’جو کرانا ہے 18 اگست تک کرا لیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے ملک بھر کے پریس کلبوں کو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ فی پریس کلب پچاس ہزار روپے امداد دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے سنیچر کو ملک بھر کی اڑھائی سو سے زائد پریس کلبوں کے دو ہزار کے لگ بھگ صحافیوں کے بلائے گئے کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ’ڈوولیشن ٹرسٹ فار کمیونٹی امپاورمینٹ، کی جانب سے ’ فرسٹ نیشنل پریس کلبز کنوینشن، کے موضوع پر بلائے گئے اس کنوینشن کا بنیادی مقصد ملک میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے نظام کے بارے میں آگہی تھا لیکن کنوینشن میں وزیراعظم سمیت بیشتر مقررین نے موضوع کے بارے میں تو برائے نام ہی ذکر کیا اور دیگر موضوعات پر زیادہ باتیں کیں۔ کنوینشن میں شریک صحافیوں نے اس موقعہ پر اخباری کارکنان کے اجرتوں کے تعین کے ایوارڈ ’ویج ایواڈ، کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے زوردار نعرے بازی بھی کی۔ جس پر وزیراعظم نے ہاتھ ہلاتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ ایک موقعہ پر جب وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کہا کہ سیکریٹری اطلاعات ملک سے باہر ہیں لہٰذا کابینہ کے آئندہ اجلاس میں قومی اسمبلی سے پاس کردہ قرارداد پیش نہیں ہو سکے گی۔ جس پر وزیراعظم نے انہیں کہا کہ سیکریٹری نہیں ہے تو کیا ہوا ایڈیشنل سیکریٹری موجود ہے ، انہیں کہیں کہ سمری پیش کریں۔ وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ اٹھارہ اگست تک عہدے پر ہیں اور جو کچھ کرانا ہے کرالیں ۔ واضح رہے کہ اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت اخبارات کو سرکاری اشتہارات کا اجراء ویج ایوارڈ پر عمل درآمد سے مشروط کرے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اور موجودہ پارلیمانی نظام صدر جنرل پرویز مشرف کے دیے ہوئے ہیں اور ان کے بقول کوئی انہیں ختم نہیں کرسکتا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہتک عزت کے قوانین میں تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ البتہ وہ بتا رہے تھے کہ الزام تراشی کرنے اور جھوٹے الزامات لگانے والوں کے خلاف مجوزہ قانون میں دیوانی عدالت کے بجائے براہ راست اعلیٰ عدالتوں میں دعویٰ داخل کرنے کا حق دینے کے بارے میں غور کیا جائے گا۔ چودھری شجاعت حسین نے بیرون ملک بیٹھے ہوئے ایسے سیاستدان جو ان کے بقول ٹیڑھے منہ سے انگریزی بولتے ہوئے پاکستان پر الزامات لگا تے ہیں انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ان کے خلاف اس مجوزہ قانون کے تحت کاروائی ہوگی۔ وزیراطلاعات شیخ رشید خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ان کی وزارت شروع دن سے ہی اخباری مالکان کے آگے دبی ہوئی تھی لیکن ان کے مطابق انہوں نے مالکان سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اخباری ملازمین کے حقوق کی بات کی ہے۔ جس پر ان کے بقول اخباری مالکان ان کے شدید خلاف ہوگئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اخباری مالکان اشتہارات کے علاوہ صحافیوں کے کوٹے کے پلاٹ بھی لے لیتے ہیں۔ اس موقعہ پر مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین نے جمہوری اور سیاسی کلچر کو بہتر بنانے میں میڈیا کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||