BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 November, 2005, 22:56 GMT 03:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعمیرِنو: امدادی رقم میں اضافہ
متاثرین نے حکومت کی طرف سے اعلان کردہ پچیس افراد کی رقم کو ناکافی قرار دیا تھا
حکومت نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مکانوں کی تعمیر کے لیے امدادی رقم پچیس ہزار سے بڑھا کر پونے دو لاکھ کرنے کافیصلہ کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مکانوں کی تعمیر کے لیے امدادی رقم بڑھانے کا فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ یہ اضافہ اجلاس میں شریک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات اور سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم درانی کی درخواست پر کیا گیا۔

انہوں نے تباہ شدہ مکانوں کی تعمیر کے لیے مختص رقم کو 20 ارب روپے سے بڑھا کر 80 ارب روپے کرنے کی درخواست کی تھی۔

میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جن لوگوں کے مکانات زلزلے میں تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا ہے انہیں مکانوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے پہلے ہی پچیس ہزار روپے دیئے جا چکے ہیں انہیں اس مقصد کے لیے مزید ایک لاکھ پچیس ہزار روپے دیئے جائیں گے۔

’جب کوئی متاثرہ فرد اپنے مکان کی تعمیر مکمل کر لے گا تو اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا یہ مکان حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات اور قواعدو ضوابط پر پورے اترتے ہیں یا نہیں اور اگر یہ مکان زلزلے کے مزاحم ہونے کے معیار پر پورے اترے تو متاثرہ فرد کو مزید پچیس ہزار روپے ادا کیے جائیں گے۔‘

میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ زیادہ تر متاثرہ افراد کو پچیس ہزار کی رقم پہلے ہی ادا کی جا چکی ہے جبکہ باقیوں کو یہ رقم ادا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کو ایک لاکھ پچیس ہزار روپے کی امداد رقم متاثرہ مکانوں کے اعدادوشمار جمع ہونے کے بعد ادا کی جائے گی۔

جنرل شوکت سلطان کے مطابق یہ رقم قسطوں کے بجائے یکمشت دی جائے گی تاکہ متاثرہ افراد جلد از جلد اپنے مکانوں کی تعمیر مکمل کر سکیں۔

66اب تک کی کوریج
پاکستان اور کشمیر میں زلزلے سے تباہی
66خصوصی تصاویر
مظفرآباد : زلزلے سے پہلے اور بعد
66موت سے شروع۔۔۔
موت پر ختم: مظفرآباد سے عامر احمد خان کی رپورٹ
66’میں وہاں نہ تھا۔۔‘
باغ کا ایک ٹیچر سکول ڈھونڈتا ہے
66سردی اور بھوک
وادی نیلم میں خوراک پہنچانے میں مشکلات
اسی بارے میں
’ایک نسل ختم ہو گئی‘
10 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد