’پانچ بلین ڈالر سے زیادہ چاہئیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی اور مقامی امدادی اداروں کے درمیان اتفاقِ رائے ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے متاثرہ افراد کی بحالی اور علاقے کی تعیرِ نو کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ رقم کی ضرورت ہے۔ ہفتے کو اسلام آباد میں ڈونر کانفرنس سے قبل اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی ادارے یہ رقم مہیا کرنے میں ناکام ہوگئے تو پاکستان نئے ٹیکس لگا کر اور سماجی شعبے کے اخراجات کو کم کرکے یہ رقم پوری کرے گا۔ اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ صدر مشرف نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ پاکستان بین الاقومی اداروں کو شکر گزار ہے کہ انہوں نے ہنگامی امدادی کاموں میں فوری مدد فراہم کی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ زلزلے سے چار لاکھ کے قریب گھروں کی تباہی اور تیس لاکھ افراد کے بے گھر ہو جانے کے بعد اہم ترین کام ان کی بحالی اور تعمیرنو کا ہے۔
صدر مشرف نے کہا کہ وہ اس چیلنج کو موقع میں بدل دیں گے اور متاثرہ افراد کو بہتر سکول، ہسپتال اور بہتر گھر فراہم کریں گے۔ ڈونر کانفرنس میں صدر مشرف جس منصوبے کے بارے میں بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کے خدو خال کے بارے میں انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ہر انفرادی ڈونر سے کہیں گے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ایک دیہات، سکول یا ہسپتال بنانے کے لیے یا کسی ادارے کے ساتھ تعاون کرے یا براہِ راست اس کے لیے رقم فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی باوقار قوم کے فرد ہیں اور اگر بین الاقوامی ادارے مطلوبہ پانچ بلین ڈالر سے زیادہ رقم کا اہتمام کرنے میں ناکام رہے تو یہ رقم اپنے ہی وسائل سے مہیا کی جائے گی خواہ اس کے لیے اضافی ٹیکس لگانے پڑیں یا ترقیاتی اخراجات کو کم کرنا پڑے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ قطرینہ طوفان اور سونامی پر بین الاقوامی ردِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے بھی بین الاقوامی اداروں کا ردِ عمل بہتر ہوگا۔ | اسی بارے میں ’بین الاقوامی کمیونٹی مدد کرے‘09 October, 2005 | پاکستان ’ دفاعی بجٹ کم نہیں کرسکتے‘31 October, 2005 | پاکستان 'بھارتی فوجیوں کے سوا ہر چیز قبول' 18 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||