BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 November, 2005, 00:47 GMT 05:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’650 متاثرین کے اعضاء کاٹے گئے‘

زلزلہ متاثرین
’ایک لاکھ اٹھائیس ہزار سے زیادہ زخمی اب بھی ملک کی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں‘
پاکستان کے ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد نے بتایا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے زخمی ہونے والے ایک سو سے زیادہ بچوں سمیت ساڑھے چھ سو زخمیوں کے ’گینگرین‘ کی وجہ اعضا کاٹے جا چکے ہیں۔

جمعرات کے روز پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار سے زیادہ زخمی اب بھی ملک کی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ریلیف کمشنر نے بتایا کہ چار لاکھ ساٹھ ہزار خیمے تقسیم کیے جاچکے ہیں اور دو لاکھ تیس ہزار مزید خیمے پائپ لائن میں ہیں۔ ان کے مطابق رواں ماہ کے آخر تک پانچ لاکھ خیمے تقسیم کرنے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ بیشتر علاقوں تک زمینی راستوں کی بحالی کے بعد رسد حاصل ہوچکی ہے اور امدادی سامان تقسیم ہورہا ہے۔ ان کے مطابق صوبہ سرحد کے متاثرہ علاقوں میں پچھتر فیصد علاقے میں پانی، بجلی اور خوراک وغیرہ کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کی وادی نیلم کی سڑک پینتیس روز کی کوششوں کے بعد بحال ہوچکی ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ نوسہری سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے تک یہ سڑک اب بھی بند ہے اور اسے کھولنے کا کام جاری ہے۔

میجر جنرل فاروق نے بتایا کہ ایک لاکھ گرم بستروں اور ہیٹرز کا اضافی اہتمام کیا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہٹیاں کے مقام پر واپڈا کی رہائشی کالونی کو یتیم، معذور اور بیواؤں کے لیے خصوصی مرکز بنایا گیا ہے۔ اس مرکز میں ایک ہزار افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن تاحال دو سو افراد کو وہاں منتقل کیا جاچکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ساڑھے چار سو مفلوج افراد کے لیے حکومت اسلام آباد، مطفرآباد اور مانسہرہ میں خصوصی مراکز قائم کر رہی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چھ ارب دس کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے جس میں سے تاحال چھ ارب چھ کروڑ بیس لاکھ روپے وصول ہوچکے ہیں۔

ان کے مطابق بیرونی ممالک اور عالمی اداروں نے دو ارب چھیالیس کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے اور اس میں سے اب تک صرف اکیس کروڑ بارہ لاکھ ڈالر مل پائے ہیں۔

ریلیف کمشنر نے بتایا کہ اب تک سینتیس لاکھ کمبل اور رضائیاں، ساٹھ ہزار چار سو ٹن سے زیادہ راشن، تین ہزار ٹن سے زیادہ ادویات بھی زلزلہ زدگان میں تقسیم کیے جاچکے ہیں۔

اسی بارے میں
متاثرین اب بھی محروم
17 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد