BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد کا تبادلہ، لوگ اب بھی منتظر

ایل او سی پر چکوٹھی کے مقام پر دوسرا پوائنٹ بدھ کے روز کھولا گیا
پاکستان اور بھارت نے ہفتے کو لائن آف کنٹرول پر نوسہری ٹتھوال سیکٹر میں تیسرا کراسنگ پوائنٹ بھی کھول دیا ہے لیکن اس مقام سے بھی لوگوں کو سرحد کے آر پار جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

پاکستان کی جانب سے فوجی اور حکومتی افسران نے کپڑوں اورکمبلوں کے درجنوں بیگ بھارتی سرکاری افسران کے حوالے کیے جبکہ بھارت کی طرف سے سیکڑوں بیگ وصول کیے جن میں چاول اور ادویات تھیں۔

جب دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان امدادی سامان کا تبادلہ ہو رہا تھا اس وقت بھی کراسنگ پوائنٹ کے ارد گرد کی پہاڑیوں پردونوں اطراف کے کشمیری شہری صرف ایک دوسرے کو دور سے دیکھ کر ہاتھ ہلا سکتے تھے۔

’ مجھے تو اس میں کوئی منطق نہیں سمجھ آتی کہ ہمیں ایک دوسرے سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ میری خواہش تھی کہ آج میں سرحد عبور کر سکوں اور دوسری جانب آئے ہوئے اپنے عزیزوں سے مل سکوں‘ ٹتھوال کے رہائشی عبدالقدیر نے کہا۔ عبدالقدیر نے بتایا کہ زلزلے کے بعد سے انہیں اپنے بھائی اور ان کے بچوں کی کوئی خبر نہیں جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں رہتے ہیں۔

اس سے قبل بدھ کو چکوٹھی اڑی سیکٹر اور پیر کو راولاکوٹ پونچھ سیکٹر میں تتی نوٹ کے مقام پر کراسنگ پوائنٹ کھولے گئے تھے۔ تاہم ابھی تک لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سے کسی کشمیری نے یہ لائن عبور نہیں کی ہے اور ابھی تک صرف امدادی سامان ہی پار کیا گیا ہے۔

لائن آف کنٹرول پر موجود بھارتی فوج کے برگیڈئر ایس ایس جوگ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ آج سرحد کے آر پار کوئی نقل و حرکت نہیں ہوگی تاہم درخواستوں کی باقاعدہ چھان بین کے بعد دونوں اطراف کے لوگ لائن آف کنٹرول کے آر پار جا سکیں گے۔‘

پاکستان کی جانب سے ابھی تک کسی کشمیری کو لائن آف کنٹرول پار کرنے کا اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

نوسہری ٹتھوال سیکٹر دس نومبر کو کھولا جانا تھا مگر پاکستان کے حکام کے مطابق بھارتی حکام کی طرف سے اس پوائنٹ کو کھولے جانے کی تیاری مکمل نہ ہونے کے سبب اس پوائنٹ کو کھولنے میں تاخیر ہوئی ہے۔

دونوں ممالک کے حکام نے گزشتہ ماہ کی انتیس تاریخ کو زلزلے سے متاثرہ منقسم کشمیری خاندانوں کو ملانے اور ان تک امدادی سامان پہنچانے کے لئے لائن آف کنٹرول کو پانچ مقامات سے کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔

نوسہری-ٹتھوال سیکٹر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں واقع ہے جس کا رابطہ کشمیر کے دوسرے شہروں سے ابھی تک کٹا ہوا ہے۔مطفرآباد سے وادی نیلم کو جانے والی سڑک زلزلے سے بری طرح تباہ ہو گئی ہے اور ابھی اس وادی کو مظفرآباد سے ملانے کے لئے
کئی ماہ درکار ہوں گے۔

وادی نیلم کے فوجی حکام کے مطابق اس وادی میں ابتک چھ ہزار سات سو نو افراد زلزلے سے مارے گئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد یعرہ ہزار سے اوپر ہے۔ سب سے زیادہ نقصان اس وادی کے علاقے پتیکہ میں ہوا ہے کہاں ڈھائی ہزار سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔ پٹیکہ میں قائم فوجی کیمپ بھی زلزلے سے تباہ ہو گیا تھا۔

ان کراسنگ پوائنٹ کے علاوہ لائن آف کنٹرول تتہ پانی مینڈھر سیکٹر اور حاجی پیراڑی سیکٹر سے بھی کھولی جانی ہے۔

66’فلاپ ڈرامہ؟‘
ایل او سی کھولنے سے فائدہ کیا ہوا؟
66مشینیں ہوتیں تو
ملبہ ہٹایا جاتا تو کئی اموات نہ ہوتیں
66خیمے اور سردی
کشمیر کی سردی میں لوگوں کا برا حال ہے
66’زمین پھٹنے لگی۔۔۔‘
’ آٹھ اکتوبر کا منظر میں کبھی نہیں بھولوں گا‘
66’سہیلی یاد آتی ہے‘
زلزلے سے متاثرہ بچوں کی کہانیاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد