BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 June, 2005, 19:38 GMT 00:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان مسلم لیگ میں اختلافات

شجاعت حسین اور ظفر اللہ جمالی
مجلس عمل اور مسلم لیگ کی مخلوط حکومت قائم کرنے کے لیے مسلم لیگ کی مرکزی قیادت نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
بلوچستان میں حکمران مسلم لیگ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور اس بابت چوہدری شجاعت حسین نے مسلم لیگی اراکین کو اسلام آباد طلب کیا ہے۔

یہ ملاقات ہفتے کے روز ہو رہی ہے جس کے لیے بلوچستان سے کچھ اراکین روانہ ہو چکے ہیں۔ مسلم لیگ کے ناراض اراکین میں جنرل سیکرٹری جعفر مندوخیل اور وزیر اعظم ظفراللہ جمالی کے کزن جان محمد جمالی نمایاں ہیں۔ انھوں نے دعوی کیا ہے کہ ان کے پاس چودہ اراکین ہیں جو مخلوط حکومت میں شامل مجلس عمل کے رویے کے خلاف ہیں۔

ان اراکین نے گزشتہ ماہ ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے آخری کچھ دنوں احتجاج شرکت نہیں کی تھی اور اخباری نمائندوں کو بتایا تھا کہ مجلس عمل صوبائی حکومت پر حاوی ہے کیونکہ مجلس کے وزیروں کے پاس بہتر عہدے ہیں اور یہ کہ ترقیاتی فنڈز مجلس عمل کے اراکین کے حلقوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔

جعفر مندو خیل نے کچھ روز پہلے بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ سے ملاقات کی تھی جس میں بجٹ اجلاس میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی۔

مجلس عمل اور مسلم لیگ کی مخلوط حکومت قائم کرنے کے لیے مسلم لیگ کی مرکزی قیادت نے اہم کردار ادا کیا تھا اور اس وقت کے وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی کی موجودگی میں طے پا جانے والے معاہدے کے تحت وزارت اعلی مسلم لیگ کو ملی تھی اور وزراء کے عہدوں کا انتخاب مجلس عمل کے قائدین نے کیا تھا۔ اس وقت منصوبہ بندی آبپاشی صحت تعلیم تعلقات عامہ زراعت پبلک ہیلتھ انجینیرنگ وغیرہ مجل عمل کی وزراء کے عہدے ہیں۔

مسلم لیگ کے ناراض اراکین نے کہا ہے کہ مجلس عمل کو وزارت اعلی دے کے وزیروں کے عہدے لیے جائیں اور یا مجلس عمل سے معاہدہ ختم کرکے قوم پرست جماعتوں سے ملکر حکومت سازی کی جائے۔

قوم پرست جماعتیں ایوان میں تبدیلی کے خواہاں نظر آتے ہیں ۔ صوبائی حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ مجلس عمل سے معاہدہ ختم کردے تو حکومت میں شامل ہوئے بغیر قوم پرست جماعتیں مسلم لیگ کی حمایت کریں گے لیکن اس بارے میں قوم پرست جماعتوں نے خود کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد