BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 November, 2005, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سب بندر بانٹ کا مسئلہ ہے‘

چوہدری شجاعت کی جماعت نے شوکت عزیز کو وزیرِ اعظم بنوانے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا
جس سرکاری پارٹی نے ایک ماہ پہلے مقامی انتخابات میں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے حزب مخالف کا صفایا کردیا تھا وہ اب خود اس صوبے میں داخلی اختلافات کا شکار ہے۔

پنجاب کے پینتیس میں سے تیس ضلعوں میں ناظموں کے انتخابات میں حکمران مسلم لیگ اور اس کے کرتا دھرتا چوہدری شجاعت حسین اور ان کے کزن وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے نامزد کردہ امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی تھی اور یہ زبردست کامیابی ہی اب چوہدری برادران کے لیے چیونٹیوں بھرا کباب بنتی دکھائی دیتی ہے۔ ان انتخابات سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ چوہدری برادران پارٹی اور حکومت پر اپنی مکمل اجادرہ داری چاہتے ہیں۔

حکمران پاکستان مسلم لیگ میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے چند ارکان قومی اسمبلی کی پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور ان کے کزن اور وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی سے ناراضگی کھل کر سامنے آچکی ہے۔ وزیراعظم شوکت عزیز ان ناراض ارکان سے بات چیت کررہے ہیں۔

مسلم لیگ کے ایک بزرگ رہنما کبیر علی واسطی چوہدری برادران کے خلاف اسی طرح بیانات دے رہے ہیں جیسا کہ سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی کے ہٹائے جانے سے پہلے وہ ان کے خلاف دیا کرتے تھے۔ کبیر علی واسطی کی مخالفت کو سیاسی جوڑ توڑ میں مرغ باد نما سمجھا جاتا ہے۔

سرکاری مسلم لیگ میں ارکان اسمبلی کی چوہدری برادران سے موجودہ رنجش مقامی انتخابات کا شاخسانہ ہے۔ ان انتخابات میں کئی سرکاری ارکان اسمبلی اپنے اپنے ضلعوں میں چوہدری برادران کی مخالفت کی وجہ سے یا تو خود ناظم منتخب نہیں ہوسکے یا اپنے نامزد کردہ لوگوں کو نہیں جتواسکے۔

ان میں چکوال سے مجید ملک، سرگودھا سے مظہر قریشی اور بہالپور سے ریاض پیرزادہ ہیں جو باقاعدہ طور پر حکمران جماعت میں فارورڈ بلاک بنانے کا دعوی کررہے ہیں جس میں ان کے مطابق پینتیس ارکان اسمبلی شامل ہیں۔

دوسری طرف، ڈیرہ غازی خان سے فاروق لغاری ہیں جن کے بیٹے جمال لغاری گزشتہ مدت میں ضلعی ناظم تھے لیکن اس بار ان کا گروپ اکثریت حاصل نہیں کرسکا اور وہ ناظم نہیں بن سکے۔ وہ ارکان جو مقامی انتخابات میں وزیراعلی پنجاب کی مخالفت کی وجہ سے اپنے دھڑوں کے ضلعی ناظم منتخب نہ ہونے پر ناراض بتائے جاتے ہیں ان میں بہالپور سے نواب صادق عباسی، ملک فاروق اعظم اور ریاض پیرزادہ، لودھراں ضلع سے اختر کانجو اور رحیم یار خان سے مخدوم احمد محمود اور جہانگیر ترین (دونوں رشتے دار ہیں) شامل ہیں۔

ان ارکان اسمبلی کو شکایت ہے کہ ان کے علاقوں میں ان کی سفارش پر کام نہیں ہورہے جس سے ان کے لیے اگلے انتخابات میں اپنے حلقوں میں ووٹ حاصل کرنا مشکل ہوجائے گا۔ تاہم اخباری بیانات میں ان کا یہ کہنا ہے کہ شجاعت حسین پارٹی کو ٹھیک سے چلا نہیں سکے اور تمام ریاستی وسائل کے ہوتے ہوئے پارٹی عوام میں اپنی جڑیں نہیں بناسکی اس لیے پارٹی ان کی قیادت میں اگلا الیکشن نہیں جیت سکے گی۔

