صوبہ سرحد:مدارس قوانین مزید سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے گورنر نے بدھ کو صوبہ میں دینی مدارس کے اندراج سے متعلق ایک ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا ہے جس کے تحت مدارس کے قیام اور انہیں چلانے کے عمل کو مزید دشوار بنا دیا گیا ہے۔ شمال مغربی صوبہ سوسائٹیز (ترمیمی) آرڈیننس2005ء کے نام سے جاری اس نئے قانون میں سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860ء میں ایک نئی شق کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پشاور میں جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق اس ترمیم کے ذریعے صوبہ میں کسی بھی دینی مدرسے کو اس وقت تک نہ تو قیام کی اجازت دی جائے گی اور نہ ہی کام کرنے دیا جائے گا جب تک مذکورہ ایکٹ کے تحت وضع کردہ شرائط کے ساتھ ساتھ مذکورہ ترمیم کے تحت اس کا اندراج نہ کرا لیا جائے۔ اس نئی ترمیم کے تحت ہر دینی مدرسہ اپنی سرگرمیوں اور کارکردگی کی سالانہ رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کا پابند ہوگا۔ اسی طرح ہر مدرسہ اپنی حقیقی آمدن اور اخراجات کا حساب کتاب رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا آڈٹ کرانے اور آڈٹ شدہ رپورٹ بھی رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کا اہتمام کرے گا۔ اس نئے قانون میں مدارس کے لیے یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی نوعیت کا مواد شائع نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کی تعلیم دیں گے جس سے انتہا پسندی کو فروغ ملتا ہو یا فرقہ ورانہ یا مذہبی نفرت پھیلے۔ لندن بم دھماکوں کے بعد سے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں دینی مدارس پر تنقید کی جانے لگی تھی۔ حکومت نے بھی اس کے بعد ایک مرتبہ پھر مدارس کے اندراج اور ان میں اصلاحات کی کوششیں شروع کیں اور یہ تازہ قانون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن کئی مبصرین کے خیال میں پاکستان میں قانون بنانے سے ذیادہ اس پرعمل درآمد کا مسئلہ ہوتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||