BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 November, 2005, 16:02 GMT 21:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آپ کی صحافت: نیلم وادی میں لوگوں کو کیسے بچایا جائے؟

وادیِ نیلم میں چلیانہ کے پل سے امدادی سامان لایا جا رہا ہے
وادیِ نیلم میں چلیانہ کے پل سے امدادی سامان لایا جا رہا ہے

(نوٹ: وادیِ نیلم کی صورتِ حال کا یہ تجزیہ ہمیں وہاں کے ایک شہری نے بھیجا ہے۔ اگر آپ بھی متاثرہ علاقوں میں ہیں اور ہمیں اپنی کہانیاں، تجربات یا تجزیئے بھیجنا چاہتے ہیں تو بائیں ہاتھ پر لگے ای میل فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔)

وادیِ نیلم کی کل لمبائی دوسو کلومیٹر ہے ـ مظفرآباد سے سے آگے ساٹھ کلو میٹر تک کا علاقہ حالیہ زلزلے سے شدید متاثر اس سے آگے کا علاقہ جُزوی طور پر متاثر ہوا ہے۔

زلزلے سے تباہ ہونے والے ساٹھ کلومیٹر تک کے علاقےکی روڈ بھی اس زلزلے میں تباہ ہوگئی جس کو ابھی تک بحال نہیں کیا جاسکا۔ حال ہی میں قائم ہونے والے ضلع نیلم (سابقہ تحصیل اٹھ مقام) کے علاقے کی آٹھ یونین کونسلوں میں سے یونین کونسل باڑیاں بُری طرح متاثر ہوئی باقی سات یونین کونسلوں میں جُزوی نقصان ہوا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ضلع نیلم میں ساری وادیِ نیلم شامل نہیں بلکہ صرف ماربل سے آگے تاؤبٹ تک کا علاقہ اس میں شامل ہے جس کی لمبائی لگ بھگ ایک سو پچاس کلومیٹر بنتی ہے۔

ضلع نیلم کی روڈ تو کھلی ہے لیکن اس کا رابطہ ماربل سے آگے منقطع ہے۔ ایک ماہ سے زائد کاعرصہ گزرنے کے باوجود یہ راستہ نہیں کھل سکا ہے جس وجہ سے ضلع نیلم میں خوراک کی شدید قلت پید ہوچکی ہے کیونکہ اس علاقے میں اشیائے خوردنی اور دیگر چیزوں کی ساری سپلائی مظفرآد سے جاتی تھی۔

اس ٹکڑے میں سڑک ہونے کے باوجود ڈیزل نہ ہونے کی وجہ سے گاڑی کم ہی روڈ پر چلتی ہیں۔ جو چند ایک چلتی بھی ہیں، انہوں نے کرایوں میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ جس سفر کا کرایہ میں ساٹھ روپے میں دے کر آتا تھا اس بار تین سو روپے میں کیا اور سیٹ پر بیٹھنے کی بجائے لٹک کر سفر کرنا پڑا۔ مذکورہ جیپ میں گنجائش بارہ سوارویوں کی تھی لیکن بیالیس لوگ سوار ہوئے۔

ضلع نیلم کی کل آبادی لگ بھگ ڈیڑہ لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ ان کا نقل مکانی کرنا ناممکن ہے کیونکہ یہاں ان کی جائیدایں اور خاص کر مال مویشی ہیں۔ دیگر بچوں، عووتوں اور عمر رسیدہ افراد کاپیدل چل کر مظفرآباد پہنچنا ناممکن ہے۔ اگرخوراک اس علاقے میں برف آنے سے پہلے نہیں پہنچائی گئی تو اس علاقے میں جو تو زلزلے سے جزُوی تباہ ہوا ہے ایک بڑی انسانی تباہی آنے کا خدشہ ہے۔ یہاں پر یونین کونسل باڑیاں کو (جس کے اکثر دیہات زلزلے سے تباہ ہوچکے ہیں ) چھوڑ کر باقی علاقے کے لوگوں کو ریلف نہیں بلکہ قیمتاً اشیائے خوردنی چاہئے۔

اس علاقے میں خوراک کی ترسیل کے اس وقت دو متبادل ہیں ایک بذریعہ ہیلی کاپٹر اور دوسرا بذریعہ ٹیٹوال۔ بذریعہ ہیلی کاپٹر تو اتنی بڑی آبادی کیلئے کم از کم پانچ ماہ کا راشن ذخیرہ کرنا نالکل ہی ناممکن ہے۔

اب میں دوسرے متبادل کی طرف آتا ہوں: ضلع نیلم کے لوگوں کی شدید خواہش تھی کہ ہندوستانی زیر انتظام کشمیر کے ساتھ رابطہ بذریعہ ٹیٹوال رابطہ بحال کیا جائے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تقسیم سے پہلے یہاں پُل ہوا کرتا تھا اور اس کے پائے ابھی تک موجود ہیں اور نیا پل اس سے تھوڑے فاصلے پر لگایا گیا ہے۔ تقسیم کے بعد سے یہاں کی سرحدوں پر کافی کشیدگی رہی ہے۔ اسی کشیدگی کو جناب سعادت حسن منٹو صاحب نے اپنے شاہکار افسانے ”ٹیٹوال کا کتا“ میں سمایا۔ اگر آج منٹو صاحب ہوتے تو شاید ایک اور شاہکار بنام ” ٹیٹوال کا پُل“ آجاتا۔

ٹیٹوال تک کے راستے کو چونکہ ہندوستان والوں نے کھول دیا ہے اور ٹیٹوال سے آگے وادئی نیلم کی روڈ یہاں کے آخری گاؤں تاؤبٹ تک کھلی ہے۔ اگر ہندوستان سے تجارت کی بنیاد پر اشیائے خوردنی حاصل کرکے علاقے میں برف آنے سے پہلے ذخیرہ کرلی جائیں تو یہ سب سے آسان اور قابل عمل ہے لیکن ریلیف کے سامان کے حصول میں سیاست حائل ہے۔ آخر ہندوستان سے اس آفت زدہ عوام کیلئے اشیاء خوردنی خریدنے میں کیا امر مانع ہے؟ ہمارا سوال یہ ہےکہ اگر واہگہ سے جہاں سے بغیر ویزا کے انٹری نہیں ، سامان آ جا سکتا ہے تو یہاں سے کیوں نہیں آ سکتا؟ یہاں پر توویزا کی شرط بھی نہیں۔

کشمیر پر سیاست بہت ہوئی اب کچھ عرصے کیلئے انسانی بنیادوں پر ہمارے مسائل کو حل کئے جانے کی کوشش کئی جائے۔ کم از کم جب تک ہم زلزلے کے اثرات سے باہر نہیں آتے۔ ہماری دونوں ممالک سے اپیل ہے فی الحال آپس میں تعاوں کرتے ہوئے یہاں پر تجارتی بنیادوں پر سامان کی ترسیل شروع کریں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66’سہیلی یاد آتی ہے‘
زلزلے سے متاثرہ بچوں کی کہانیاں
66کس کس کوگنیں؟
’پچیس ہزار میں تو ملبہ بھی نہیں اٹھایا جاسکتا‘
66جھٹکے، ابھی تک۔۔
باغ کی زلزلے کی ایک متاثر کی کہانی
66’میں پاگل نہیں‘
زلزلے سے متاثرہ بچوں کی کہانیاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد