ڈونر کانفرنس ایک امتحان ہے: آکسفیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی خیراتی ادارے آکسفیم نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے زلزلہ زدگان کے لیے اس کی امداد بہت ہی کم ہے اور اس کے نتیجہ میں ہزاروں لوگوں کی زندگی خطرے میں ہے۔ دوسری طرف، ایشیائی ترقیاتی بینک نے آج کہا کہ پاکستان کو زلزلہ زدگان کے لیے کی ہنگامی مدد کے لیے تقریبا پونے دو ارب ڈالر فوری طور پر درکار ہیں۔ بینک کے صدر ہاروہیکو کیوروڈا نے کہا کہ فوری ریلیف جتنی جلد ہوسکے مہیا کیا جائے۔ آکسفیم کا بیان ہفتہ کے روز اسلام آباد میں عطیہ جمع کرنے کے لیے منعقد کی جانے والی عالمی ڈونر کانفرنس سے ایک روز پہلے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان زلزلہ سے متاثرہ کشمیر کے شہر مظفرآباد کا دورہ کررہے ہیں۔ آکسفیم نے اس موقع پر زلزلہ سے متعلق اپنی ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے جس کا عنوان ہے ’ایک پہاڑ کی چڑھائی۔‘ اسلام آباد میں آکسفیم کی انسانی امداد کی رابطہ افسر جین کوکنگ نے جمعہ کو اپنے ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ متاثرہ علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کرے اور عالمی ڈونرز امداد کی درخواست پر مناسب عطیے دیں۔ آکسفیم کا کہنا ہے کہ زلزلہ سے اسی ہزار لوگ ہلاک ہوئے اور پینتیس لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے۔ آکسفیم نے اپنے بیان میں کہا کہ متاثرہ علاقوں میں اقوام متحدہ کا عملہ اور وسائل بہت کم ہیں۔ آکسفیم نے کہا کہ بہت سے ملک اقوام متحدہ کی درخواست پر مناسب عطیات دینے میں ناکام رہے جس سے زلزلہ سے بچ جانے والے ہزاروں لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
آکسفیم نے دنیا بھر کے مختلف ملکوں سے اسلام آباد میں جمع ہونے والے نمائندوں سے کہا کہ ان کا ردعمل مربوط ہونا چاہیے تاکہ زلزلہ متاثرین کی آوازیں سنی جاسکیں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کیاجاسکے۔ آکسفیم کا کہنا ہے کہ صرف اسی صورت میں اس سانحہ کو بے بسی اور تباہی سے تعمیر کے ایک موقع میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ آکسفیم کا کہنا ہے کہ اگر زندگیاں بچانی ہیں تو ریلیف کی کارروائیوں میں ڈرامائی اضافہ کرنا ہوگا اور عالمی ڈونر کانفرنس اس عہد کا ایک امتحان ہوگی۔ آکسفیم کی کوآرڈینیٹر جین کوکنگ نے کہا کہ ان مقاصد کے لیے اگر سیاسی ارادہ موجود ہو تو زلزلہ زدگان کی مؤثر مدد اور تعمیر نو ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو صرف ریلیف کی کوششوں میں ہی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ تعمیر نو میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ آکسفیم کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں سے لاکھوں ایسے لوگوں کو غربت سے نکالا جاسکتا ہے جو زلزلہ سے پہلے بھی صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولتوں سے محروم تھے۔ جین کوکنگ نے کہا کہ ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ کانفرنس محض گپ شپ کی ایک مجلس نہ ہو بلکہ سِول سوسائٹی کو بااختیار بنانے اور دیرپا تبدیلی کے عمل کے لیے ایک حقیقی موقع فراہم کرے۔‘ منیلا سے کام کرنے والے ایشیائی ترقیاتی بینک نے اب تک پاکستان کو زلزلہ زدگان کے لیے چار سو پانچ ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے اور یبنک کے صدر نے عندیہ دیا ہے کہ بنک ڈونر کانفرنس میں اس رقم میں اضافہ کرے گا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے بجٹ پر زلزلہ سے پڑنے والے اثرات کو دور کرنے کے لیے بھی الگ سے ایک سو پانچ ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے زلزلہ زدگان اور متاثرہ علاقوں کی فوری مدد، بحالی اور تعمیر نو کے لیے درکار رقم کا تخمینہ تقریبا سوا پانچ ارب ڈالر لگایا ہے جن میں سے ساڑھے تین ارب ڈالر تباہ شدہ سڑکوں اور رسل و رسائل اور دوسری عوامی سہولتوں کی بحالی کے لیے درکار ہوں گے۔ | اسی بارے میں دنیا فراخ دلی کا مظاہرہ کرے: عنان17 November, 2005 | پاکستان ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ18 November, 2005 | پاکستان زلزلہ، سردی: مزید ہلاکتوں کا خدشہ 14 November, 2005 | پاکستان بارش: زلزلے کے متاثرین مشکل میں11 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||