وزیر مملکت امین اسلم، لاہور سے فاروق امجد میر (سابق نائب ناظم لاہور)، خوشاب سے سمیرا ملک (جو فاروق لغاری کی بھانجی ہیں) فیصل آباد سے عمر نذیر، اوکاڑہ سے روبینہ شاہین وٹو، مظفر گڑھ سے حنا ربانی کھر وغیرہ بھی اس ناراض گروپ سے رابطے میں بتائے جاتے ہیں۔ فیصل آبادمیں سرکاری مسلم لیگ کے امیدوار کی بجائے مسلم لیگ نواز کے امیدوار رانا توصیف پیپلز پارٹی کی حمایت سے ضلعی ناظم منتخب ہوئے ہیں۔

حکمران جماعت مسلم لیگ کو اسمبلی میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(نواز) اور متحدہ مجلس عمل کے مقابلے میں جو عددی اکثریت حاصل ہے اس کی وجہ ارکان اسمبلی کے تین بڑے گروہ ہیں۔ ایک تو وہ اتحادی جماعتیں ہیں جیسے ملت پارٹی اور مسلم لیگ کے مختلف دھڑے (منظور وٹو وغیرہ) جو سرکاری پارٹی میں مدغم ہوگئے تھے اور دوسرے پیپلز پارٹی کے بیس سے زیادہ باغی ارکان ہیں اور تیسرے الطاف حسین کی ایم کیو ایم کی حمایت ہے۔

اس وقت یہ اتحادی حکومت اور چوہدری برادران یعنی چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے وزراء بھی اپنی بے اختیاری کا رونا رورہے ہیں اور ان کے کابینہ سے الگ ہونے کی قیاس آرائیاں بھی گردش کررہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر فیصل صالح حیات اور راؤ سکندر کی قیادت میں بننے والے منحرف گروپ کے تعلقات روز اول سے ہی چوہدری برادران سے اچھے نہیں رہے۔

اسی دوران میں آٹھ اکتوبر کے زلزلہ کے بعد جس طرح پنجاب کے وزیراعلی پرویز الٰہی پندرہ دن بعد لندن اور امریکہ سے ملک واپس آئے اس سے بھی ان کی پوزیشن متاثر ہوئی گو وہ اس کی تلافی کے لیے زبردست میڈیا مہم چلا رہے ہیں۔

عام طور سے جب پاکستان کی اسٹیبلیشمینٹ کسی حکمران خاندان کو ہٹانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اس کی اپنی پارٹی سے لوگ اس کی مخالفت میں سامنے آتے ہیں۔ نواز شریف کے دور اقتدار میں انہیں سب سے پہلے ان کی پارٹی کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب میاں اظہر نے للکارا تھا۔

جیسے مکئی کی چھلی کا ایک دانہ نکل جائے تو باقی دانے آسانی سے نکلتے چلے جاتے ہیں اسی طرح ایک دفعہ حکمران خاندان کی مخالفت شروع ہوجائے تو ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ قومی سیاست کا ماضی اس کا گواہ ہے۔ نواز شریف کو دو مرتبہ اسی طرح اقتدار سے نکالا گیا۔

اب اگر تو چوہدری برادران سے باغی ارکان کو اسٹیبلیشمینٹ کی کسی طرح کی حمایت حاصل ہے تو یہ کسی بڑے بحران میں تبدیل ہوسکتی ہے اور چوہدری برادران کو بھی میاں اظہر اور ظفراللہ جمالی کی طرح کسی خطرہ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر اس تحریک کو اسٹیبلیشمینٹ کی تائید حاصل نہیں تو یہ بندر بانٹ کی یہ لڑائی کچھ لے دے کرکے ختم ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں
’عمرہ ذاتی خرچ پر کیا تھا‘
10 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد