BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 November, 2005, 08:00 GMT 13:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایل او سی کھل گئی مگر

 ایل او سی کراسنگ پرمٹ
ایک شخص ایل او سی کراسنگ پرمٹ دکھا رہا ہے
چکوٹھی-اُڑی سیکٹر میں کنٹرول لائن پر دوسرا کراسنگ پوائنٹ بھی کھول دیا گیا ہے۔

کمان پوسٹ پر واقع یہ راستہ پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ اس علاقے میں امداد کی فراہمی کے لیے کھولا گیا ہے جہاں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے رسائی زیادہ آسان ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ کراسنگ پوائنٹ دوپہر ساڑھے بارہ بجے کھولا گیا اور اس موقع پر صحافیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

کراسنگ پوائنٹ پر ان کشمیریوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے ایل او سی عبور کرنا چاہتے ہیں تاہم پاکستان کی جانب سے ابھی تک کسی کشمیری کو لائن آف کنٹرول پار کرنے کا اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے عام لوگوں کے کنٹرول لائن کے پار جانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں تاہم بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے تیاریاں مکمل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ابھی انتظار کرنا ہوگا۔

ایل او سی پر پاکستانی خوارک کے تھیلے اٹھائے لا رہے ہیں

کمان پوسٹ پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پہلے کراسنگ پوائنٹ کے افتتاح کے برعکس اڑی کا راستہ کھلنے پر کسی خاص قسم کی گہماگہمی نہیں دکھائی دی۔

کراسنگ پوائنٹ کھلنے کی تقریب میں فوجی اور حکومتی افسران شریک ہوئے۔ ان افسران نے ایل او سی پر ملاقات کی اور مصافحہ کیا۔ جس کے بعد رضاکاروں نے امدادی سامان کی منتقلی شروع کر دی۔

 پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے عام لوگوں کے کنٹرول لائن کے پار جانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں تاہم بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے تیاریاں مکمل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ابھی انتظار کرنا ہوگا۔

یہ سامان جس میں خیمے، چاول اور ادویات بھی شامل تھیں پاکستان کے زیرِ انتظام شمیر منتقل کیا گیا۔ ایل او سی پر بھارت کی جانب سے ایک طبٹی کیمپ بھی لگایا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جاوید سومرو کے مطابق ایک پاکستانی فوجی افسر کا کہنا ہے اب تک نو ہزار افراد کی فہرست تیار کی گئی ہے جو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر جانا چاہتے ہیں تاہم بھارت کی جانب سے گرین سگنل نہ ملنے پر فی الحال وہ نہیں جا سکتے۔

کمان پوسٹ کےکراسنگ پوائنٹ سے مظفرآباد۔ سری نگر بس سروس کے مسافر بھی لائن آف کنٹرول پار کرتے ہیں مگر زلزلے کی وجہ سے اس پوائنٹ پر بنایا گیا دوستی پل گر گیا تھا اور اب وہاں ایک عارضی پل بنایا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کو چکوٹھی سے ملانے والی سڑک بھی زلزلے کے باعث بند ہو گئی تھی اور اسے دو روز قبل ہی کھولا گیا ہے۔ تاہم چکوٹھی سے دوستی پل تک جانے والی سڑک کا دو کلومیٹر سے زائد حصہ ابھی تک لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہے۔

اس سے قبل پیر کو پہلا کراسنگ پوائنٹ کھلنے کے موقع پر ایل او سی پر پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی جانب کشمیریوں اور پولیس کے درمیان کنٹرول لائن عبور کرنے کی اجازت نہ ملنے پر تکرار ہوئی تھی جس کے بعد پولیس نے ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کے گولے پھینک کر ان افراد کو منتشر کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
کنٹرول لائن، لوگوں کا غصہ
07 November, 2005 | پاکستان
وہاں بڑی بے بسی ہے
06 November, 2005 | انڈیا
ابھی صرف ایک جگہ سے
05 November, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد