BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 November, 2005, 19:42 GMT 00:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصیبت کے موسم میں خوشی کا دن

محمد حسین کی شادی میں یوں تو کوئی خوشی نہیں منائی گئی لیکن یونیسیف کے نوجوانوں نے خاص ھور تیار کیا گیا ایک گانا گایا
الائی سے تعلق رکھنے والے بیس سالہ محمد حسین کی شادی اپنے ہی گاؤں کی پندرہ سالہ گل تاج سے آٹھ اکتوبر سے کئی ماہ قبل عید کے فوراً بعد ہونا قرار پائی تھی۔ زلزلے کے ان کا گاؤں مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور وہ اپنے گاؤں والوں کے ساتھ بٹ گرام کے بٹہ میدان نامی ایک خیمہ بستی میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

اس خیمہ بستی میں منتقل ہونے کے بعد ان کے بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ محمد حسین کی شادی کا فرض ادا کر دیا جائے۔ جب اس فیصلہ کا علم خیمہ بستی کے انچارج لیفٹینٹ کرنل منظور اور یونیسیف کو ہوا تو انہوں نے محمد حسین کی خوشی میں ساری خیمہ بستی کو شریک کرنے کا فیصلہ کیا۔

یونیسیف والوں نے دلہا اور دلہن کے لیے نئے کپڑے بنانے کے لیے کچھ رقم فراہم کی اور فوج کے جوانوں نے شادی کی تقریب میں شریک ہونے والے مہمانوں کے لیے کھانا اور دلہا اور دلہن کے لیے ایک خصوصی خیمہ تیار کرنے کا ذمہ اٹھایا۔

فوج کے جوانوں نے خیمہ بستی کے بیچوں بیچ ایک خیمہ لگایا جسے محمد حسین کی شبِ عروسی کے لیے بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا۔

محمد حسین ہفتے کی صبح اپنے دوستوں اور عزیزواقارب کے ہمراہ بارات لے کر خیمہ بستی کے شمالی حصے سے خیمہ بستی کے جنوبی حصے میں جو شاہراہ ریشم کے دوسری طرف آباد کیا گیا ہے گئے۔

گل تاج کے خیمہ کے قریب کھلی جگہ پر دریاں ڈال کر باراتیوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ بارات پہنچے کے تھوڑی دیر بعد نکاح کی رسم ادا کی گئی اور گل تاج کا مہر تیس ہزار روپے مقرر کیا گیا۔

شادی کی یہ تقریب بڑی سادگی سے ادا کی گئی اور دلہا دلہن کی طرف سے کسی نے شادی بیاہ کا کوئی گیت نہیں گایا۔ تاہم یونیسیف کے لیے کام کرنے والے رضا کاروں نے اس موقع کی مناسبت سے پشتو زبان میں ایک خصوصی نغمہ تیار کیا تھا جو انہوں نے کورس کی شکل میں گایا۔

زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لیے بنائی گئ خیمہ بستی کے ایک کونے پر امدادی کام کرنے والے پاکستانی فوج کے جوانوں نے ایک خیمہ خاص طور پر تیار اور آراستہ کیا

مصیبت کی اس گھڑی میں ملنے والی خوشی کے اس لمحے میں بھی یہ لوگ اپنے اوپر بیتے والی آفت کو بھلا نہیں پائے اور نکاح کے بعد زلزلہ زدگان کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

نکاح کی تقریب سے قبل محمد حسین نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کا بڑا بھائی محمد مختار کراچی میں ملازمت کرتا ہے۔ زلزلے سے پہلے طے شدہ پروگرام کے مطابق اس نے دلہن کے لیے کپڑے بنوا کر عید پر الائی آنا تھا لیکن زلزلے کی خبر سن کر وہ بھاگم بھاگ الائی پہنچے اور دلہن کے کپڑے وغیرہ بھی نہیں لا سکے۔

انہوں نے کہا کہ عام حالات میں ان کی شادی پر ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ روپے خرچ ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ گل تاج سے ان کا رشتہ چھ سال قبل طے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ان کے گاؤں کے رسم رواج کے مطابق رشتہ طے ہوجانے کے بعد لڑکا لڑکی نہ ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی بات کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان چھ سالوں کے دوران انہوں نے کبھی اپنی منگیتر کی ایک جھلک تک نہیں دیکھی۔ گاؤں میں منگیتر سے ملنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اپنی نئی زندگی اور مستقبل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی الائی میں سترہ کنال زرعی اراضی ہے اور ایک سو ایکٹر رقبہ ہے جس پر جنگلات ہیں۔ تاہم وہ اپنے مستقبل کے بارے میں یقینی طور پر کوئی بات نہیں کر سکے۔

محمد حسین تو اپنے مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا شکار تھے لیکن ان کی خیمہ بستی میں الائی سے تعلق رکھنے والے سردیاں گزرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر لوگوں کا یہی ارادہ ہے کہ سردیاں گزرنے کے بعد وہ پہاڑوں پر اپنی زمینوں پر واپسی چلے جائیں اور اپنی زندگیاں دوبارہ شروع کریں۔

اسی بارے میں
وعدہ جو وفا ہوا
02 November, 2005 | پاکستان
شادی،جج کی خودکشی کی وجہ
05 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد