گجرات کے چودھری اور ملکی سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کل پنجاب کے ضلع گجرات کے گاؤں نت سے تعلق رکھنے والے چودھری خاندان کا ستارہ اپنے عروج پر ہے۔ یہ خاندان جو کئی سال تک ملک کے صرف ایک صوبے میں اقتدار حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرتا رہا اب ملک بھر کی سیاسی قوت کا گڑھ بن چکا ہے۔ چودھریوں نے پہلے میاں اظہر کو سیاسی میدان سے باہر کیا اب میر ظفراللہ جمالی کو چلتا کیا۔ آئیے دیکھتے ہیں یہ چودھری ہیں کون اور ان کا ملکی سیاست میں کیا کردار رہا ہے؟ ایک عام روایت کے مطابق چودھری خاندان کی سیاسی اور صنعتی سلطنت کے بانی چودھری ظہور الٰہی قیام پاکستان سے پہلے پولیس میں ایک عام ملازم تھے لیکن جب انہوں نے سن انیس سو اڑتالیس میں فیصل آباد میں ایک کپڑے کا کارخانہ خریدا تو چودھری خاندان کے دن پھر گئے۔ چودھری ظہور الٰہی نے پچاس کی دہائی میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور جنرل ایوب کے دور تک وہ اتنی اہمیت اختیار کر چکے تھے کہ کنونشن مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے سیکریٹری چنے گئے۔اس وقت سیاست میں نووارد ذوالفقار علی بھٹو اس سیاسی پارٹی کے جنرل سیکریٹری تھے۔
سن انیس سو ستر کے عام انتخابات میں چودھری ظہور الٰہی نے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور وہ ان سولہ ارکان اسمبلی میں سے ایک تھے جنہوں نے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی چودھری ظہور الٰہی زیر عتاب رہے اور ایک موقع پر ان کو بھینس چوری کی مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔سن انیسں سو ستتر میں مارشل لاء کے نفاذ کے ساتھ ہی انہیں رہا کر دیا گیا اور ان کی رہائش گاہ قومی اتحاد کے اجلاسوں کا ایک مرکز بن گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جب عبوری کابینہ تشکیل دی گئی تو اس وقت تک مسلم لیگ دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ایک دھڑے کے سربراہ پیر پگاڑا تھے جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت محمد حسین چٹھہ کے پاس تھی۔ چٹھہ گروپ نے سب سے پہلے وزارتیں قبول کیں اور اس میں شامل چودھری ظہور الٰہی وفاقی وزیر بن گئے۔ وزیر بننے کے کچھ عرصہ بعد وہ ہلاک کر دیےگئے اور قتل کا الزام الذولفقار تنظیم پر لگایا گیا۔ اپنے والد کے قتل کے بعد چودھری شجاعت کو وفاقی وزیر صنعت بنا دیا گیا اور اپنے وزارت کے دور میں انہوں نے اپنے خاندان کو مالی لحاظ سے بہت مضبوط کیا۔
چودھری پرویز الٰہی نے ایک صوبائی حلقے سے کامیابی حاصل کی اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے امیدوار بنے۔ لیکن قسمت نے نواز شریف کا ساتھ دیا اور چودھری خاندان کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ سن انیس سو چھیاسی میں چوہدری خاندان نے نواز شریف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی کوشش کی۔ شروع میں فوجی حکمران ضیاء الحق اور مسلم لیگ کے صدر پیر پگارا نے انہیں آشیر باد دیا لیکن بعد میں دونوں پیچھے ہٹ گئے اور یہ تحریک کامیاب نہ ہو سکی۔ جب مسلم لیگ پھر دو دھڑوں میں تقسیم ہوئی تو چودھری خاندان نے جونیجو کا ساتھ دیا۔ سن انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی دونوں اپنی اپنی نشستیں جیت گئے اور پرویز الٰہی کو پنجاب میں وزیر بلدیات بنا دیا گیا۔ چودھری پرویز الٰہی کو وزارت دیئے جانے کے باوجود چوہدری خاندان اور شریف خاندان کے اختلافات برقرار رہے۔ مگر یہ اختلافات پیپلز ہارٹی کی مخالفت کے مشترکہ مقصد کی وجہ سے دبے رہے۔ سن انیس سو نوے میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت میں چوہدری شجاعت وفاقی وزیر داخلہ اور پرویز الٰہی صوبائی وزیر بلدیات بن گئے۔ وزیر بلدیات کے طور پر چوہدری پرویز الٰہی نے مختلف اضلاع میں اپنے رابطے مضبوط کئے۔
سن انیس سو ترانوے میں چوہدری شجاعت قومی اسمبلی کے حلقے سے ہار گئے لیکن وہ بعد میں سینیٹر منتخب ہو گئے۔ اس تین سالہ دور میں چوہدری خاندان کو متعدد انکوائریوں کا سامنا کرنا پڑا اور چوہدری پرویز الٰہی کو ایف آئی اے نے گرفتار بھی کیا۔ سن انیس سو ستانوے میں ہونے والے انتخابات میں چوہدری گجرات سے اپنی روایتی نشستیں جیت گئے۔ شجاعت حسین کو وزیر داخلہ کا قلمدان ملا لیکن پرویز الٰہی کو اس دفعہ صوبائی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے پر اکتفا کرنا پڑا۔گیس چوری کے ایک مقدمہ میں پرویز الٰہی کے والد کی گرفتاری کا بھی چوہدری خاندان کو بہت رنج ہوا لیکن پھر بھی معاملات دبے رہے۔ جنرل مشرف نے جب مسلم لیگ حکومت کا خاتمہ کیا تو شروع میں چودھری خاندان کے خلاف ایف آئی اے کی انکوائریوں کا ذکر متعدد مواقع پر سننے میں آیا۔ لیکن جنرل مشرف کےگجرات سے تعلق رکھنے والے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز نے چوہدری خاندان اور فوجی حکمران کو قریب لانے میں ایک پل کا کردار ادا کیا اور پھر انکوائریوں سے متعلق تمام ’افواہیں‘ دم توڑ گئیں۔ سن دو ہزار دو میں ہونے والے عام انتخابات میں میاں اظہر کی شکست کے بعد پارٹی معاملات میں چودھری خاندان کی گرفت بہت مضبوط ہوگئی۔ اقتدار کے سلسلے میں چودھریوں نے صرف پنجاب کر اکتفا کیا مگر اسی وجہ سے مرکز میں بادشاہ گر بن گئے۔ انتخابات کے بعد جب اپوزیشن پارٹیوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ میاں اظہر کی شکست کے بعد ق لیگ کے پاس وزیراعظم کے عہدے کے لیے کوئی موزوں امیدوار نہیں ہے تو چودھری برادران میر ظفر اللہ جمالی کا نام سامنے لے آئے۔ بعد میں جب جمالی وزیراعظم بنے تو سیاسی حلقوں کویہی توقع تھی کہ وہ فوجی جنتا کے ساتھ ساتھ پارٹی امور میں بھی فری ہینڈ چاہتے ہیں۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنی اتحادی جماعتوں کو مسلم لیگ میں ضم کرنے کی حمایت کی تاکہ پارٹی میں چودھریوں کے اثرورسوخ کو کم کیا جاسکے۔ لیکن سیاسی مبصرین کے مطابق چودھریوں نے مشاہد حسین کو مسلم لیگ کا سیکرٹری جنرل بنا کر نہ صرف ان کا یہ وار ناکام بنا دیا بلکہ کھلے عام جمالی کی مخالفت شروع کر دی۔ مبصرین کے مطابق میر ظفر اللہ جمالی اور چودھریوں کے درمیان تازہ ترین اختلافات کی وجہ کابینہ کی توسیع کے سلسلے میں پائے جانے والے اختلافات تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||