’میرے خلاف سازش نہیں ہو رہی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ ان کے خلاف کوئی سازش نہیں ہورہی اور حکمران مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز پارلیمینٹ ہاؤس میں قائم اپنے چیمبر میں پریس کانفرنس کے دوران مختلف سوالات کے جواب میں کہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین لیڈر ہیں اور پارٹی کی قیادت اچھے ہاتھوں میں ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی جماعت کے کچھ اراکین اسمبلی نے انہیں پارٹی قیادت سنبھالنے کی تجویز دی تھی اور وقت بوقت انہیں مختلف ’آئیڈیاز‘ یا مشورے ملتے رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل حکومت کی حامی خاتون رکن اسمبلی خورشید افغان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب سے شوکت عزیز وزیراعظم بنے ہیں اس وقت سے بارہا کورم ٹوٹا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ یہ ان کے خلاف ایک سازش ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے کھل کر تمام سوالات کے جواب دیے اور کہا کہ بلدیاتی انتخابات نچلی سطح پر ہوتے ہیں اور گھرگھراس میں شامل ہوتا ہے۔ اس لیے ان کے مطابق ناظمین کی نامزدگی کے معاملے پر حکمران جماعت میں کچھ رہنماؤں میں اختلاف رائے ہے۔ وزیراعظم نے نیویارک میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ کے درمیان ملاقات کو ناکام قرار دینے کے تاثر کو مسترد کیا اور کہا کہ اس میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے پیش رفت کی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن اتنا کہا کہ ’ایسی ہر ملاقات میں پیش رفت ہوتی ہے لیکن مسائل پیچیدہ ہیں اور ان کے حل میں دیر لگتی ہے، ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری جامع مذاکرات کا عمل قدم بقدم اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کوئی تلخی نہیں ہے لیکن بعض امور پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کچھ دیر قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں مخدوم امین فہیم، لیاقت بلوچ اور حافظ حسین احمد سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر ان سے تلخی ہوتی تو ملاقات ہی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں کورم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق کچھ اراکین بلدیاتی انتخابات میں مصروف تھے اور آئندہ معاملات ٹھیک چلیں گے۔ انہوں نے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کرانے اور مالیاتی وسائل کی تقسیم کے بارے میں ’این ایف سی ایوارڈ‘ دینے کے بارے میں سوالات پر کہا کہ دونوں معاملے جلد حل کرلیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ خواتین پر تشدد کے واقعات کی تعداد دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں کم ہیں لیکن بدنامی زیادہ ہے۔ انہوں نے خواتین پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے واقعات کا فوری نوٹس لیتی ہے۔ انہوں نے زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین کو سراہا اور کہا کہ اس سے معاشرے میں بہتری پیدا ہوگی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم یا ان سے تجارت پر عائد پابندی اس وقت ختم ہوگی جب فلسطین کی آزاد ریاست کا قیام عمل میں آئے گا۔ بعد میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے وزیراعظم سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ان کے مطابق ہونے والی ریکارڈ دھاندلیوں کے متعلق آگاہ کیا۔ دریں اثناء جمعہ کو سینیٹ کے اجلاس میں چیئرمین کی غیر موجودگی میں اجلاس کی صدارت کے سوال پر حزب اختلاف کا جاری احتجاج ختم نہیں ہوا۔ حزب مخالف کے اراکین نے حسب معمول ڈیسک بجائے اور نعرے لگاتے ہوئے کارروائی کو غیرقانونی قرار دیا۔ ادھر قومی اسمبلی کا اجلاس بھی جمعہ کو سینیٹ کے ساتھ ساتھ جاری رہا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||