نیلم وادی کے لوگ ناراض ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی طرف سے ضلع نیلم یا وادی نیلم کے صرف آٹھ گاؤں کو آفت زدہ قرار دیے جانے پر وہاں کے لوگ شدید رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں اور انھوں نے مطالبہ کیا کہ پورے ضلع نیلم کو متاثرہ اور آفت زدہ علاقہ قرار دیا جائے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد تین اضلاع مظفرآباد، باغ اور پونچھ کو آفت زدہ قرار دیا تھا لیکن وادی نیلم کے صرف آٹھ گاؤں کو آفت زدہ علاقے قرار دیا مگر اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ البتہ حکومت کی طرف سے دیے گئے اعداد شمار کے مطابق وادی نیلم میں دوسری تین متاثرہ ضلعوں کے نسبت کم مالی اور جانی نقصان ہوا ہے۔ حکومت کے مطابق وادی نیلم میں لگ بھگ گیارہ ہزار گھر یا تو تباہ ہوئے ہیں یا ان کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی پانچ سو افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں لیکن وادی نیلم کے اہم سیاسی رہنما میاں عبدالوحید کا کہنا ہے کہ مالی نقصانات حکومت کے اندازوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ میاں وحید بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے کشمیر کے اس علاقے کی شاخ کے مرکزی نائب صدر ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزے کے باعث ضلع نیلم کی نو یونین کونسلز اور ایک میونسپل کمیٹی شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان یونین کونسلز کے ساٹھ سے ستر گاؤں میں شدید نقصان ہوا ہے اور یہ کہ جانی نقصان کے ساتھ ساتھ لوگوں کا بے پناہ مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پانچ ہزار مکانات مکمل تباہ ہو چکے ہیں جبکہ پندرہ ہزار مکانات ناقابل رہائش ہوچکے ہیں۔ میاں وحید کا کہنا ہے وادی نیلم کے ڈیڑھ لاکھ آبادی میں سے ایک لاکھ کی آبادی کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وسیع پیمانے پر تباہی کے باوجود پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے اس علاقے کے صرف آٹھ گاؤں کو آفت زدہ قرار دیا ہے جو وہاں کے لوگوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے اور ہمیں حکومت کا یہ فیصلہ کسی بھی اعتبار سے قبول نہیں انھوں نے وادی نیلم کی ڈیرھ لاکھ عوام حکومت سے مطالبہ کررہی ہے کہ وہ پورے ضلع نیلم کو آفت زدہ قرار دے کر عوام کو سہولیات فراہم کرے۔ میاں وحید نے کہا کہ اگر حکومت نے پورے ضلع نیلم کو آفت زدہ قرار دے کر عوام کو مراعات فراہم نہ کی تو وہ اپنا مطالبہ منوانے کے لیے جتنے بھی جائز ذرائع ہیں ان کا استعمال کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر پھر بھی ہماری بات کو نہ سنا گیا اور ہماری طرف دھیان نہ دیا گیا تو پھر ضلع نیلم کے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کے پاس ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ ہم اپنے حق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔ جب کشمیر کے اس علاقے سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کے مشیر راجہ فاروق حیدر سے حکومت کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ وادی نیلم کے لوگوں کی طرف سے پورے ضلع کو آفت زدہ قرار دینے کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے اگلے چند روز میں حکومت اس پر کوئی فیصل کرے گی۔ وادی نیلم کے سیاسی رہنما میاں عبدالوحید نے مزید کہا کہ گذشتہ دو روز سے وادی نیلم کی سڑک کھل گئی ہے لیکن فی الوقت اس سڑک پر جیپیں ہی چل سکتی ہے اور ان کے ذریعے محدود پیمانے پر علاقے میں اشیائے خورد و نوش پہنچ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیپوں کے کرائے میں بے پناہ اضافے کے باعث اشیائے خورد و نوش کی قیمیتں بہت بڑھ گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زلزے کے باعث علاقے میں کاروبار ختم ہو کر رہ گیا ہے جس کے باعث لوگوں میں قوت خرید نہیں رہی ہے۔ انھوں نے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وادی نیلم کے لوگوں کے لیے سستی قیمتوں پر اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ | اسی بارے میں ’آر پار جانے کےاحکامات نہیں‘12 November, 2005 | پاکستان ایک ماہ میں، میں نے کیا دیکھا؟08 November, 2005 | پاکستان مظفرآباد:جراثیم کُش سپرے، مسلح پہرے 17 October, 2005 | پاکستان والدین مرگئے، سر پر چھت نہیں14 October, 2005 | پاکستان بے گھروں کے لیے خیمہ شہر 14 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||