چوہدری شجاعت کے خلاف ’بغاوت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمران جماعت کے پینتیس سے زائد ارکان قومی اسمبلی نے پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم شوکت عزیز کو ایک تحریری درخواست بھجوائی ہے جس میں ان سے پارٹی کی صدارت سنبھالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم چوہدری شجاعت کا کہنا ہے کہ وہ ان باغی ارکان کی شکایات دور کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ان باغی ارکان کے نمائندہ ریاض حسین پیر زادہ نے قومی اسمبلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ پینتیس سے زائد ارکان کے گروپ کا موقف ہے کہ پارٹی کے اندر متبادل لیڈرشپ آنی چاہئے جس سے مسلم لیگ فعال ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ سن دو ہزار سات میں ہونے والے الیکشن کے لئے نئ پارٹی قیادت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی موجودہ قیادت صدر جنرل پرویز مشرف کے پروگریسو ایجنڈے کو آگے بڑھانےمیں ناکام رہی ہے۔پیر زادہ کے مطابق اگر پنجاب میں چوہدری پرویز الہی صوبے کے وزیر اعلیٰ اور صوبائی مسلم لیگ کے صدر ہو سکتے ہیں تو وزیر اعظم شوکت عزیز کو بھی یہ دونوں عہدے اپنے پاس رکھنے چاہئیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب چوہدری شجاعت نے باغی ارکان سے ملنے کے لئے پارلینٹ ہاؤس کے کمیٹی روم نمبر دو میں دن بارہ بجے کا وقت مقرر کیا۔ چوہدری شجاعت کا کہنا ہے کہ وہ آدھے گھنٹے تک وہاں ان ارکان کا انتظار کرتے رہے مگر وہ وہاں نہیں پہنچے۔ مگر ریاض پیر زادہ کا کہنا ہے کہ وہ بارہ بجے وہاں پہنچ گئے تھے اور پانچ منٹ تک چوہدری شجاعت کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہیں آئے۔ ریاض پیر زادہ نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم شوکت عزیز اگر اس معاملے میں مداخلت کرتے ہیں تو وہ چوہدری شجاعت کے ساتھ مل بیٹھنے کے لئے تیار ہیں۔ چوہدری شجاعت نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان ارکان اسمبلی کی شکایات کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے اور وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اسی لئے آئے تھے کہ وہ ان ارکان سے ملیں اور ان کی شکایات جانیں۔انہوں نے کہا کہ وہ کافی دنوں سے ان ارکان سے پوچھ رہے ہیں کہ ان کی کیا شکایات ہیں مگر وہ ان سے اگر نہیں ملیں گے تو اس بات کا کیا حل نکل سکتا ہے۔ اس سارے سیاسی تنازعے کی کڑیاں بظاہر اس برس ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے ملتی ہیں جب بہت سے ارکان اسمبلی نے پارٹی قیادت کی ہدایات کے برخلاف الیکشن میں مسلم لیگ کے امیدواروں کے مقابلے میں انتخابات لڑا۔ الیکشن سے قبل حکمران مسلم لیگ کے ایک سو چالیں ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم شوکت عزیز اور صدر جنرل پرویز مشرف کو تحریری درخواست میں بلدیاتی الیکشن سے پہلے کچھ ناظمین کے احتساب کرنے کا مطالبہ کیا تھامگراس مطالبے کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ’عزت سے عہدہ چھوڑ رہا ہوں‘25 August, 2004 | پاکستان بلوچستان مسلم لیگ میں اختلافات17 June, 2005 | پاکستان اب نہ ’ڈیل‘ نہ ’ڈھیل‘: شجاعت25 April, 2005 | پاکستان شجاعت کی نااہلی کے لیے درخواست29 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||