میرا شہر: قاہرہ سے فیضہ حسن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیضہ حسن کی عمر سڑسٹھ سال ہے، وہ ایک بیوہ ہیں اور مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں رہتی ہیں۔ انہوں نے اپنے شہر کے بارے میں یہ مراسلہ بھیجا ہے: ’میرا شہر اچھی جگہ ہے جہاں آپ عمر کے آخری دن گزار سکتے ہیں کیوں کہ ہمارے معاشرے میں عمررسیدہ افراد کی عزت کی جاتی ہے۔ میری سوشل لائف اچھی ہے اور میں جو چاہوں وہ کرسکتی ہوں۔ میں ایک اسٹار کی طرح محسوس کرتی ہوں۔ چونکہ میں بیوہ ہوں، اس لئے میں وہ ہر کچھ کرسکتی ہوں جو دوسری عورتیں نہیں کرسکتیں۔ جب میری شادی ہوئی تھی میں اپنی بات نہیں کہہ سکتی تھی۔ مجھے ہمیشہ یہ خیال رکھنا پڑتا تھا کہ میں کیا کہہ رہی ہوں، کہاں جارہی ہوں، اور میں کس کے ساتھ دیکھی جاتی ہوں، کہیں اس سے میرے شوہر کے کیریئر کو دھچکا تو نہیں پہنچے گا؟ لیکن اب میں بہت آزادی سے کھل کر بات کرسکتی ہوں، یہ ایک ونڈرفُل بات ہے۔ میں بازار جاسکتی ہوں۔ میں جو چاہوں صحت کی فکر کیے بغیر کھاسکتی ہوں۔ میں اکیلے کیفے میں جاسکتی ہوں جہاں مرد جاتے ہیں۔ اور اگر میں چاہوں تو ان کے ساتھ سوشلائز بھی کرتی ہوں۔ اگر میری عمر کی کسی عورت کو اپنی زندگی میں پارٹنر کی تلاش ہو تو انہیں چھپ چھپاکر ملنا پڑے گا۔ لیکن میں نہیں سمجھتی کہ اتنی عمر تک ایک فرد کے ساتھ زندگی گزارنے کے بعد کسی کو کسی کی ضرورت کیوں ہوگی؟ میں مرکزی قاہرہ میں واقع گروپی کیفے ہر جمعہ کو جاتی ہوں جب یہاں چہل پہل ہوتی ہے۔ ہفتے بھر کے حالات کے بارے میں بات چیت کے بعد میں بیلی ڈانسِنگ کی کلاس جاتی ہوں۔ اس کے بغیر میں ایک ہفتے نہیں گزار سکتی۔ موسیقی کے ساتھ ڈانس کرنے سے کافی خوشی ملتی ہے۔۔۔۔‘ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ بھی ’میرا شہر، میرا ایک دن‘ کے عنوان سے کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||