’نسل انسانیت ایک ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(نوٹ: ہماری یہ تحریر متاثرہ علاقوں سے موصول ہونے والی سیریز ’آپ کی صحافت‘ ہی کا حصہ ہے۔ اگر آپ بھی ان علاقوں میں ہیں اور اپنے تجربات اور کہانیاں ہمیں لکھ کر بھیجنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔) آٹھ اکتوبر سے پہلے میں سوچتا تھا کہ اگلے تین ماہ کے بعد میں بی ایس سی کمپیوٹر انجنیئرنگ کا آخری سال پاس کرلینے کے بعد پریکٹیکل لائف میں داخل ہونے کے لئے تیار ہوں گا اور میں دن گن گن کر گزار رہا تھا۔ لیکن میرا انسٹیٹیوٹ ایک ماہ کے لیے بند ہوگیا کیونکہ اس کی بیرونی چار دیواری اور ہاسٹل گر گئے اور یہ ڈر بھی ہے کہ خدا نہ کرے اگر ایک اور بڑا جھٹکا آیا تو یہ ملبے کے ڈھیر میں ہی نہ بدل جائے۔
آٹھ اکتوبر کو میں حسبِ معمول علی الصبح ہی جاگا، نماز پڑھی، اپنے کمپیوٹر سے قرآن پڑھا اور امتحانات کی تیاری شروع کردی۔ آٹھ بج کر پچاس منٹ پر ہر چیز ختم ہوگئی۔ ہر شئے اس بری طرح ہل رہی تھی کہ مجھے یوں لگا جیسے یہی روزِ قیامت ہے۔ عمارت اور اس کے لوہے کے دروازوں سے خوفناک آوزیں آرہی تھیں۔ اپنے محلے میں زمین اور عمارتو کو اس بری طرح ہلتے ہوئے دیکھ کر مجھے اپنے چھوٹے بھائیوں کا خیال آیا جو پانچویں اور چھٹی جماعت میں پڑھتے ہیں۔ جب میں محلے کی گلی سے دوڑ کر ان کی طرف جا رہا تھا تو مجھے ہر طرف عورتیں اپنے گھروں کے باہر کھڑی اور آیات کا ورد کرتی ہوئی نظر آئیں۔ جب میں سکول کے نزدیک پہنچا تو مجھے کئی عورتیں روتی ہوئی ملیں۔ میرا دل بیٹھ گیا اور مجھے اپنے بھائیوں کی شدید فکر ہوئی لیکن خدا کا شکر ہے کہ جب میں وہاں پہنچا تو میرے بھائی روتے ہوئے آکر مجھ سے لپٹ گئے۔ میں انہیں گھر چھوڑنے کے بعد میں ایوب میڈیکل کمپلیکس کی طرف خون کا عطیہ دینے کی نیت سے روانہ ہوا۔ قراقرم ہائی وے جام تھی اور گاڑیاں دونوں اطراف بھری تھیں۔ مسلسل ایمبولینسز کے سائرنز کی آواز آرہی تھی۔ گرنے والی بہت سی عمارتوں کا ملبہ راستے کی ایک اور رکاوٹ بناہوا تھا۔ دوسرے دن مجھے اپنے انسٹیٹیوٹ سے امدادی کاموں میں مدد کے لئے فون آگیا تو میں نے حامی بھر لی۔ میں نے سوچا کہ جب برطانوی ٹیم آکر ہماری مدد کر رہی ہے تو ہمیں تو سب سے آگے بڑھ کر کام کرنا چاہئے۔ اس سے اگلے روز میں نے بالاکوٹ اور کشمیر سے آنے والوں کا سیلاب دیکھا جن میں بہت سے بچے اور عورتیں شامل تھیں۔ ہسپتال کے وارڈز اور کاریڈورز، حتٰی کہ کھلی جگہیں تک مریضوں سے بھری ہوئی تھیں۔ یہ پانچ دن جو میں نے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں گزارے اور میرے انسٹیٹیوٹ کے طلباء نے مریضوں کو ایمبولینسز سے ہسپتال میں منتقل کرنے، انہیں اور ان کے عزیزوں کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے کا کام کیا۔ ان میں سے کئی لوگ دو دو دن سے بھوکے ہوتے تھے اور کئی رمضان میں ایک ایک دن کے سفر کے بعد یہاں پہنچ پاتے تھے۔ ہم نےایک ڈیٹا بیس بھی انٹرنیٹ پر بنائی تاکہ لوگ اپنے مسنگ عزیزوں سے رابطہ کرسکیں۔
زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکوں میں ایک اتنا شدید تھا کہ ہسپتال کا تمام عملہ اور مریض باہر کی طرف دوڑے، ہم لوگوں نے شدید زخمیوں کو فوری طور پر خیموں میں منتقل کیا کیونکہ اس وقت شدید بارش بھی ہورہی تھی۔ میرے کالج کا ایک لڑکا عثمان دو دو اور دو رات بغیر سوئے ان کاموں میں مدد کرتا رہا اور اسے زبردستی گھر بھیجا گیا۔ اب بھی وہ شنکیاری میں امدادی کارروائیوں میں شامل ہے جہاں وہ فوج، جی ایچ کیو اور دوسرے اداروں کو زلزلے کے متعلق ڈیٹا فراہم کرتا رہتا ہے۔ ہم طلباء کو ان خدمات پر کوئی ستائش نہیں چاہئے بلکہ یہ میں صرف اس لئے لکھ کر بھیج رہا ہوں کہ شاید اس سے دوسرے طلباء میں یہ جذبہ بیدار ہو۔ انہیں بھی یہ احساس ہو کہ آپ کسی بھی شعبے کے طالبِ علم ہوں، سب سے زیادہ اہم انسانی اقدار ہی ہوتی ہیں۔
ایک اور بات جو اہم ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کی گوروں خصوصاً برطانویوں کے بارے میں رائے تبدیل ہوگئی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ تمام انسان بھائی بھائی ہیں اور امریکہ، یورپ اور دوسرے ممالک سے آنے والے امدادی کارکنوں کو دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہم سب کا تعلق ایک ہی نسل سے ہے، نسلِ انسانیت۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||