کاغان: معاوضوں میں فراڈ کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کاغان کے بعض زلزلہ زدگان نے الزام لگایا ہے کہ وادی کے کچھ زمیندار حکام کی ملی بھگت سے کسانوں کے تباہ شدہ مکانوں کے معاوضے حاصل کر رہے ہیں۔ وادی کے ایک گاؤں گونجی نوری کے ساٹھ سال سے زائد عمر کے ایک بزرگ عزیز اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک طرف قدرت کے عذاب کی وجہ سے آنے والے زلزلے میں ان کا سب کچھ تباہ ہو گیا اور دوسری طرف ان کے گاؤں ڈھ جانے والے مکانوں کا معاوضہ زمیندار حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے بعض زمینداروں نے کسانوں کو زمین دی جس پر مکان کسانوں نے خود بنائے لیکن اب زمیندار اثر رسوخ استعمال کر کے اور فوجیوں کو کاغذات دکھا کر ان مکانوں کے معاوضے لے رہے ہیں۔ عزیز اکبر نے بتایا کہ حکومت فی کمرہ پچیس ہزار دے رہی ہے لیکن اس رقم سے تو ایک کھڑکی بھی نہیں بنتی۔ ان کا کہنا ہے کہ مزدور دو سو روپے روزانہ معاوضہ لیتا ہے تو اس رقم میں ایک کمرہ کہاں سے بن پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ڈھ جانے والے مکان کا سروے ہو جانے کے بعد تین دن سے روزانہ سو روپے خرچ کر کے مانسہرہ جا رہے ہیں لیکن انہیں اب تک معاوضہ نہیں مل سکا۔ روزانہ انہیں معاضے کے لیے اگلے روز آنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ گاؤں گونجی نوری کے چالیس سے زیادہ کسان خاندان اب شہزاد رائے کے امدادی ادارے زندگی ٹرسٹ کی قائم کردہ خیمہ بستی میں مقیم ہیں۔ دریائے کنہار کے بائیں کنارے بالاکوٹ میں قائم اس خیمہ بستی کے ایک اور رہائشی محمد پرویز نے بتایا کہ ان کا گاؤں پہاڑ پر ہے جہاں اب شدید سردی پڑ رہی ہے۔ محمد پرویز کا کہنا تھا کہ ان کے گاؤں کے لوگ جو آپس میں رشتے دار ہیں، محلہ بستی چاہتے تھے جو انہیں زندگی ٹرسٹ نے فراہم کی ہے۔ گلو کار شہزاد رائے کے زندگی ٹرسٹ کے ساتھ ایک اور گلو کار ابرارالحق کے سہارا ٹرسٹ کے کارکن بھی خیمہ زن ہیں۔ انہوں نے بھی ایک خیمہ بستی آباد کی ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دو گلو کاروں کے درمیان گلوکاری کے ساتھ ساتھ امدادی کاموں کا مقابلہ بھی جاری ہے۔ | اسی بارے میں ’حکمران پارٹی میں پیسہ چل رہا ہے‘21 November, 2005 | پاکستان ایک بے بس وزیرِ اعظم سے ملاقات21 November, 2005 | پاکستان زلزلہ بطور پروڈکٹ20 November, 2005 | پاکستان ’نمونیہ سب سے بڑا خطرہ ہے‘20 November, 2005 | پاکستان خیمےمیں آگ سےدو بچے ہلاک19 November, 2005 | پاکستان مصیبت کے موسم میں خوشی کا دن19 November, 2005 | پاکستان پاکستان کو5.8 ارب ڈالر کی امداد19 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||