’آر پار جانے کےاحکامات نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں نوسہری کے مقام پر پاکستانی فوجی کے ایک بریگیڈئیر نےاخبار نویسوں کو بتایا کہ انہیں ابھی تک اس مقام سے کشمیروں کو آرپار جانے کی اجازت دینے کے بارے کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ہفتے کو نوسہری ٹتھوال کے سیکٹر میں لآئن آف کنٹرول کھول کر پاکستان اور بھارت کے فوجی حکام نے امدای سامان کا تبادلہ کیا لیکن تا حال کسی کشمیری کوعارضی طو پر بنائے گئے پل کے آر پار جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ بریگیڈئیر اشرف تبسم نے کہا کہ دریاے نیلم پر جسے لائن آف کنٹرول کے پار کشن گنگا کہاجاتا ہے دو سو میٹر لمبا اور چند فٹ چوڑا پل پاکستان فوج نے تیار کیا ہے۔ اس مقام پر نوسہری کے ڈپٹی کمشنر راجہ طارق نے کہا کہ جو کشمیری اس مقام سے لائن آف کنٹرول کے پار جانا چاہتے ہیں ان سے درخواستیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں اور یہ کام دو نومبر سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا اب تک ایک سو تیس افراد نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے کے لیے فارم حاصل کیے ہیں جبکہ ایک بیس افراد نے ان کو مکمل کرکے جمع کرا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مقامات کی طرح اس مقام سے بھی کشمیری پرمٹ حاصل کرکے آر پار جا سکیں گے اور ان کو پندرہ دن کا پرمٹ جاری کیا جائے گا۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نوسہری نیلم وادی میں واقع ہے جس کا سڑک کے ذریعے ملکوں کے دوسرے حصوں سے رابط اب تک منقطع ہے۔ حکام کے مطابق مظفر آباد سے نوسہری تک پینتالیس کلو میٹر لمبی سڑک کا راستہ بحال کرنے میں ابھی دو سے تین ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ اس علاقے میں زلزلے کی وجہ سے زبردست لینڈ سلائڈنگ ہوئی ہے اور کئی جگہوں پر پہاڑی تودے گرنے سے سڑک بند ہو گئی ہے۔ نوسہری-ٹتھوال سیکٹر دس نومبر کو کھولا جانا تھا مگر پاکستان کے حکام کے مطابق بھارتی حکام کی طرف سے اس پوائنٹ کو کھولے جانے کی تیاری مکمل نہ ہونے کے سبب اس پوائنٹ کو کھولنے میں تاخیر ہوئی ہے۔ وادی نیلم کے فوجی حکام کے مطابق اس وادی میں ابتک چھ ہزار سات سو نو افراد زلزلے سے مارے گئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد تیرہ ہزار سے زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ نقصان اس وادی کے علاقے پتیکہ میں ہوا ہے جہاں ڈھائی ہزار سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔ پٹیکہ میں قائم فوجی کیمپ بھی زلزلے سے تباہ ہو گیا تھا۔ ان کراسنگ پوائنٹ کے علاوہ لائن آف کنٹرول تتہ پانی-مینڈھر سیکٹر اور حاجی پیر-اڑی سیکٹر سے بھی کھولی جانی ہے۔ | اسی بارے میں ایل او سی:سخت حفاظتی انتظامات06 November, 2005 | پاکستان کنٹرول لائن، لوگوں کا غصہ07 November, 2005 | پاکستان ایل او سی کھل گئی مگر09 November, 2005 | پاکستان امداد کا تبادلہ، لوگ اب بھی منتظر12 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||