BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 November, 2005, 20:18 GMT 01:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’650 افرادکےاعضاء کاٹے جا چکے ہیں‘

زخمی بچہ
ایک لاکھ اٹھائیس ہزار سے زیادہ زخمی اب بھی ملک کی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں
پاکستان کے زلزلے سے متعلق رلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد نے بتایا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے زخمی ہونے والے ایک سو سے زیادہ بچوں سمیت ساڑھے چھ سو زخمیوں کو ’گینگرین‘ ہونے کی وجہ سے ان کے اعضا کاٹ دیے گئے ہیں۔

جمعرات کے روز پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار سے زیادہ زخمی اب بھی ملک کی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

رلیف کمشنر نے بتایا کہ چار لاکھ ساٹھ ہزار خیمے تاحال تقسیم کیے جاچکے ہیں اور دو لاکھ تیس ہزار مزید خیمے پائپ لائن میں ہیں۔ ان کے مطابق رواں ماہ کے آخر تک پانچ لاکھ خیمے تقسیم کرنے کا حدف حاصل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ بیشتر علاقوں تک زمینی راستوں کی بحالی کے بعد رسد پہنچائی جا چکی ہے اور امدادی سامان تقسیم ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق صوبہ سرحد کے متاثرہ علاقوں میں پچھتر فیصد علاقے میں پانی، بجلی اور خوراک وغیرہ کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔

جبکہ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی وادی نیلم کی تباہ حال سڑک پینتیس روز کی کوششوں کے بعد بحال ہوچکی ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ نوسہری سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے تک یہ سڑک اب بھی بند ہے اور اسے کھولنے کا کام جاری ہے۔

میجر جنرل فاروق نے بتایا کہ ایک لاکھ گرم بستروں اور ہیٹرز کا اضافی اہتمام کیا جارہا ہے تاکہ بوقت ضرورت فوری طور پر ان کی فراہمی کی جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہٹیاں کے مقام پر واپڈا کی رہائشی کالونی کو یتیم، معذور اور بیواؤں کے لیے خصوصی مرکز بنایا گیا ہے۔ اس مرکز میں ایک ہزار افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن تاحال دو سو افراد کو وہاں منتقل کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ساڑھے چار سو مفلوج افراد کے لیے حکومت اسلام آباد، مظفرآباد اور مانسہرہ میں خصوصی مراکز قائم کر رہی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر سے چھ ارب دس کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا جس میں سے تاحال چھ ارب چھ کروڑ بیس لاکھ روپے وصول ہوچکے ہیں۔

جبکہ ان کے مطابق بیرون ممالک اور عالمی اداروں نے دو ارب چھیالیس کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے اور اس میں سے اب تک صرف اکیس کروڑ بارہ لاکھ ڈالر مل پائے ہیں۔

رلیف کمشنر نے بتایا کہ اب تک سینتیس لاکھ کمبل اور رضائیاں، ساٹھ ہزار چار سو ٹن سے زیادہ راشن، تین ہزار ٹن سے زیادہ ادویات بھی زلزلہ زدگاں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد