BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 November, 2005, 15:01 GMT 20:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نسل انسانیت ایک ہے‘

ایوب میڈیکل کمپلیکس میں ایک بچہ اور ایک رضاکار
ایوب میڈیکل کمپلیکس میں ایک بچہ اور ایک رضاکار

(نوٹ: ہماری یہ تحریر متاثرہ علاقوں سے موصول ہونے والی سیریز ’آپ کی صحافت‘ ہی کا حصہ ہے۔ اگر آپ بھی ان علاقوں میں ہیں اور اپنے تجربات اور کہانیاں ہمیں لکھ کر بھیجنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔)

آٹھ اکتوبر سے پہلے میں سوچتا تھا کہ اگلے تین ماہ کے بعد میں بی ایس سی کمپیوٹر انجنیئرنگ کا آخری سال پاس کرلینے کے بعد پریکٹیکل لائف میں داخل ہونے کے لئے تیار ہوں گا اور میں دن گن گن کر گزار رہا تھا۔

لیکن میرا انسٹیٹیوٹ ایک ماہ کے لیے بند ہوگیا کیونکہ اس کی بیرونی چار دیواری اور ہاسٹل گر گئے اور یہ ڈر بھی ہے کہ خدا نہ کرے اگر ایک اور بڑا جھٹکا آیا تو یہ ملبے کے ڈھیر میں ہی نہ بدل جائے۔

آیات کا ورد
جب میں محلے کی گلی سے دوڑ کر ان کی طرف جا رہا تھا تو مجھے ہر طرف عورتیں اپنے گھروں کے باہر کھڑی اور آیات کا ورد کرتی ہوئی نظر آئیں۔

آٹھ اکتوبر کو میں حسبِ معمول علی الصبح ہی جاگا، نماز پڑھی، اپنے کمپیوٹر سے قرآن پڑھا اور امتحانات کی تیاری شروع کردی۔ آٹھ بج کر پچاس منٹ پر ہر چیز ختم ہوگئی۔ ہر شئے اس بری طرح ہل رہی تھی کہ مجھے یوں لگا جیسے یہی روزِ قیامت ہے۔ عمارت اور اس کے لوہے کے دروازوں سے خوفناک آوزیں آرہی تھیں۔

اپنے محلے میں زمین اور عمارتو کو اس بری طرح ہلتے ہوئے دیکھ کر مجھے اپنے چھوٹے بھائیوں کا خیال آیا جو پانچویں اور چھٹی جماعت میں پڑھتے ہیں۔ جب میں محلے کی گلی سے دوڑ کر ان کی طرف جا رہا تھا تو مجھے ہر طرف عورتیں اپنے گھروں کے باہر کھڑی اور آیات کا ورد کرتی ہوئی نظر آئیں۔

جب میں سکول کے نزدیک پہنچا تو مجھے کئی عورتیں روتی ہوئی ملیں۔ میرا دل بیٹھ گیا اور مجھے اپنے بھائیوں کی شدید فکر ہوئی لیکن خدا کا شکر ہے کہ جب میں وہاں پہنچا تو میرے بھائی روتے ہوئے آکر مجھ سے لپٹ گئے۔

میں انہیں گھر چھوڑنے کے بعد میں ایوب میڈیکل کمپلیکس کی طرف خون کا عطیہ دینے کی نیت سے روانہ ہوا۔ قراقرم ہائی وے جام تھی اور گاڑیاں دونوں اطراف بھری تھیں۔ مسلسل ایمبولینسز کے سائرنز کی آواز آرہی تھی۔ گرنے والی بہت سی عمارتوں کا ملبہ راستے کی ایک اور رکاوٹ بناہوا تھا۔

دوسرے دن مجھے اپنے انسٹیٹیوٹ سے امدادی کاموں میں مدد کے لئے فون آگیا تو میں نے حامی بھر لی۔ میں نے سوچا کہ جب برطانوی ٹیم آکر ہماری مدد کر رہی ہے تو ہمیں تو سب سے آگے بڑھ کر کام کرنا چاہئے۔

