BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 February, 2005, 23:58 GMT 04:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عمرہ ذاتی خرچ پر کیا تھا‘

خورشید قصوری
چودھری شجاعت نے خورشید قصوری کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے اپنی وزارت عظمی کے دور میں اپنے عزیز واقارب کے ہمراہ جو عمرہ کیا تھا اس کے اخراجات ان کےاور وفاقی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے درمیان اختلافات کی وجہ بن گئے ہیں۔

وزیر خارجہ کی طرف سے سینٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کوچودھری شجاعت حسین نے پارلیمانی روایات کے سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی اس حرکت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

دو روز پہلے وفاقی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نےسینٹ میں پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے سنیٹر انور بیگ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’وزیر اعظم کی حثیت سے چودھری شجاعت حسین سرکاری خرچ پر میر ظفراللہ جمالی ، شوکت عزیز اور اپنی فیملی کے اراکین اور دوستوں کو عمرے پر لے گئے تھے‘۔

چودھری شجاعت حسین نے ان کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اسے غلط اور حقائق کے منافی قرار دیا۔

چودھری شجاعت حسین کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ان کے ساتھ جانے والا وفد دو قسم کے لوگوں پر مشتمل تھا۔ وہ اور ان کے اہل خانہ ،گورنر سندھ، تین وفاقی وزیر ایک سنیٹر اپنی بیویوں سمیت دیگر چند افراد کے ہمراہ سعودی حکومت کے مہمان تھے اور ان کے تمام اخراجات سعودی حکومت نے برداشت کیے تھے جبکہ دوسرے وفد کے نوے کے قریب افراد چودھری شجاعت حسین کے ذاتی مہمان تھے اور ان تمام افراد کے اخراجات جو ستر ہزار سعودی ریال بنتے ہیں انہوں نے اپنی جیب سے ادا کیے تھے۔‘

اس دوسرے وفد میں دیگر افراد کے علاوہ پاکستان کے تین سینٹر اور گیارہ اراکین قومی اسمبلی بھی شامل ہیں۔

ان کے ترجمان نے کہا کہ’ ان تمام افرادکو سعودی عرب کے شہر مکہ میں ہلٹن اور مدینہ منورہ میں گرین پیلس ہوٹل میں ٹہرایا تھا اور ان کے اخراجات تئیس اگست سن دو ہزار چار کو قونصلیٹ جنرل آف پاکستان کو ادا کردیئے تھے اور قونصلیٹ نے تیس اگست کو ہوٹلوں کو یہ ادائیگی کر دی تھی۔‘

ترجمان نے کہا کہ ’ان ناقابل تردید حقائق کی روشنی میں سینیٹ میں یہ گمراہ کن بیان پیش کرنا کہ چودھری شجاعت حسین نے اپنی فیملی کے اراکین اور دوستوں کو سرکاری خرچ پر عمرہ کرایا ہے پارلیمانی روایات کی سنگین خلاف ورزی ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد