’حکمران پارٹی میں پیسہ چل رہا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران مسلم لیگ کے لاہور سے رکن قومی اسمبلی اور پارٹی کے ناراض گروپ کے ترجمان فاروق امجد میر کا کہنا ہے کہ پارٹی کے صدر چودھری شجاعت حسین اور وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوچکی ہے کہ جس آدمی کا حکمران مسلم لیگ سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ پیسہ لے کر آجائے تو جو مرضی سیٹ لے سکتا ہے۔ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایم این اے فاروق امجد میر نے (جو لاہور کے نائب ناظم بھی رہ چکے ہیں) کہا کہ قومی اسمبلی کے پینتیس ارکان ناراض گروپ میں شامل ہیں جبکہ چودھری برادران سے ناراض ارکان قومی اسمبلی کی تعداد سو سے کم نہیں لیکن بہت سے ارکان اس مرحلہ پر کھل کر سامنے نہیں آنا چاہتے۔ ان کا کہناہے کہ بہت سے ارکان پنجاب اسمبلی بھی اس گروپ سے رابطہ میں ہیں۔ فاروق امجد میر نے کہا کہ حکمران مسلم لیگ میں چودھری برادران کا مخالف پارلیمانی گروپ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی دونوں کی ان کے عہدوں سے برطرفی چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اس گروپ کے ارکان نے ان دونوں کے خلاف بارہ نکات پر مبنی ایک چارج شیٹ تیار کی ہے جس کی تفصیلات بتدریج منظر عام پر لائی جائیں گی۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں دو نکات کی تفصیل بتائی لیکن باقی نکات ان کے مطابق نازک ہیں جس کی تفصیل پارٹی کے اندر بتائی جائے گی۔ فاروق امجد میر نےکہا مسلم لیگ میں بے چینی ہے اور پارٹی ارکان کے مرکز اور پنجاب میں پارٹی صدور، چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی، کے بارے میں شکوک ہیں۔ جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوتا مسلم لیگ اپنا وہ موثر کردار اد نہیں کرسکے گی جو اسے کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں ارکان یہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی کے صدر شجاعت حسین، پنجاب کے صدر پرویز الہی کے فیصلوں کے خلاف اپیلٹ اتھارٹی کے طور پر کام کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا پارٹی کے صدر پنجاب کے وزیراعلی کو کسی کام سے کبھی نہیں روکتے اورنہ روکنا چاہتے ہیں۔ ’پارٹی کا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ ایک شخص بن گیا ہے۔ جو پنجاب کرے وہ سب کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔‘ فاروق امجد میر نے کہا کہ ارکان کی بنیادی شکایت پنجاب سے ہے لیکن چونکہ چودھری شجاعت حسین بھی پنجاب میں آپریٹ کرتے ہیں اس لیے شکایت دونوں سے ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ شکایت کی نوعیت کیا ہے تو فاروق امجد میر نے کہا کہ سرفہرست بات تو یہ ہے کہ جس شخص کا پارٹی سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ اگر پیسہ لے کر آجائے تو جو مرضی سیٹ لے لے۔ انہوں نے کہا جو پارٹی کے کارکن ہیں ان کی رائے نہیں لی جاتی بلکہ انہیں ان کی جگہ سے ہٹا کر نئے آدمی کو انکی جگہ لگا دیا جاتا ہے۔ سارا مقامی انتخابات اس کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ فاروق امجد میر نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ میں پنجاب کے وزیراعلٰی کے جتنے مشیر لگائے گئے ہیں وہ بھی اسی بنیاد پر لگائے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحصیلوں اور ضلعوں میں جو پراپرٹی ڈیلرز ناظم بنائے گئے ہیں وہ بھی پارٹی میں پیسہ چلنے کی مثال ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ پیسہ پارٹی فنڈز میں جارہا ہے یا چودھری برادران لے رہے ہیں تو حکمران جماعت کے رکن قومی اسمبلی فاروق امجد میر نے کہا کہ پیسہ پارٹی فنڈز میں جاتا ہوا تو نظر نہیں آیا لیکن کہیں تو جارہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملہ پر چودھری پرویز الہی سےبات کی تو انہوں نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہوندا‘۔ انہوں نے چودھری شجاعت حسین سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ’اچھا، ٹھیک کرلیں گے۔ بات کروں گا۔‘ تاہم فاروق امجد میر کا کہنا ہے کہ اس بات کرنے کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
رکن اسمبلی کے مطابق ناراض گروپ کی دوسری بڑی شکایت یہ ہے کہ زلزلہ کے موقع پر امدادی کام میں حکمران جماعت کہیں نظر نہیں آئی ما سوا کہ شجاعت حسین ہیلی کاپٹر لے کر آتے جاتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کارکنوں نے بہت کام کیا لیکن اوپر سے پارٹی قیادت نے اسے مربوط نہیں کیا جس سے انسانی نقصان بھی ہوا اور سیاسی بھی۔ ناراض رکن اسمبلی نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفت کے موقع پر ملک سے غائب رہے جس سے انہوں نے واضح پیغام دیا کہ ان کے بغیر بھی صوبہ ٹھیک سے چل سکتا ہے اور ان کی ضرورت نہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ چودھری پرویز الہی کے بیٹے مونس الٰہی کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے تو انہوں نے کہا وزیراعلی صاحب کے بیٹے اور ان کے ساتھی حبیب اللہ وڑائچ کے بارے میں بہت سے لوگ الزامات لگا رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ چودھری برادران کا حکمران مسلم لیگ کی موجودہ سیاسی حیثیت بنانے میں ایک کردار ادا کیا ہے تو کیا یہ پارٹی ان کے بغیر یہ چل سکے گی تو باغی گروپ کے ترجمان نے کہا کہ حکمران مسلم لیگ میں جو لوگ بھی شامل ہوئے ہیں وہ چودھری برادران کی وجہ سے نہیں بلکہ صدر جنرل پرویز مشرف کی وجہ سے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری برادران بیس پچیس سال سے سیاست میں ہیں اگر ان میں اپنی کوئی قابلیت ہوتی تو وہ صدر مشرف کے بغیر اتنے لوگوں کو اکٹھا نہ کر لیتے۔ فاروق امجد میر کا کہنا تھا کہ جب سنہ دو ہزار دو میں عام انتخابات میں پارٹی کامیاب ہوئی تو پارٹی کے مرکزی صدر چودھری شجاعت حیسن نہیں بلکہ میاں اظہر تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ناراض گروپ وزیراعظم شوکت عزیز کو پارٹی کا صدر بنوانا چاہتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کے گروپ کی کوشش ہے کہ دونوں چودھریوں کو برطرف کیاجائے اور ان کی جگہ جو بہتر شخص ہو وہ آجائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شوکت عزیز بھی بہتر لوگوں میں سے ہیں۔ فاروق امجد میر سے جب پوچھا گیا کہ کیا صدر پرویز مشرف کے حالیہ بیان کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے تو انہوں نے کہا صدر مشرف کا بیان متوازن تھا اور ہرگز شٹ اپ کال نہیں تھی۔ انہوں نے کہاکہ صدر مشرف کے بیان میں یہ مضمر تھا کہ پارٹی میں بے چینی ہے اور چودھری شجاعت حسین اسے دور کریں ورنہ وہ خود اسے دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ناراض گروپ کے ترجمان نے تسلیم کیا کہ ان کے گروپ کے ارکان کی ذاتی شکایات بھی ہیں لیکن انکا کہنا تھا کہ اب ان ارکان اسمبلی کی پارٹی صدر چودھری شجاعت حیسن کے بارے میں تمام غلط فہمیاں اور ابہام دور ہوچکے ہیں اور معاملات واضح ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ارکان کی شکایات ذاتی نہیں رہیں بلکہ پارٹی اور ملک کے معاملات تک پھیل گئی ہیں۔ ناراض گروپ کے ترجمان نے کہا کہ ان کے گروپ نے وزیراعظم کو ایک خط دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ان ارکان کی صدر جنرل مشرف سے ملاقات کرادیں۔ تاہم گروپ یہ ملاقات زلزلہ زدگان کے لیے عالمی ڈونر کانفرنس کے بعد کرنا چاہتا تھا اور اب کانفرنس ہوجانے کے بعد یہ وزیراعظم سے اس بارے میں جواب کے لیے رجوع کرے گا۔ اس گروپ کی اٹھائیس نومبر کو اسلام آباد میں ایک میٹنگ بھی طے کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں چوہدری شجاعت کے خلاف ’بغاوت‘11 November, 2005 | پاکستان ’سب بندر بانٹ کا مسئلہ ہے‘11 November, 2005 | پاکستان شجاعت کا عطیہ، 'لنڈے کے کپڑے'19 October, 2005 | پاکستان شجاعت ہی صدر رہیں گے: مشرف16 May, 2005 | پاکستان پنجاب میں چوہدری حمایت کامیاب 06 October, 2005 | پاکستان ’میرے خلاف سازش نہیں ہو رہی‘16 September, 2005 | پاکستان بلا مقابلہ منتخبوں کی بڑھتی تعداد15 August, 2005 | پاکستان اب نہ ’ڈیل‘ نہ ’ڈھیل‘: شجاعت25 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||