خیمےمیں آگ سےدو بچے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بٹہ گرام کے قریب قائم ایک خیمہ بستی میں آگ لگنے سے دو بچے ہلاک جبکہ اسی خاندان کے دو دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ جمعہ اور سینیچر کی درمیانی شب بٹہ گرام شہر کے قریب زلزلہ متاثرین کے لیے قائم ایک خیمہ بستی میں ہوا جس میں تین ماہ کی سمیرا جبکہ اس کا چار سالہ بھائی عاطف نواز شدید جھلس گئے اور ہسپتال پہنچانے سے پہلے دم توڑ گئے۔ بچوں کے والد اور ایک دوسرا بھائی واقع میں زخمی ہوگئے۔ خیمہ میں آگ اس وقت لگی جب ہلاک ہونے والے بچوں کے بھائی نے رفع حاجت کے لیے جانے کے لیےموم بتی جلائی اور اسے خیمہ میں جلتا چھوڑ دیا۔ خیمہ بستی کے نگران لیفٹنٹ کرنل فاروق منظور نے بی بی سی کو بتایا کہ مکینوں کو بارہا خبردار کیا جا چکا ہے کہ وہ روشنی کے لیے موم بتیاں جلانے سے پرہیز کریں لیکن اس کے باوجود مکین احتیاط سے کام نہیں لے رہے۔ ان کے مطابق بغیر مکمل احتیاطی انتظامات کے خیمہ بستی میں بجلی مہیا کرنا زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ کرنل فاروق منظور کا کہنا ہے کہ بٹہ گرام ضلع میں فائیر بریگیڈ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اس سلسے میں خیمہ بستی میں رہنے والے متاثرین کو انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں امدادی سامان جل کر راکھ ہو گیا20 October, 2005 | پاکستان بے گھروں کے لیے خیمہ شہر 14 October, 2005 | پاکستان خیمہ بستی منتقلی پر تناؤ22 October, 2005 | پاکستان بچوں کے لیے روزے میں کھانا نہیں25 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||