BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 November, 2005, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جستی چادروں کے گھر
جستی چادر کے گھر
جستی چادر کے گھر تین گھنٹے میں تیار ہو جاتے ہیں
زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں سردی کا موسم شروع ہو چکا ہے اور اب بھی متاثرین کی ایک بڑی تعداد کے پاس سر چھپانے کو کوئی چیز موجود نہیں ہے۔

متاثرین کو عارضی گھروں کی فراہمی کے سلسلے میں بی بی سی نے اس سلسلے میں جب نیر دادا سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقابلہ سردی سے ہے اور اگر ہم لوگوں کو سردی سے بچا نہ پائے تو کسی منصوبہ بندی کا کوئی فائدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس آفت سے نمٹنے کے لیے جلدی میں سب کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ تاہم امید ہے کہ اب ان کاموں میں باقاعدگی آئے گی۔ ابتداء میں جلدی کی وجہ سے طرح طرح کے حل سامنے آئے۔ سب سے پہلے خیموں کی بات ہو رہی تھی مگر ان میں بہت سے مسائل سامنے آئے۔ خیموں میں نیچے سے پانی بھر جاتا تھا اور اوپر سے برف۔ پھر خیمے کو گرم رکھنے کے لیے لوگوں نے آگ جلائی جس سے خیموں اور لوگوں کے جلنے کے واقعات سامنے آئے۔ فائبر گلاس کے گھروں میں تعمیراتی میٹیریل کی کمی کا مسئلہ سامنے آیا۔

نیر علی دادا نے بتایا کہ اب انہوں نے جست چادروں کے گھر کا خیال پیش کیا ہےگ ان کا کہنا تھا کہ اگر جستی چادروں کے درمیان انسولیشن میٹیریل بھر کے استعمال کیا جائے تو وہ نہ صرف فائر پروف ہے بلکہ انسولیشن کی وجہ سے گرم بھی رہتا ہے اور وہ فائدہ مند ثابت ہو تا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں جستی چادریں اتنے بڑے پیمانے پر تیار نہیں ہو رہیں اور جہاں سے یہ چادریں دستیاب ہیں وہاں قیمت بہت زیادہ طلب کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عارضی گھر فی الحال ایک کمرے اور باتھ روم پر مشتمل ہو گا تاہم بعد میں اس میں مزید ایک کمرے اور باورچی خانے کا اضافہ کیا جا سکے گا۔ یہ اضافہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ گھر عارضی بنیادوں پر نہیں بلکہ خاصے لمبے عرصے کے لیے درکار ہیں۔

ان گھروں پر آنے والے اخراجات کے متعلق نیر علی دادا نے بتایا کہ ایک کمرے اور ایک باتھ روم پر مشتمل نمونے کے جب گھر بنوائے گئے ہیں ان پر اندازاً تیس ہزار روپے کے نزدیک خرچ آیا ہے۔ تاہم تمام ٹیکس وغیرہ ملا کر اس کا خرچ پچاس ہزار روپے فی گھر آتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ گھر بنیادی طور میدانی علاقوں کے لیے بنائےگئے ہیں کیونکہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے افراد نے صرف چھتیں ڈالنے کے لیے جستی چادریں طلب کی ہیں اور بقیہ گھر وہ ملبے کی مدد سے تیار کر لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گھر خیموں کا نعم البدل ہیں اور یہ موسمی حالات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مکانات کی فراہمی کے بارے میں نیر دادا نے بتایا کہ ان مکانات کو ٹکڑوں کی صورت میں ٹرکوں کے ذریعے متاثرہ مقامات پر بھیجا جا سکتا ہے اور جہاں ان کی ضرورت ہو وہاں یہ گھر تین گھنٹے میں تیار کر کے کھڑا کیا جا سکتا ہے۔تاہم ان گھروں کی بستیاں بسانے کے لیے باقاعدہ نظام بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ صورتحال واضح نہیں کہ ان گھروں کی تیاری کے ٹھیکے کن افراد کو دیے جارہے ہیں تاہم اطلاعات ہیں کہ غیر ملکی کمپنیاں بھی ایسے گھروں کی فراہمی میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

اسی بارے میں
خیمے نہیں بلکہ ٹین کی چادریں
08 November, 2005 | پاکستان
زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر
06 November, 2005 | پاکستان
امدادی ترجیح: سردی سے بچاؤ
05 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد