اسناد پر عدالت کا تفصیلی فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دینی مدارس کی اسناد کی بنیاد پر الیکشن لڑنے کو غیر قانونی قرار دینے کے بارے میں سپریم کورٹ نے پیر کے روز اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے اپنے تفصیلی حکم میں کہا ہے کہ صرف ان دینی مدرسوں کی سندیں قابل قبول ہوں گی جو اعلٰی تعلیم کے کمیشن سے منظور شدہ ہوں اور یہ سندیں میٹرک کے مساوی اس وقت سمجھی جائیں گی جب متعلقہ طالبعلم نے کسی بورڈ سے انگلش، اردو اور مطالعہ پاکستان کے لازمی مضامین پاس کیے ہوں۔ عدالت نے یہ فیصلہ خوشاب سے یونین کونسل کے امیدوار اسد سعید، لاہور سے مولوی محمد ادریس اور دوسرے امیدواروں کی دائر کردہ رٹ درخواستوں پر دیا ہے۔ عدالت نے سولہ اگست کو اپنا مختصر حکم جاری کیا تھا جس کا تفصیلی فیصلہ انتیس اگست کو جاری گیا ہے۔ واضح رہے کہ چار اگست کو سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے اس طرح کے معاملے کے بارے میں عبوری حکم جاری کیا تھا جس کے تحت مدارس کی اسناد رکھنے والوں کو بلدیاتی انتخابات لڑنے کی اجازت دی تھی تاہم اس بینچ نے کہا تھا کہ حتمی فیصلہ بعد میں ہوگا۔ سپریم کورٹ کے ایسے فیصلے کی موجودگی کے باوجود بھی عین وقت پر چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے اس کے برعکس فیصلہ دے دیا تھا اور اس لحاظ سے پندرہ روز میں ایک ہی عدالت کے ایک ہی موضوع پر دو مختلف فیصلے سامنے آئے تھے۔ سپریم کورٹ کے ان فیصلوں سے قبل مدارس کی سندیں رکھنے والے افراد کے انتخاب لڑنے کے بارے میں دو ہائی کورٹوں نے بھی متضاد فیصلے دیے تھے۔ لاہور ہائیکورٹ نے تین اگست کے فیصلے میں مدرسوں کی سند کی بنیاد پر انتخابات لڑنے والوں کو نااہل جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے آٹھ اگست کے فیصلے میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انہیں اہل قرار دے دیا تھا۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے اس تفصیلی فیصلے کے بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ درست تھا اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کی وہ دلیل درست تسلیم کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دینی مدرسو ں کی سندیں صرف اور صرف درس و تدریس کے مقصد کےلیے میٹرک یا بی اے کے برابر ہیں اور انتخاب لڑنے کے لیے منظور شدہ دینی مدارس کی اسناد کے باوجود بھی یہ لازم ہے کہ متعلقہ افراد انگلش، اردو اور مطالعہ پاکستان کے مضامین پاس کریں۔ اٹارنی جنرل نے دوران سماعت عدالت میں کہا تھا کہ جب کوئی شخص میٹرک پاس ہی نہیں تو شہادت العالمیہ کی سند کو بی اے یا ایم اے کے مساوی کیسے مانا جاسکتا ہے؟ مخدوم علی خان نے عدالت عظمی میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پانچ دینی وفاق ایسے ہیں جن کو اعلٰی تعلیمی کمیشن نے سندیں دینےکا اختیار دیا ہے اور انہیں تین لازمی مضامین پاس کرنے کے بعد میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے۔ دینی مدارس کی اسناد کو درست قرار دیے جانے کے حق میں دلائل پیش کرنے والے وکلاء نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے انتیس جولائی کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں پارلیمینٹ کی نشستوں کے لیے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے دینی مدرسوں کی سندوں کو تسلیم کیا گیا ہے تو اب بلدیاتی انتخاب میں اس پر قدغن کیسے لگائی جاسکتی ہے۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے وکلائے صفائی کی اس دلیل کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ مقدمہ بلدیاتی انتخابات کے بارے میں ہے اس لیے وہ پارلیمان کے معاملے میں فیصلہ فی الوقت نہیں کرسکتے۔ تاہم عدالت نے کہا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے متعلقہ نوٹیفکیشن کا مناسب وقت پر جائزہ لیں گے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ دینی مدارس کی سندوں کو میٹرک سے ماسٹرز تک کی ڈگریوں کے مساوی قرار دینے کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے مدارس کو سفارش کی تھی کہ انگریزی، مطالعہ پاکستان اور اردو کے مضامین مدارس اپنے نصاب میں شامل کریں لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ اس فیصلے کے بعد جب الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ابھی اس فیصلے کے قانونی پہلووں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس کے بعد ہی وہ کچھ کہہ پائیں گے۔ واضح رہے کہ پارلیمینٹ میں متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے ستر سے زیادہ ارکان دینی مدرسوں سے فارغ التحصیل ہیں اور مدرسوں کی سندوں کی بنیاد پر ایوانوں میں پہنچے ہیں۔ اس فیصلے نے ان کے مستقبل کے بارے میں بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||