تعمیرِنو: امدادی رقم میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مکانوں کی تعمیر کے لیے امدادی رقم پچیس ہزار سے بڑھا کر پونے دو لاکھ کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مکانوں کی تعمیر کے لیے امدادی رقم بڑھانے کا فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ یہ اضافہ اجلاس میں شریک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات اور سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم درانی کی درخواست پر کیا گیا۔ انہوں نے تباہ شدہ مکانوں کی تعمیر کے لیے مختص رقم کو 20 ارب روپے سے بڑھا کر 80 ارب روپے کرنے کی درخواست کی تھی۔ میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جن لوگوں کے مکانات زلزلے میں تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا ہے انہیں مکانوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے پہلے ہی پچیس ہزار روپے دیئے جا چکے ہیں انہیں اس مقصد کے لیے مزید ایک لاکھ پچیس ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ ’جب کوئی متاثرہ فرد اپنے مکان کی تعمیر مکمل کر لے گا تو اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا یہ مکان حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات اور قواعدو ضوابط پر پورے اترتے ہیں یا نہیں اور اگر یہ مکان زلزلے کے مزاحم ہونے کے معیار پر پورے اترے تو متاثرہ فرد کو مزید پچیس ہزار روپے ادا کیے جائیں گے۔‘ میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ زیادہ تر متاثرہ افراد کو پچیس ہزار کی رقم پہلے ہی ادا کی جا چکی ہے جبکہ باقیوں کو یہ رقم ادا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کو ایک لاکھ پچیس ہزار روپے کی امداد رقم متاثرہ مکانوں کے اعدادوشمار جمع ہونے کے بعد ادا کی جائے گی۔ جنرل شوکت سلطان کے مطابق یہ رقم قسطوں کے بجائے یکمشت دی جائے گی تاکہ متاثرہ افراد جلد از جلد اپنے مکانوں کی تعمیر مکمل کر سکیں۔ |
اسی بارے میں ’پانچ ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی‘15 October, 2005 | پاکستان نیلم، جہلم تک رسائی نہیں ہوئی13 October, 2005 | پاکستان امداد پہنچ گئی، تقسیم کا مسئلہ12 October, 2005 | پاکستان ’ایک نسل ختم ہو گئی‘10 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||