متاثرین اب بھی محروم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیرونی دنیا کے لیے یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ وادیِ نیلم کے لوگ سڑکوں کے کس قدر محتاج ہیں۔ 206 کلومیٹر لمبا کوہِ ہمالیہ کا یہ علاقہ جس کی آبادی تقریباً 160000 نفوس پر مشتمل ہے، آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد بیرونی دنیا سے بالکل کٹ گیا ہے۔بھاری لینڈ سلائڈ نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ ہیلی کاپٹر کے بغیر مدد پہنچانا ناممکن ہے۔ فوج کے انجینئروں نے ملبہ ہٹا کر ایک رستہ بنایا ہے جس سے صرف جیپیں گزر سکتیں ہی، لیکن بھاری گاڑیاں نہیں گزر سکتیں۔ 13 نومبر کو نیلم کے پہلے بڑے قصبے پٹیکا سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد تک سڑک کو قابلِ استعمال قرار دے دیاگیا۔ لیکن اس اعلان کے سات گھنٹے بعد ہی ایک جیپ دریا میں گر گئی جس سے آٹھ افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہو گئے۔ اگلے روز ایک اور جیپ گرنے سے پانچ افراد ہلاک اور بارہ سے زائد زخمی ہو گئے۔
وادیِ نیلم میں بحالی کے لیے جاری فوجی آپریشن کے انچارج نے مزید ہیلی کاپٹروں کے لیے درخواست بھیجی ہے تاکہ خوراک کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔ 15 نومبر کو امریکی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھاری مقدار میں امداد پہنچائی گئی لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکام کسی طرح بھی ان کی ضروریات نہیں پوری کر سکتے جب تک سڑک نہ کھل جائے۔ سب سے بڑا مسئلہ نوسیری کے قصبے سے آگے ہے، جہاں ماربل کی کانوں والے پہاڑ ٹوٹ گئے ہیں۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ بچی ہوئی ماربل کی دیوار کو کاٹنے کے لیے خصوصی مشینری چاہیے۔ بڑھتی ہوئی سردی کے پیشِ نظر اگلے موسمِ گرما سے قبل اس کام کے شروع ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ پہاڑ کے دوسری جانب اٹھ مقام ہے جہاں سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کو دیکھا جا سکتا ہے۔
زلزلے سے پہلے اٹھ مقام صرف اس وقت خبروں میں آتا تھا جب کشیدگی میں اضافہ ہوتا تھا۔ ایسے موقعوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے سڑک پر چلنا دشوار ہو جاتا تھا اور مقامی لوگ متبادل رستے استعمال کرتے تھے۔ اسی طرح کے ایک متبادل رستے کا نام لیسوا بائی پاس ہے جو زیادہ تر پہاڑی چوٹیوں کے قریب ہے۔ حالیہ زلزلے میں یہ رستہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ نوسیری کے مقام پر مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، کیونکہ لیسوا کی جانب سول انجینئر پتھریلے علاقے میں رستہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مقام پر پہنچنا اس قدر مشکل ہے کہ پچھلے ہفتے روسی ساخت کے دنیا کے سب سے بڑے کارگو ہیلی کاپٹر ایم126 کی ضرورت پڑی، جس سے 15 ٹن وزنی بلڈوزر کو اس علاقے میں پہنچایا گیا۔ فوج کے افسران اسے بہت بڑا کارنامہ قرار دے رہے ہیں۔ روسی پائلٹ بھی پاکستانی ساتھیوں سے متاثر نظر آتے ہیں جو ہر وقت مشکل کام کرنے کو تیار نظر آتے ہیں۔ بہادری کے ان کارناموں کے باوجود، اٹھ مقام تک سڑک کھلنے میں ابھی مزید ایک ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ وزیرِ سیاحت مفتی منیب ان چند حکومتی شخصیات میں سے ہیں جو زلزلے کے بعد اس علاقے میں موجود رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صورت حال بہت مایوس کن ہے۔ انہوں نے بتایا ’علاقے کے 88 میں سے کم از کم 24 گاؤں بالکل رابطے سے باہر ہیں۔ موسمِ سرما آنے سے 40000 لوگ سخت مشکل کا شکار ہیں‘۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر امداد کے لیے کھولے جانے والے پانچ مقامات میں سے ایک اس علاقے میں واقع ہے جسے ٹِتھوال سیکٹر کہا جاتا ہے۔
چند مقامی لوگ مظفر آباد تک خوراک اور امداد لینے کے لیے پیدل گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کراسنگ پوائنٹ تک جانا زیادہ آسان ہے۔ لیکن اس مقام کا کھلنا ابھی تک صرف علامتی ہے۔ گاڑیاں نہیں گزر سکتیں اور امدادی سامان کا لین دین صرف حکام کے درمیان ہو رہا ہے، اور لوگوں کو براہِ راست امداد نہیں دی جا رہی۔ لائن آف کنٹرول کو پار کرنے کے لیے وضع کیے گئے طریقہ کار کے مطابق ہفتوں کا وقت درکار ہے۔ | اسی بارے میں ایک کمرہ بنا کردیں گے: فاروق11 November, 2005 | پاکستان ماحولیاتی تنظیموں کا الرٹ09 November, 2005 | پاکستان ’امدادی آپریشن ممکن لگ رہا ہے‘09 November, 2005 | پاکستان بے رحم سردی آگئی 11 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان مظاہرین پر لاٹھی چارج11 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||