انتخابی تشدد: 9 ہلاک 100 زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اندرون سندھ میں انتخابات کے دوران مختلف پولنگ سٹیشنوں پر تصادم کے دوران چھ افراد ہلاک جبکہ اکیاون سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ پنجاب میں بھی تشدد کے کئی واقعات کی اطلاع ہے جن میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ سندھ میں کئی جگہوں پر تصادم کے بعد پولنگ روک دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دادو کے ڈی پی او سمیت پنتالیس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حیدرآباد کے نواحی علاقے ٹنڈو جام کی یونین کونسل حاجی سانول میں عوام دوست اور حکومتی حمایت یافتہ مگسی گروپ کے حمایتیوں میں تصادم ہوگیا جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ مگسی گروپ نےالزام لگایا ہے کہ متوفی چوٹ لگنے سے ہلاک ہوا ہے جبکہ عوام دوست کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوا ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولنگ بند کر دی گئی اور لوگ واپس اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔ مگسی اتحاد کے حمایتیوں نے سڑک پر پتھراؤ بھی کیا ہے۔ حیدرآباد میں زبیدہ گرلز کالج کے پولنگ اسٹیشن پر ایم کیو ایم اور پی پی کے حامیوں کے درمیان جھگڑے کے بعد پی پی کے حامیوں نے جیل روڈ پر مظاہرہ کیا۔ خیرپور کی تحصیل ٹھری میرواہ میں امیدواروں کے حمایتیوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں عوام دوست گروپ کے ایک حامی شرل سیال ہلاک ہو گئے جبکہ اس جھگڑے میں پانچ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ خیرپور کی سابقہ ضلعی ناظمہ نفیسہ شاہ نے کہا کہ ’ ہمارا حمایتی ہلاک ہوا ہے اور پولیس نے ہمارے ہی لوگوں کوگرفتار کر لیا ہے‘۔ خیرپور ضلع کے ہی کوٹ ڈیجی کے علاقے میں پی پی اور حکومت کے حامیوں کے درمیاں جھگڑے میں سترہ افراد زخمی ہوگئے۔ یونین کونسل محبت واہ اور فقیر جلالانی میں جھگڑے کے نتیجے میں میں کچھ دیر کے لیے پولنگ معطل رہی۔ پولیس نے اس سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ لاڑکانہ کے قصبے عاقل میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ گاد قبیلے کے لوگ ووٹ دینے کے لیے پولنگ اسٹیشن پر آرہے تھے تو رستے میں چھپے ہوئے مسلح افراد نے ان پر حملہ کردیا جس سے چار افراد علی گوہر، سکندر، محمد ملوک اور سلیمان ہلاک ہوگئے۔ مرنے والے افراد کا تعلق گاد قبیلے سے ہے۔ یاد رہے کہ علاقے میں گزشتہ کافی عرصے سے کھڑا اور گاد قبائل میں تنازع چل رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد فوج نے علاقے کو گھیر لیا ہے۔ نوابشاہ شہر میں پولنگ اسٹیشن پر تصادم کے بعد رینجرز نے ایم پی اے طارق مسعود آرائیں کو حراست میں لے لیا ہے۔ طارق مسعود کا کہنا تھا ’ زیادتی بھی ہم سے ہوئی ہے اور گرفتار بھی ہمیں ہی کیا جا رہا ہے‘۔ دادو میں انتخابات میں مداخلت کے الزام میں ڈی پی او تفتیش ٹیپو سلطان کو رینجرز نےحراست میں لے لیا ہے اور انہیں ضلعی اسمبلی کے ہال میں نظر بند کیا گیا ہے۔ٹیپو سلطان نےاپنی نظر بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس کی وجہ معلوم نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ان پر عوام دوست گروپ نے وفاقی وزیر لیاقت جتوئی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ سکھر میں بیلٹ پیپر پر ایک امیدوار کا انتخابی نشان نہ ہونے پر اس کے حامیوں نے پولنگ عملے کو یرغمال بنا لیا اور پولنگ اسٹیشن کے اندر توڑ پھوڑ کی۔ رینجرز اور پولیس نے پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا اور دس افراد کو گرفتار کر لیا۔ ہالا میں گرلز اسکول میں عورتوں کے ایک پولنگ سٹیشن پر تصادم ہوگیا جس میں چھ سے زائد لوگ زخمی ہوگئے۔ تصادم کے بعد مخدوم امین فہیم کے چھوٹے بھائی مخدوم رفیق اور بیٹے مخدوم جمیل موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے مذاکرات کر کے پولنگ دوبارہ شروع کروائی۔ ٹنڈو محمد خان میں کشیدگی کے بعد سبھاگو فقیر پولنگ اسٹیشن پر پولنگ بند کردی گئی جبکہ بلڑی شاہ کریم میں تصادم میں پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔ میہڑ،جامشورو، بدین اور حیدرآباد میں بھی تصادم اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں جس میں آٹھ سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||