جستی چادروں کی بلیک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاہراہ قراقرم پر بٹل کے پاس چنار کوٹ گاؤں میں زلزلہ متاثرین کے لیے کام کرنے والے ایک رضاکار خالد ضیاء صدیقی کا کہنا ہے کہ برف باری کے باعث خیمہ کار آمد نہیں رہا۔ وہ لاہور سے جستی چادریں (کوروگیٹڈ شیٹس) خرید کر لے گئے ہیں جن سے عارضی مکان بنا کر زلزلہ متاثرین کی رہائش کا بندوبست کیا جائے گا۔ لاہور میں فولاد کے تھوک بازار کی منڈی لنڈا بازار میں ہے جہاں سے این جی اوز گزشتہ ایک ہفتہ سے دھڑا دھڑ جستی چادریں خرید رہی ہیں اور منڈی میں جست کی تہ چڑھی ان فولادی چادروں کی قیمت ہر روز بڑھتی چلی جارہی ہے۔ جستی چادروں کو تکنیکی زبان میں گیلوانائزڈپلین شیٹس (جی پی ایس) کہا جاتا ہے۔ ان جست کی تہہ چڑھی سادہ فولادی چادروں میں نالیاں سی بنادی جاتی ہیں جسے کوروگیشن کہتے ہیں اس لیے ان کا نام کوروگیٹڈ شیٹس بھی ہے۔ لنڈے بازار کے تاجر مذاق کرتے ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ زلزلہ لنڈے بازار کے لیے آیا تھا۔ شروع میں پرانے کپڑوں، ترپالوں اور کمبلوں کا کاروبار کرنے والوں نے سیزن کے معمول کے کاروبار سے تین چار گنا زیادہ مقدار میں اور مہنگے داموں اپنا مال بیچا۔ اب جستی چادریں بیچنے والوں کی چاندی ہوگئی ہے۔ لنڈے بازار میں فولادی چادروں کا کام کرنے والے ایک تاجر انجم بٹ نے بتایا کہ جستی چادروں کی قیمت میں دس سے بارہ روپے فی کلوگرام اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق ایک ہفتہ پہلے چوبیس سے چھبیس گیج کی چادر چھپن سے ستاون روپے فی کلوگرام فروخت ہوتی تھی وہ آج چھیاسٹھ روپے فی کلوگرام سے سڑسٹھ روپے فی کلوگرام میں فروخت کی جارہی ہے۔
کراچی کے سٹیل ملز کے ڈیلر حاجی اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی میں دس پندرہ روز میں مکان بنانے والی جستی چادر کا نرخ پچپن ہزار فی ٹن سے بڑھ کر ساٹھ ہزار روپے فی ٹن ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا پہلے جو چادر سو دو سو ٹن کی مقدار میں بازار میں عام مل جاتی تھی اب وہ دستیاب نہیں بلکہ لوگوں نے سٹاک کرلی ہے۔ کراچی میں معین مارکٹ اور سریاگلی اس کاروبار کے بڑے مراکز ہیں۔ لنڈے بازار کے ایک اور تاجر اور سٹیل ملز کے ڈیلر حافظ صادق کا کہنا ہے کہ پاکستان سٹیل ملز جست کی موٹی چادریں بناتی ہے جو بائیس سے چوبیس ملی میٹر موٹی ہوتی ہیں اور وہ مکان بنانے کے لیے استعمال نہیں ہوسکتیں کیونکہ وہ زیادہ وزنی ہوتی ہیں۔ مکان بنانے کے لیے چھبیس ستائیس گیج ( یا اعشاریہ چار سے اعشاریہ پانچ پیمائش) کی جستی چادر موزوں سمجھی جاتی ہے۔ لنڈے بازار کے تاجر کا کہنا ہے کہ زلزلہ کے بعد سٹیل ملز نے پتلی جستی چادریں بنا کر حکومت کو مہیا کی ہیں لیکن عام بازار میں نہیں دیں۔ بازار میں جو جستی چادریں مکان بنانے کے لیے دستیاب ہیں وہ بیرون ممالک سے درآمد کی گئی ہیں۔ کراچی کے تاجروں کے مطابق گزشتہ روز (منگل) ہی کراچی میں جنوبی افریقہ سے سات ہزار ٹن جستی چادریں لے کر ایک بحری جہاز کراچی بندرگاہ پر لگا ہے۔ جن دوسرے ملکوں سے جستی چادریں درآمد ہورہی ہیں ان میں سرفہرست سعودی عرب، انڈونیشیا اور بھارت بذریعہ دبئی شامل ہیں۔ لاہور کے ایک بڑے امپورٹر انجم بٹ کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں جستی چادریں بڑے پیمانے پر تیار ہوتی ہیں کیونکہ افریقی ممالک میں ان کا مکان بنانے کے لیے استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ جنوبی افریقہ جستی چادریں مہیا کرتا ہے۔ انجم بٹ کے مطابق جنوبی افریقہ میں مختلف سائزوں کی متفرق جستی چادریں (بڑے آرڈرز کی بچی ہوئی) اچھی خاصی مقدار میں دستیاب ہیں جنہیں کاروباری لوگ اپنی زبان میں جاب لاٹ کہتے ہیں اور یہ مال عام نرخ سے سستا مل جاتا ہے۔ اس لیے پاکستان میں زیادہ تر مال جنوبی افریقہ سے آرہا ہے۔ تاجر اور امپورٹرز حضرات نے نہ صرف جستی چادروں کی قیمت میں ایک دم اضافہ کردیا ہے بلکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے گیج کے فرق کو عام گاہکوں سے چھپا کر بھی دھوکہ دہی کی جارہی ہے۔ تاجر حافظ صادق کاکہنا ہے کہ ہزارہ اور کشمیر کے لیے زیادہ تر مال راولپنڈی میں راجہ بازار کے پاس فولاد کی مارکٹ سے لیا جاتا ہے جہاں جستی چادریں وزن کے بجائے فی چادر کے حساب سے فروخت کی جاتی ہے۔
گیج جستی چادر کی موٹائی ناپنے کا پیمانہ ہے۔ گیج جتنی زیادہ ہو فولادی چادر اتنی پتلی ہوتی ہے اور اس کا وزن کم ہوتا ہے۔ فولادی چادروں کو ملی میٹر میں بھی ناپا جاتا ہے اور انہیں وزن کے حساب سے فی کلوگرام یا فی ٹن کے حساب خریدا یا بیچا جاتا ہے۔ مثلا تین ضرب آٹھ فٹ کی چوبیس گیج کی جستی چادر کا وزن بارہ کلوگرام ہوتا ہے جبکہ اتنے سائز کی اٹھائیس گیج کی چادر کا وزن صرف آٹھ کلوگرام ہوتا ہے۔ این جی اوز اور عام لوگوں کو جستی چادروں کے کاروبار کی ان باریکیوں کا علم نہیں اس لیے حافظ صادق کے مطابق دکاندار پتلی (زیادہ گیج والی) چادریں جیسے اٹھائیس گیج کی چادر اس نرخ پر بیچ رہے ہیں جس نرخ پر انہیں موٹی اور چوبیس گیج کی چادریں دینی چاہئیں۔ اس طرح ایک دکاندار کو فی جستی چادر (تین ضرب آٹھ فٹ) میں سو سے دو سو روپے زیادہ منافع ہوتا ہے۔ یہ پتلی جستی چادریں جلد ہی برف باری میں پچک سکتی ہیں اور گر سکتی ہیں۔ حافظ صادق کا کہنا ہے کہ اس وقت لاہور کے فولاد بازار میں بعض تاجر ناواقف گاہکوں کو گھی کے ڈبے بنانے والی ٹن پلیٹ شیٹس بھی جستی چادروں کی شکل میں بیچ رہے ہیں۔ یہ ٹن پلیٹیں پانی لگتے ہی خراب ہوجاتی ہیں اور زلزلہ زدگان کو دی گئیں تو ان کے لیے خطرہ کا باعث ہوں گی۔ چنار کوٹ میں کام کرنے والے خالد ضیائی کا کہنا ہے کہ اگر ایک متاثرہ گھرانہ کو سات سے آٹھ جستی چادریں (تین ضرب آٹھ فٹ) مہیاکردی جائیں تو لوگ انہیں جوڑ کر اپنی ٹھکانہ خود بناسکتے ہیں۔ پہلے خیموں اور کمبلوں کے نرخوں میں اضافہ اور اب جستی چادروں کی بلیک مارکٹنگ سے یوں لگتا ہے کہ آٹھ اکتوبرکے زلزلہ نے حکمرانوں کی ہنگامی حالات سے نپٹنے کی صلاحیت کو ہی نہیں پاکستان کے کاروباری طبقہ کی اخلاقیات کو بھی عریاں کردیا ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ امداد: ’دنیا کے دہرے معیار ہیں‘04 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: متاثرین امداد کے منتظر08 November, 2005 | پاکستان ’امدادی آپریشن ممکن لگ رہا ہے‘09 November, 2005 | پاکستان امداد کی تقسیم کے مسائل11 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||