درد کا رشتہ، کیوبا کے ڈاکٹر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیوبا نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود پانچ سو ڈاکٹروں کو زلزلہ کے زخمیوں کے علاج کے لیے بھیجا ہے۔ کیوبا سے آئے ہوئے ان ڈاکٹروں نے صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیر انتظام کمشیر کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کر رکھے ہیں اور ان کیمپوں میں سے ایک ضلع شانگلہ کی تحصیل بشام کی یونین کونسل میرہ میں ہے۔ ڈاکٹروں کی اس ٹیم میں خواتین ڈاکٹر بھی ہیں جو خواتین کا علاج کرتی ہیں۔اسے کہ علاوہ ماہر نفسیات اور گائنا کالوجسٹ بھی شامل ہیں۔ ان کیمپوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر انگریزی زبان بھی نہیں جانتے لیکن اس کے باوجود وہ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ ابتدائی دنوں میں کیوبا کے ڈاکٹر اشاروں اور مترجموں کی مدد سے علاج کرتے تھے لیکن ایک مہینے کے بعد انہوں نے مقامی زبان کے کچھ لفظ سیکھ لیے ہیں جو ان کو مریضوں کے علاج میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ میرہ میں قائم میڈیکل کیمپ میں اٹھاون کیوبن ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔ اس ٹیم میں شامل ڈاکٹر گریگیرو آمینو نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کے ساتھی اب اردو کے بہت سے الفاظ سیکھ گئے ہیں جیسے ’منہ کھولو‘’آپ کا نام کیا ہے‘ وغیرہ ڈاکٹر گریگیرو نے بتایا کہ کیوبا کی حکومت کے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن ان کی حکومت نے انسانی ہمدردی کے تحت زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے پانچ سو ڈاکٹر پاکستان روانہ کیے۔ ڈاکٹر گریگیرو نے امریکہ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈاکٹر ہیں اور ان کا سیاسی معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ کیوبا کے ڈاکٹروں کا مشن ابتدائی طور پر تین ماہ کے لیے پاکستان آیا ہے لیکن اگر پاکستان نے زیادہ عرصہ کے لیے رکنے کے لیے کہا تو وہ زیادہ عرصہ تک بھی رک سکتے ہیں۔ کیوبا کے ڈاکٹر مقامی لوگوں کے گریدوہ ہو گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت مہمان نواز اور مدد گار ہیں۔ میرہ کیمپ کے انچارج کرنل احمد فراز نے بتایا کہ آلائی کے پہاڑوں سے بہت سے لوگ اتر کر میرہ میں قائم خیمہ بستی میں آگئے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ پہاڑوں پر برف باری شروع ہونے کے بعد بہت سے اور لوگ بھی خیمہ بستی میں آ جائیں گے۔میرہ کی خمیہ بستی میں پانچ ہزار لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ یہ خیمہ بستی سطح سمندر سے 2000 فٹ بلندی پر واقع ایک ہموار میدان میں قائم کی گئی ہے۔ الائی کے علاقے میں پھیلے ہوئے گاؤں پانچ سے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہیں۔ ڈاکٹر گریگیورو نے بتایا کہ ان کے کیمپ میں روزانہ دو سے ڈھائی سو افراد علاج کے لیے آتے ہیں۔ میرہ کے بیشتر افراد نے اس سے پہلے کیوبا کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ | اسی بارے میں ڈاکٹر کی ڈائری: ہر جگہ ایک ہی کہانی17 October, 2005 | پاکستان لاہور میں ہیضے کی وبا: 2000 متاثر30 June, 2005 | پاکستان زخمیوں کو کراچی لانے کا منصوبہ25 October, 2005 | پاکستان سردی متاثرین کو کیمپوں میں لائی07 November, 2005 | پاکستان ’پانچ بلین ڈالر سے زیادہ چاہئیں‘16 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||