BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 November, 2005, 05:30 GMT 10:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لائن آف کنٹرول ، لوگوں کا غصہ، ہوائی فائرنگ

ٹٹری ناٹ کے مقام پر پاک فوجی امن کا سفید پرچم بھارتی فوجی کے حوالے کرتے ہوئے
ٹٹری ناٹ کے مقام پر پاک فوجی امن کا سفید پرچم بھارتی فوجی کے حوالے کرتے ہوئے
کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن پونچھ راولاکوٹ سیکٹر میں آج سات نومبر کو کھول دی گئی ہے تاکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور بھارت کے زیر انتظام زلزلے کے متاثرین کے لئے امداد پہنچائی جاسکے۔

ٹٹری ناٹ سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار مبشر زیدی نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے کشمیریوں کو لائن آف کنٹرول کے نزدیک جانے سے روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی ہے اور آنسوگیس کے درجنوں گولے پھینکے ہیں۔

پاکستان کے ایک فوجی کمانڈر نے اخبار نویسوں کو بتایا ہے۔ کہ لوگوں کو لائن آف کنٹرول کے قریب جانے سے اس لیے روکا گیا ہے کہ علاقے میں بارودی سرنگیں بجھی ہوئی ہیں اور لوگوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

لوگوں نے پولیس کی فائرنگ اور آنسو گیس پھینکے جانے پر غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔

بی بی سی ارود کے نامہ نگار علی حسن نے لائن آف کنٹرول سے اطلاع دی ہے کہ پاکستان کے فوجی حکام نے بتایا ہے کہ عام لوگوں کے لائن آف کنٹرول کو عبور کے لیے دس دن بھی لگ سکتے ہیں کیونکہ ابھی تک آر پار جانے کے خواہمشند لوگوں کی فہرستوں کا تبادلہ نہیں ہوا ہے۔

فہرستوں کا تبادلہ کے بعد ان افراد کی شناخت کا مرحلہ ہوتا جس پر کچھ وقت لگے گا۔

کنٹرول لائن پر بھارت اور پاکستان کی جانب کی امدادی سامان اتارا جا رہا ہے۔ وہاں پاکستان اور بھارت سے آئے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن مقامی لوگوں کو اس مقام پر نہیں آنے دیا گیا اور کئی فرلانگ دور لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

اس تاریخ ساز موقع پر ایک پاکستانی فوجی افسر نے امن کا ایک سفید پرچم ایک ہندوستانی فوجی کے حوالے کیا۔ ٹٹری ناٹ کے مقام پر پاکستانی جانب سے بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار علی حسن نے دوسری جانب موجود بی بی سی اردو سروس کے صحافی شکیل اختر سے ہاتھ ملایا۔

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پونچھ کے پاس فوجی پوسٹ کے قریب موجود بی بی سی اردو سروِس کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق امدادی سامانوں سے لدے ہوئے تیرہ ٹرک پہلے سے ہی کنٹرول لائن پار کرنے کے لئے تیار تھے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق پونچھ کے قریب بسے ہوئے کنٹرول لائن سے تقسیم ہونے والے خاندانوں میں اس مایوسی کے باوجود کے لوگ فوری طور پر دوسری جانب اپنے خاندانوں سے نہیں مل سکیں گے ، ایک پرامید فضا دیکھی گئی ہے۔ کنٹرول لائن کے پاس بسے لوگوں میں امید ہے کہ آنیوالے دنوں میں وہ دوسری جانب اپنوں سے مل سکیں گے۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق ’کوئی یہ شکایت کرتا ہوا نہیں ملتا کہ اس (تاخیر) سے کسی کو کوئی پریشانی ہو، ہر شخص یہ کہتا ہوا پھر رہا ہے کہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ کم از کم یہ راستے کھل رہے ہیں۔‘

مقامی لوگوں کی جانب سے کنٹرول لائن کھلنے کی خوشی میں پوسٹر چسپاں دیکھے گئے۔ ایک ایسے ہی پوسٹر پر ہمارے نامہ نگار کو یہ شعر پڑھنے کو ملا:

تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انسان ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے گزشتہ ہفتے لائن آف کنٹرول پانچ مقامات پر کھولنے کے لئے اتفاق کیا تھا اور یہ بات طے پائی تھی کہ سات نومبر کو یہ لائن تین جگہوں پر کھلے گی۔ تاہم ہندوستان کی حکومت نے کہا ہے کہ باقی چار مقامات پر بھی کنٹرول لائن اسی ماہ کھل جائے گی۔

امدادی سامان لیے ہوئے ٹرک ہندوستان کے آخری فوجی پوسٹ سے سات سو گز کی دوری پر پاکستان کے ساتھ ایک طے شدہ مقام پر پہنچیں گے جہاں یہ امداد پاکستانی ٹرکوں میں منتقل کردی جائے گی۔ ہندوستان اور پاکستان کی افواج نے امداد کی منتقلی کے لئے ساری تیاریاں مکمل کرلی تھیں۔

بریگیڈیئر اے کے بخشی نے بتایا کہ امدادی سامان لیے ہوئے ٹرک روزانہ دوسری جانب امداد پہنچاتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیموں، کپڑوں، چاول، چینی اور ادویات سمیت یہ امدادی سامان ہندوستان کی حکومت کی جانب سے بھیجا رہا ہے اور ریڈکراس اور عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ اب وہ راستے کھل جانے پر امداد دے سکیں گے۔

عام کشمیریوں کو کنٹرول لائن پار کرنے کے لئے ضروری فارم بھرنے پڑیں گے جس کی دونوں حکومتوں کی جانب سے اجازت ملنی ضروری ہوگی۔

اسی بارے میں
ابھی صرف ایک جگہ سے
05 November, 2005 | انڈیا
وہاں بڑی بے بسی ہے
06 November, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد