نے خوب کہا ہے کہ ’اسلام دنیا کا بہترین مذہب ہے اور مسلمان دنیا کے بدترین لوگ‘۔ فیضہ بخاری، نامعلوم: شمیم بھائی ہمیں بھی اس سانحے پر اتنا ہی افسوس ہے جتنا آپ کو، ہو سکتا ہے اس سے بھی زیادہ ہو۔ ہم بھی اس طرح کے واقعات کی اتنی ہی مذمت کرتے ہیں جتنی کہ آپ کرتے ہیں۔ لیکن آج سے ہم لوگوں کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئیے کہ اس طرح کے واقعات پر ان لوگوں کی مذمت کی جائے جو ایسا کرتے ہیں نہ کہ اسلام کی۔ اسلام ایسے کام کی اجازت نہیں دیتا۔ فرحان خان، کراچی، پاکستان: یہ سب خبریں ہمارے سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں کی وجہ سے ہیں۔ امین اظہر، کراچی، پاکستان: بم بلاسٹ والی رات میں اپنی فیملی کے ساتھ علادین پارک جا رہا تھا۔ گلشن چورنگی کے سامنے ہم نے خود توڑ پھوڑ دیکھی۔ پھر ہم کسی طرح گھر واپس پہنچے یہ ایک الگ کہانی ہے۔ وہ لوگ جو احتجاج کر رہے تھے اور وہ جنہیں نے حملہ کیا، ان میں کیا فرق ہے؟دونوں ہی گناہ گار ہیں۔ |