BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 August, 2005, 09:32 GMT 14:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کام تین دن، الاؤنس سات دن

قومی اسمبلی
ہر پارلیمانی سال میں کم از کم130دن قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا لازمی ہے۔
قومی اسمبلی کی کاروباری کمیٹی میں حکومت اور حزب اختلاف نے طے کیا ہے کہ ہر ہفتے تین روز یعنی پیر، منگل اور جمعہ کو اجلاس ہوا کرے گا۔

اس فیصلے سے جہاں اراکین اسمبلی کو ہفتے کے سات دنوں کے الاؤنسز ملتے رہیں گے وہاں درمیان والے دن بھی اجلاس منعقد کرنے میں شمار ہو سکیں گے۔ واضح رہے کہ ایک دن کے اجلاس منعقد کرنے پر حکومت کو لاکھوں روپوں کے اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

قانونی طور پر ہر پارلیمانی سال میں کم از کم ایک سو تیس دن قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا لازمی ہے۔ رواں پارلیمانی سال نومبر میں ختم ہوگا، اور اس دوران چھپن دن اجلاس ہونا لازمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مطلوبہ دن پورے کرنے کے لیے ایسا کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو شروع ہونے والا ستائیس واں اجلاس بائیس ستمبر کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کیا جائے گا تاکہ اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں جاسکیں اور انتیس ستمبر کو بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں ضلع اور تحصیل ناظمین کے انتخابات میں اپنے حامیوں کے لیے کام کرسکیں۔

تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے بارے میں بحث کے دوران حکومتی اراکین کی تعداد خاصی کم تھی۔

حسب معمول حزب اختلاف کے اراکین نے بحث کے دوران دھاندلی کے سوال پر صدر جنرل پرویز مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز اور الیکشن کمیشن پر کڑی نکتہ چینی کی جبکہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے ہوئے بعض اراکین نے ان کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف والے محض الزامات لگا رہے ہیں اور انہیں اب نتائج تسلیم کرلینے چاہیے۔

علاوہ ازیں منگل کے روز پاکستان کی قومی اسمبلی میں اس وقت عجیب صورتحال پیدا ہوئی جب سپیکر کی کرسی الٹی اور ڈپٹی سپیکر سر کے بل گرتے گرتے بچ گئے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈپٹی سپیکر سردار محمد یعقوب کرسی صدارت پر موجود تھے کہ اچانک سپیکر چودھری امیر حسین خود صدارت کرنے ایوان میں پہنچے اور جیسے ہی ڈپٹی سپیکر نے اٹھتے ہوئے ’روالونگ چیئر، پیچھے کی تو کرسی الٹ کر گر گئی لیکن ڈپٹی سپیکر گرنے سے بال بال بچ گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد