ناظمین کی نامزدگی میں دشواری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں حکمران جماعت کو ضلعی ناظمین کے امیدواروں کی نامزدگی میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کی اتحادی پیر پگارا کی جماعت نے سکھر اور شکارپور میں اضلاع میں حکمران جماعت کے امیدواروں کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ان کے سامنے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اسی طرح میرپور خاص اور ٹنڈو الہ یار میں بھی حکمران جماعت نے ابھی تک فنکشنل مسلم لیگ کی حمایتی امیدوار سابق وزیرِاعظم محمد خان جونیجو کی صاحبزادی فضّہ جونیجو اور راحیلہ مگسی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے۔ شکارپور اور سکھر میں پیر پگارا نے پاکستان پیپلز پارٹی سے اتحاد کر لیا ہے۔ شکارپور میں حکمران جماعت نے وفاقی وزیر غوث بخش مہر کے فرزند عارب مہر کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ وہ پہلے بھی ضلع ناظم رہے چکے ہیں جبکہ سکھر میں ناصر شاہ حکمران جماعت کے امیدوار ہیں جو سابق بلدیاتی انتخابات میں عوام دوست پینل سے ضلع ناظم کی نشست پر کامیاب ہوئے تھے۔ عوام دوست اور فقیر دوست پینل کے مشترکہ امیدوار کے لیے میرپورخاص میں بھی کوشش کی جاری ہے۔ بلدیاتی انتخابات سے قبل ہی پیر پگارا نے صوبائی حکومت کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کیا تھا جس کے بعد صدر پرویز مشرف نے ان سے کراچی میں خصوصی طور ملاقات کی تھی۔ وزیرِاعلیٰ ارباب غلام رحیم نے ہفتے کی شب خوشحال پاکستان، فقیر دوست پینل (فنکشنل مسلم لیگ) اور پی پی پی پٹریاٹ کے گروپوں سے مذاکرات کیے جس میں ضلعی ناظمین کے امیدواروں پر غور کیا گیا مگر اجلاس میں تمام اضلاع کے امیدواروں کا حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ بدین کے لیے خوشحال پاکستان اور فقیر دوست پینل کے انور ہالیپوتو، نوشہرو فیروز کے لیے خوشحال پاکستان کے عاقب جتوئی، ٹھٹہ کے لیے خوشحال پاکستان کے شفقت شاہ شیرازی، دادو کے لیے وفاقی وزیر لیاقت علی جتوئی کے فرزند کریم جتوئی، عمرکوٹ کے لیے فقیر دوست پینل کے فقیر مگھن منگریو، خیرپور کے لیے فقیر دوست پینل کے نیاز حسین شاہ امیدوار ہوں گے۔ سانگھڑ میں فقیر دوست پینل کے خدا بخش راجڑ جبکہ تھرپارکر کے لیے خوشحال پاکستان کے ارباب انور اور جیکب آباد کے لیے خوشحال پاکستان کی بیگم سعیدہ سومرو امیدوار ہوں گیں۔ وزیرِاعلیٰ سندھ نے کہا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھےاور بالخصوص برادری کی بنیاد پر اور ان میں ذاتی اثر و رسوخ بھی استعمال ہوا ہے۔ دیگر اضلاع کے امیدواروں کے بارے میں ارباب رحیم نے کہا کہ ان کا اعلان بھی جلد کیا جائیگا اور حکومت اتحادی جماعتوں کے قائدین کے مشوروں سے امیدواروں کو آخری شکل دے رہی ہے۔ کراچی میں سٹی ناظم اور دیگر امیدواروں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کو مینڈیٹ حاصل ہے اور انہیں فری ہینڈ دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مسلم لیگی رہنما چودھری شجاعت اور مشاہد حسین ان سے گفتگو کر رہے ہیں۔ فنکشنل مسلم لیگ کے رہنما اور پیر پگارا کے صاحبزادے پیر صدرالدین شاہ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات لڑنے کا ہر کسی کو جمہوری حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو برادری نامزد کرتی ہے تو وہ اس کا حق ہے۔ابھی نامزدگی فارم جمع نہیں ہوئے اس لیے معاملات طے پائے جاسکتے ہیں۔ اس سوال پر کہ اگر حکومت اور فنکشنل لیگ کے معاملات طے نہ پائے تو، انہوں نے کہا کہ یہ بلدیاتی انتخابات ہیں۔ میدان کھلا ہے۔دوستوں کو دوست اور پارٹی والوں کو پارٹی والے ووٹ دینگے۔ اس سے صوبائی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں صرف ضلع سانگھڑ میں فنکشنل مسلم لیگ کی حکومت بن سکی تھی اور جس کی حمایت سے بھی بعدازاں پیرپگارا نے ہاتھ کھینچ لیا تھا جبکہ موجودہ انتخابات میں فقیر دوست پینل بدین، عمرکوٹ، سانگھڑ، ٹنڈو الہ یار، سکھر، خیرپور اور شکارپور میں ضلعی حکومت بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم بھی کراچی اور حیدرآباد کے سٹی ناظمین کے امیدوار نامزد نہیں کر سکی ہے۔ کچھ دن قبل نائن زیرو میں ہونے والے ایک اجلاس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ تنظیم سے باہر کا امیدوار قابل قبول نہیں ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ صدر مشرف کراچی کے سٹی ناظم کے طور پر اس شخص کو لانا چاہتے ہیں جو غیر متنازع اور سب کے لیے قابل قبول ہو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||