ناظمین کےانتخاب میں التواء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نےضلع، تحصیل اور ٹاؤن ناظمین کےانتخابات کے شیڈول پر نظر ثانی کرتے ہوئے پولنگ کی تاریخ میں ایک ہفتے کی توسیع کردی ہے۔ الیکشن کمیشن کے پہلے سے جاری کردہ شیڈول کےمطابق انتیس ستمبر کو پولنگ ہونی تھی لیکن اب نئی تاریخ چھ اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ نئے شیڈول کے مطابق ضلع، تحصیل اور ٹاؤن کے ناظمین، ان سطحوں پر خواتین، اقلیت اور کسانوں کے لیےمختص نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی دس ستمبر کو جاری کیے جائیں گے اور وصولی بارہ ستمبر سے ہوگی۔ الیکشن کمیشن سے جاری ہونے والے بیان میں شیڈول پر نظر ثانی کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں پولنگ اٹھائیس اگست کو منعقد ہوئی اور اس کا نتیجہ دو ستمبر کو جاری ہوگا۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ کئی یونین کونسلز کی مختلف پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ ہونی ہے اور ان کے نتائج تین ستمبر تک متوقع ہیں اس لیے ضلع اور تحصیل ناظمین کے انتخاب میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے پیش کردہ عذر اپنی جگہ لیکن کچھ سیاسی مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ضلع ناظمین کے انتخاب میں تقریبا ایک ہفتے کی تاخیر سے سیاسی جوڑ توڑ کے لیے فریقین کو وقت مل جائے گا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں اس کا زیادہ تر فائدہ حکومت کو پہنچے گا۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے چاروں صوبوں میں حکومتی اتحاد کے حامی امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دینے کے سوال پر مختلف الخیال حکومتی جماعتوں میں خاصا اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور اس توسیعی مدت سے انہیں غور کے لیے وقت مل جائے گا۔ ادھر الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پچیس اگست کو دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں ملک کے چون اضلاع کی 2974 یونین کونسلز میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے حتمی اور سرکاری نتائج جاری کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سرکاری نتائج جاری کرنے کا نوٹیفکیشن تو جاری کردیا ہے لیکن وہ گزٹ جس میں نتائج کی تفصیلات ہیں تاحال جاری نہیں کیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||