پاکستان کو5.8 ارب ڈالر کی امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے اعلان کیا ہے کہ زلزلہ زدگاں کی بحالی اور متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے عالمی امدادی کانفرنس میں قرضوں اور گرانٹ کی صورت میں پانچ ارب اسّی کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کو پانچ ارب بیس کروڑ ڈالر درکار تھے لیکن دنیا کے مختلف امدادی ممالک اور اداروں نے مطلوبہ رقم سے ساٹھ کروڑ ڈالر زیادہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اعلان کردہ پانچ ارب اسّی کروڑ ڈالر میں سے تین ارب نوے کروڑ آسان شرائط پر قرضوں کی صورت میں اور ایک ارب نوے کروڑ گرانٹ کی شکل میں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ایشیائی اور عالمی بینک نے ایک ایک ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے لیکن ان کی گرانٹ ترتیب وار آٹھ کروڑ اور پچاس لاکھ ڈالر ہے۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے پچاس کروڑ ڈالر سے زیادہ اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے ساڑھے سینتیس کروڑ ڈالر قرضوں کی صورت میں دینے کی پیشکش کی ہے۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ مجموعی طور پر تقریبا ساڑھے ستائیس کروڑ ڈالر کا امدادی سامان اور مختلف اشیاء امدادی اداروں کو دے چکے ہیں لیکن انہوں نےگیارہ کروڑ ڈالر مزید گرانٹ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے مجموعی طور پر پچاس کروڑ ڈالر زلزلہ زدگان کے لیے مختلف امدادی کاموں کے لیے منظور کیے ہیں جبکہ دس کروڑ ڈالر نقد بھی دیں گے۔ برطانیہ نے بارہ کروڑ ڈالر مزید دینے کا اعلان کیا ہے۔
جرمنی نے بتایا کہ وہ مجموعی طور پر ساڑھے پندرہ کروڑ ڈالر سے زیادہ امداد دے رہا ہے جس میں سے دس کروڑ گرانٹ کی صورت میں ہے۔ فرانس نے ایک کروڑ تیس لاکھ ڈالر مزید دینے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ ترکی نے بتایا کہ وہ تیس لاکھ ڈالر امدادی اداروں کو دیے ہیں، چار کروڑ ڈالر کا امدادی سامان لایا گیا ہے اور پندرہ کروڑ ڈالر مزید نقد دے گا۔ بھارت نے نئی امداد دینے کا تو کوئی اعلان نہیں کیا البتہ اس نے بتایا ہے کہ وہ جنیوا کانفرنس میں اقوام متحدہ کی اپیل پر ڈھائی کروڑ دے چکا ہے جبکہ پاکستان کو بھیجے گئے امدادی سامان کی مالیت اس سے علیحدہ ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے دنیا کے پچھتر ممالک اور امدادی اداروں کے وفود کے فراخ دلانہ اعلانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس دکھ کی گھڑی میں مدد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی امدادی ممالک اور اداروں نے توقعات سے زیادہ امداد دینے کے اعلانات کیے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ دنیا نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے بڑا احترام کیا ہے جسے وہ کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔
کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے بعد اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل تو چلے گئے لیکن صدر اور وزیراعظم موجود رہے۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے دوسرے سیشن کی کارروائی خود چلائی اور دنیا کے مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے نمائندوں سے امداد کے بارے میں اعلانات کروائے۔ | اسی بارے میں ’ کشمیر کا حل، بہتر بھارتی امداد‘19 November, 2005 | پاکستان ’بہترین بھارتی امداد تنازعہ کشمیر کا حل ہے‘19 November, 2005 | پاکستان ڈونر کانفرنس ایک امتحان ہے: آکسفیم18 November, 2005 | پاکستان عنان کا دورہ، مارچ کی اجازت نہیں18 November, 2005 | پاکستان ’امید ہے مایوسی نہیں ہوگی‘18 November, 2005 | پاکستان ’650 افرادکےاعضاء کاٹے جا چکے ہیں‘17 November, 2005 | پاکستان کچھ کشمیری ایل او سی پار کریں گے17 November, 2005 | پاکستان صدر مشرف کو صدر بش کا فون17 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||