پنجاب میں چوہدری حمایت کامیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب میں بلدیاتی انتخاب کا میدان صوبائی حکومت کے امیدواروں نے مار لیا ہے۔ چند ایک اضلاع کو چھوڑ کر تمام میں حکومت کے حمایت یافتہ امیدوار ضلعی نظامت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ تحصیل اور ٹاؤن کی سطح پر جو نتائج سامنے آرہے ہیں ان میں بھی واضح برتری انہی امیدواروں کو حاصل ہے جن کی حکومت نے حمایت کی۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق لاہور سے میاں عامر محمود دوسری بارضلعی ناظم کامیاب ہوئے ہیں۔ چکوال سے سردار غلام عباس ضلعی ناظم کے طورپر کامیاب ہوئے ہیں۔ چکوال سے ہارنے والے امیدوار ریٹائرڈ لفیٹنٹ جنرل مجید ملک بھی اگرچہ حکمران مسلم لیگ کے نائب سنئر نائب صدر ہیں لیکن ان کی وزیر اعلیٰ پنجاب نے مخالفت کی تھی۔ گجرات سے حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کے بھائی چودھری شفاعت حسین دوسری بار ضلعی ناظم منتخب ہوئے ہیں۔ اٹک سے بھی وزیر اعلیٰ کے رشتہ دار طاہر صادق بطور ضلع ناظم کامیاب ہوئے۔ بھکر سے حمید اکبر نوانی کامیاب ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے انہیں کامیاب کرانے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا تھا اس پر احتجاج کرتے ہوۓ صوبائی کابینہ کے ایک رکن نعیم اللہ شاہانی نے استعفی دیدیاتھا۔ خانیوال سے سردار احمد یار ہراج سابق سپیکر قومی اسمبلی فخر امام کے بھائی کو ہرا کامیاب قرار پائے ہیں۔ راولپنڈی سے راجہ جاوید اخلاص سابق ضلعی ناظم راجہ طارق کیانی کو ہرا کر کامیاب ہوئے ہیں۔ کامیاب ہوئے ہیں۔ کو وزیراعلیٰ کی حمائت حاصل تھی اور انہوں نے کو شکست دی۔ راجہ طارق کیانی کے قریبی حلقوں کا پھلایا یہ تاثر بھی ان کے کام نہیں آیا کہ انہیں وزیر اعلی پنجاب کے سواحکمرانوں کی درپردہ حمائت حاصل ہے۔ ضلعی نظامت کے لیے صرف فیصل آباد سے اپوزیشن کے اتحاد یعنی اے آر ڈی کے امیدوار رانا زاہد توصیف برتری لیے ہوۓ نظر آتے ہیں اس کے علاوہ مظفر گڑھ سے پیپلز پارٹی کے سردار قیوم خان کو ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب کے چودھریوں نے ان انتخابات کے لیے پنجاب کی حد تک اپنی من مانی کی اور پارٹی کے دیگر حلقوں کو نظر انداز کرکے صرف انہی ٹاؤن تحصیل اور ضلعی ناظمین کے امیدواروں کی حمائت کرکے انہیں جتوانے کی کوشش کی جن پر انہیں ذاتی طور پر اعتماد تھا۔ ان کی پارٹی کی حد تک متنازعہ اس حکمت عملی کی وجہ سے صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی پارٹی معاملات میں مداخلت کرنا پڑی تھی لیکن ضلعی ناظمین کے حوالے سے جو نتائج سامنے آۓ ہیں سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب کے چودھری اپنی حکمت عملی میں کامیاب نظر آتے ہیں اگرچہ حکمران مسلم لیگ کے باقی دھڑے ان کی اس حکمت عملی سے ناراض ہوئے ہیں اور کھل کر چودھریوں کے مخالفت بھی کرنے لگے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||