وادی نیلم میں خوراک کی قِلّت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وادی نیلم کے باسی ملک ولایت نے کہا کہ ’یہاں خوراک تقسیم کرنے کی ذمہ داری میجر شکیل کی ہے‘۔ ’وہ ایک اچھا آدمی ہے، ہر ایک کو خوراک کی فراہمی یقینی بناتا ہے‘۔ ’جی ہاں‘ قریب بیٹھے ہوئے ایک شخص نے طنزیہ انداز میں کہا۔ ’مجھے آٹھ روز پہلے تھوڑا سا راشن دیا گیا تھا اور اس کے بعد اب تک کچھ نہیں ملا‘۔ پاکستان کے شمال میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے چھ ہفتے کے بعد وادی نیلم میں خوراک کی فراہمی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ مظفر آباد سے وادی نیلم کے راستے پر پہلی رکاوٹ سے آگے کے علاقوں میں تازہ خوراک حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ یہاں کھانے کے لیے فوجی امدادی مراکز سے ملنے والے خشک راشن پر ہی انحصار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن زلزلے کے بعد امداد میں کمی کے باعث اس راشن میں بھی کمی آ گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے کے بعد پہلے پانچ روز میں نجی اداروں اور لوگوں کی طرف سے متاثرہ علاقوں میں سات سو ٹن خوراک پہنچائی گئی تھی۔ عالمی اداروں نے تین سو تیس ٹن امداد پہنچائی تھی۔ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران بیس ٹن امداد پہنچی ہے۔ اعلیٰ سرکاری حکام کے مطابق ان کے وسائل انتہائی محدود ہیں اور انہیں ریڈ کراس اور خوراک کے عالمی پروگرام مدد چاہیے۔ یہ دونوں ادارے اب وادی نیلم میں پہنچ چکے ہیں اور صورتحال میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے، لیکن کس حد تک؟
اگر ایک شخص کی ماہانہ خوراک کی ضروریات کا اندازہ ساڑھے بارہ کلوگرام لگایا جائے تو ایک ماہ کی کل ضرورت دو ہزار ٹن ہوئی۔ اس طرح موسم سرما کے دوران زیریں وادی نیلم میں دس ہزار ٹن خوراک کی ضرورت ہے۔ اب ان ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اس علاقے میں خوراک پہنچانے کے وسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ سارا کام اس وقت امریکی اور برطانوی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ دو روسی ہیلی کاپٹر بھی امدادی کام میں شریک ہیں اور ایک وقت میں بیس ٹن وزن لے جا سکتے ہیں۔ امریکی ہیلی کاپٹر ایک وقت میں پندرہ ٹن وزن اٹھا سکتا ہے لیکن اس کی موسم کی خرابی اور پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے کی صلاحیت میں فرق پڑ رہا ہے۔ اس بات کے مد نظر کے وادی نیلم میں پچیس ہزار گھروں میں سے تقریباً تئییس ہزار تباہ ہو گئے ہیں ان ہیلی کاپٹروں کو متاثرہ علاقوں میں خوراک کے علاوہ بھی سامان لے کر جانا ہوتا ہے۔ سڑکوں کے ٹوٹ جانے کے باعث وادی میں قائم امدادی مراکز سے دیہات تک سامان پہنچانا بھی ایک مشکل کام ہے۔ اسلام آباد اور مظفرآباد میں حکام کا بعض اوقات متاثرہ علاقوں کی ضروریات نہیں سمجھ پاتے اور غیر ضروری اشیا وہاں پہنچ جاتی ہیں۔ اسی طرح ایک کھیپ سے خواتین کے زیر جامے برآمد ہوئے۔ نوجوان فوجی افسر اب بھی اس واقعے کو یاد کر کے محضوض ہوتے ہیں۔ انہوں نے پورا دن لگا کر قریبی دیہات کی خواتین کو یہ سامان دیا جنہوں نے پھر اسے آگے تقسیم کیا۔ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے حکام کہتے ہیں کہ انہیں سامان کھولنے تک معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں کیا ہے۔ ایک موقع پر لوگوں نے امداد میں ملنے والا گوشت واپس کر دیا حالانکہ اس پر حلال لکھا ہوتا کیونکہ وہ امریکہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ ان تمام محرکات کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وادی نیلم کے باسیوں کو سردیوں کے موسم کے دوران شاید ان کی ضرورت کے مطابق خوراک نے پہنچے۔ وادی میں فوج کے اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ’ یہ ہمارے لیے انتہائی مشکل صورتحال ہے‘۔ ’وقت گزرنے کے ساتھ یہ ہمارے اور مقامی لوگوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بنے گی جن کے نفسیاتی اور جسمانی زخم اب تک نہیں بھرے‘۔ | اسی بارے میں متاثرین اب بھی محروم17 November, 2005 | پاکستان ’650 متاثرین کے اعضاء کاٹے گئے‘18 November, 2005 | پاکستان بی بی سی رپورٹرز ڈائری10 October, 2005 | پاکستان ’خدا کے واسطے خیمے لاؤ‘12 October, 2005 | پاکستان ’امداد مستحق افراد کو نہیں مل رہی‘29 October, 2005 | پاکستان سیاسی جماعتوں کے عید کارواں03 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||