اس سے اگلے روز میں نے بالاکوٹ اور کشمیر سے آنے والوں کا سیلاب دیکھا جن میں بہت سے بچے اور عورتیں شامل تھیں۔ ہسپتال کے وارڈز اور کاریڈورز، حتٰی کہ کھلی جگہیں تک مریضوں سے بھری ہوئی تھیں۔

یہ پانچ دن جو میں نے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں گزارے اور میرے انسٹیٹیوٹ کے طلباء نے مریضوں کو ایمبولینسز سے ہسپتال میں منتقل کرنے، انہیں اور ان کے عزیزوں کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے کا کام کیا۔ ان میں سے کئی لوگ دو دو دن سے بھوکے ہوتے تھے اور کئی رمضان میں ایک ایک دن کے سفر کے بعد یہاں پہنچ پاتے تھے۔ ہم نےایک ڈیٹا بیس بھی انٹرنیٹ پر بنائی تاکہ لوگ اپنے مسنگ عزیزوں سے رابطہ کرسکیں۔

بعد کے جھٹکے
 بعد آنے والے جھٹکوں میں ایک اتنا شدید تھا کہ ہسپتال کا تمام عملہ اور مریض باہر کی طرف دوڑے، ہم لوگوں نے شدید زخمیوں کو فوری طور پر خیموں میں منتقل کیا کیونکہ اس وقت شدید بارش بھی ہورہی تھی۔

زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکوں میں ایک اتنا شدید تھا کہ ہسپتال کا تمام عملہ اور مریض باہر کی طرف دوڑے، ہم لوگوں نے شدید زخمیوں کو فوری طور پر خیموں میں منتقل کیا کیونکہ اس وقت شدید بارش بھی ہورہی تھی۔ میرے کالج کا ایک لڑکا عثمان دو دو اور دو رات بغیر سوئے ان کاموں میں مدد کرتا رہا اور اسے زبردستی گھر بھیجا گیا۔ اب بھی وہ شنکیاری میں امدادی کارروائیوں میں شامل ہے جہاں وہ فوج، جی ایچ کیو اور دوسرے اداروں کو زلزلے کے متعلق ڈیٹا فراہم کرتا رہتا ہے۔

ہم طلباء کو ان خدمات پر کوئی ستائش نہیں چاہئے بلکہ یہ میں صرف اس لئے لکھ کر بھیج رہا ہوں کہ شاید اس سے دوسرے طلباء میں یہ جذبہ بیدار ہو۔ انہیں بھی یہ احساس ہو کہ آپ کسی بھی شعبے کے طالبِ علم ہوں، سب سے زیادہ اہم انسانی اقدار ہی ہوتی ہیں۔

نسلِ انسانیت ایک ہے
 امریکہ، یورپ اور دوسرے ممالک سے آنے والے امدادی کارکنوں کو دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہم سب کا تعلق ایک ہی نسل سے ہے، نسلِ انسانیت۔

ایک اور بات جو اہم ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کی گوروں خصوصاً برطانویوں کے بارے میں رائے تبدیل ہوگئی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ تمام انسان بھائی بھائی ہیں اور امریکہ، یورپ اور دوسرے ممالک سے آنے والے امدادی کارکنوں کو دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہم سب کا تعلق ایک ہی نسل سے ہے، نسلِ انسانیت۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66کس کس کوگنیں؟
’پچیس ہزار میں تو ملبہ بھی نہیں اٹھایا جاسکتا‘
66’میں پاگل نہیں‘
زلزلے سے متاثرہ بچوں کی کہانیاں
66آپ کی صحافت
نیلم وادی میں لوگوں کو کیسے بچایا جائے؟
66آپ کی کہانیاں
’میری بچی زلزلے سے تو بچ گئی، مگر۔۔۔‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد