زلزلے کا یتیم بچہ حدیقہ کی گود میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی نامور گلوکارہ حدیقہ کیانی نے زلزلے میں یتیم ہونے والے ایک بچے کو گود لے لیا ہے۔ انہوں نے بے اولاد اور صاحب حیثیت لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی ایک ایک بچہ گود لیں۔ کراچی میں بدھ کی شام بلقیس ایدھی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حدیقہ کیانی نے بتایا کہ وہ ایدھی چائلڈ ہوم میں بچوں کو عیدی دینے گئی تھیں جہاں انہوں نے اس بچے کو دیکھا تھا۔ اس بچے کے والدین بالا کوٹ میں زلزلے میں فوت ہوگئے تھے۔ حدیقہ کے مطابق اس معصوم کی درد بھری کہانی سن کر وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور روتی رہیں۔ آخر انہوں نے اس کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ ’اب وہ اس بچے کے سوا زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ خود کو مکمل سمجھتی ہیں۔ پاکستان کی معروف گلوکارہ کا کہنا تھا کہ ’جیسے ایک ماں اپنے بچے کے لیے جاگتی ہے میں بھی جاگوں گی اور اسی شخص سے شادی کرونگی جو اس بچے کو اپنائے گا‘۔ بچے کے مستقبل کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ اس کو بڑا آدمی بنانا چاہتی ہیں۔ ’میری خواہش ہے کہ یہ عبدالستار ایدھی کے نقش راہ پر چلے۔ اگر اس نے شوبز کی جانب آنا چاہا تو بھی مجھے اعتراض نہیں ہوگا۔ میری اولیت صرف اس بچے کی پرورش ہوگی‘۔ عبدالستار ایدھی کی بیگم بلقیس ایدھی نے بتایا کہ اس بچے کا نام ناد علی ہے اور زلزلے سے صرف چار دن قبل اس کا جنم ہوا تھا۔ ان کے مطابق حکومت نے یتیم بچوں کو کسی کے حوالے کرنے پر پابندی عائد کی ہے مگر اس بچے کو اس کے نانا نے ان کے سپرد کیا تھا اس لیے اب یہ حکومت کا نہیں بلکہ ایک نجی معاملہ ہے۔ |
اسی بارے میں ہر چہرہ پریشان، ہر کہانی دکھ بھری04 November, 2005 | پاکستان زلزلے سے 17000 بچے فوت ہوئے: یونیسف01 November, 2005 | پاکستان ’امدادی آپریشن ممکن لگ رہا ہے‘09 November, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا09 November, 2005 | پاکستان اور غم کی شام گہری ہوتی گئی08 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||