ایل او سی کا ’فلاپ ڈرامہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر کمان پوسٹ کی راہداری کھولنے کا جو اعلان کیاتھا اسے بہت سے مبصرین اب محض ’ایک فلاپ ڈرامہ‘ ثابت ہوا ہے۔ دونوں حکومتیں اب تک یہ کہتیں رہیں کہ زلزلے سے متاثرہ کشمریوں کو راحت پہنچانے کی غرض سے لائن آف کنٹرول کو کئی مقامات پر کھولا جائےگا لیکن اب تک امدادی سامان کے تبادلے کے لئے راہداری کو صرف دو مقامات پر ہی کھولا گیا ہے۔ نو نومبرکو کمان پوسٹ پر کافی تعداد میں عالمی اور قومی ذرائع ابلاغ سے وابستہ صحافی جمع کئے گئے تھے اور سمجھا جارہا تھا کہ پرگرام کے مطابق دونوں اطراف سے بس سروس کے مسافروں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو بھی سرحد پار کرنے کی اجازت ہوگی لیکن نہ تو کہیں بس کا نام ونشان تھا اور نہ مسافروں کو اسلام آباد سے آگے بڑھنے کی اجازت تھی۔ مبصرین کے مطابق فوجی حکام نے سول انتظامیہ کا لبادہ اوڑھ کر جس ہوشیاری سے اس ڈرامے کو رچانے کی کوشش کی اس سے دونوں حکومتوں کی سیاسی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہواہے۔ بھارت کے فوجی حکام نے میڈیا والوں کے غصے کو فوراً بھانپ کر انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی مگر سرحد پار حکام اتنے گھبرائے ہوئے تھے کہ انہوں نے چند منٹ کے بعد ہی صحافیوں کو وہاں سے بھگایا۔ حالانکہ دونوں حکومتوں کے ارادے ایک جیسے تھے البتہ بھارت نے یہاں بھی ہوشیاری کا مظاہرہ کرکے صحافیوں کو ناراض ہونےکا موقعہ نہیں دیا۔ کمان پل کے قریب مقامی لوگ انتہائی افسردہ اور جذباتی تھے جو سرحد پار سے آنے والوں کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے تھے مگر انہیں پوسٹ تک آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسلام آباد کے بزرگ عبدل جبار نے کہا ’میں سرطان کا مریض ہوں مرنے سے پہلے اپنی دو بہنوں کو دیکھنا چاہتا تھا مگر گزشتہ تین ماہ سے دفتروں کے چکر لگارہا ہوں۔ اب مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ بار بار سرینگر جاکر دھکے کھاؤں۔‘ مبصرین یہ سثوال اٹھا رہے ہیں کہ نہ جانے کس مصلحت کے تحت لائن آف کنٹرول کو کھولنے کا اعلان کیا گیااصل میں دونوں ملک کسی اور مسلے سے دنیا کی توجہ ہٹانے چاہتے تھے اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ صحافیوں نے کمان پوسٹ پر ایک دوسرے سے بات کرنا چاہی لیکن فوجی حکام نے انہیں بھی اشاروں کنایوں میں بات کرنے کا مشورہ دیا حالانکہ دونوں کے بیچ میں صرف چار یا پانچ گز کا فاصلہ تھا۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں حکومتوں نے کمان پوسٹ پر مشترکہ طور پر جو ڈرامہ رچایا اس کے مصنف بہت کمزور ثابت ہوئے کیونکہ ڈرامہ شروع ہوتے ہی اس کا اینٹی کلائمیکس ہوگیا۔ | اسی بارے میں ایل او سی کھلنے میں مزید تاخیر 09 November, 2005 | انڈیا کنٹرول لائن، لوگوں کا غصہ07 November, 2005 | پاکستان لائن آف کنٹرول ، لوگوں کا غصہ، ہوائی فائرنگ07 November, 2005 | انڈیا وہاں بڑی بے بسی ہے06 November, 2005 | انڈیا ایل او سی:سخت حفاظتی انتظامات06 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||