BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 November, 2005, 13:46 GMT 18:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعمیرِ نو کیلیے تعمیراتی کِٹ

خیمہ
زلزلہ متاثرین کی بڑی تعداد خیموں میں رہائش پذیر ہے
مہاجرین سے متعلق عالمی ادارے آئی او ایم نے پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقے بٹگرام میں گھروں کی تعمیر کے لیے سونامی سے متاثرہ علاقوں کی طرز پر ایک فیکٹری لگانے کا اعلان کیا ہے جہاں مقامی لوگوں کے منہدم شدہ گھروں کی تعمیر نو کے لئے تعمیراتی کٹس تیار کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں انسانی سمگلنگ کو روکنے کے لیے پاکستان کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل برونسن مکنلی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کا ادارہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر پاکستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی او ایم آپریشن ونٹر ریس کے تحت پانچ ہزار فٹ سے زائد کی بلندی والے علاقوں میں سات ہزار ٹین کی چھتیں، تعمیراتی کٹس جس میں گھروں اور عمارتوں کو بنانے کی تمام چیزیں شامل ہوں گی زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فراہم کرے گی۔

گھروں کی تعمیر نو کے بارے میں آئی او ایم کی عہدیدار مریم کھوکھر نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا کے سونامی سے متاثرہ جزیرے آچے میں سب سے پہلے گھروں کی تعمیر نو کے لیے تعمیراتی کٹس بنانے کی فیکٹریاں لگئی گئی تھیں۔

ان کے مطابق یہ تجربہ نہایت ہی کامیاب رہا تھا اور اب آئی او ایم کو امید ہے کہ پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھی لوگ اس طرح کی تعمیراتی کٹس کے ذریعے اپنے گھر بنا سکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گھر زلزلے کی شدت کو بھی برداشت کر سکیں گے۔

آئی او ایم کے مطابق پاکستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں انسانی سمگلنگ کا خدشہ تو ہے مگر ابھی تک وہاں کسی قسم کے ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جو یہ ثابت کر سکیں کے وہاں انسانی سمگلنگ ہوئی ہے۔ اس بارے میں مریم کھوکھر نے کہا کہ عموما قدرتی آفات میں یہ ہوتا ہے کے انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ لوگوں کو بہتر مستقبل کا لالچ دے کر یا ان کی غربت اور مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر عورتوں اور بچوں کی سمگلنگ کرتے ہیں۔

آئی او ایم کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق پاکستانی حکومت کا یہ قدم لائق تحسین ہے کہ اس نے فی الحال لاوارث بچوں کو گود لینے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
زلزلہ بطور پروڈکٹ
20 November, 2005 | پاکستان
خیمےمیں آگ سےدو بچے ہلاک
19 November, 2005 | پاکستان
جستی چادروں کی بلیک
16 November, 2005 | پاکستان
خیمے نہیں بلکہ ٹین کی چادریں
08 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد