کچھ کشمیری ایل او سی پار کریں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر میں وہ لوگ جو سرینگر مظفر آباد بس سروس بند ہو جانے کے سبب اپنے گھروں کو نہیں لوٹ پا رہے تھے جمعرات کو لائن آف کنٹرول پار کر سکیں گے۔ ایل او سی پر بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین نے بتایا کہ جمعرات کو صرف وہی لوگ ایل او سی پار کریں گے جو زلزلے سے دو روز قبل سرینگر سے مظفر آباد اور مظفر آباد سے سرینگر گئے تھے۔ نامہ نگار نے بتایا کہ دیگر لوگ جو اپنے عزیز اور اقارب کی مدد کے لیے جانا چاہتے ہیں ان کے لیے چوبیس نومبر کی تاریخ دی گئی ہے۔ ان لوگوں کے لیے اجازت نامے کا طریقہ کار وہی ہے جو بس کے ذریعے ایل او سی پار کرنے کے لیے طے کیا گیا تھا۔ نامہ نگار نے بتایا کہ اجازت نامے کا طریقہ کار بہت مشکل اور طویل ہے اور سرینگر میں کشمیری رہنما میر واعض عمر فاروق نے کہا ہے کہ اس سے زلزلے کے بعد ایل او سی کھولنے کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ لوگوں کو اس طریقہ کار سے بہت مایوسی ہوئی ہے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ لوگ ایل او سی کے پار اپنے رشتہ داروں کی مدد اور خیریت معلوم کرنے کے لیے جا سکیں گے لیکن اب کسی کے ایل او سی پار کرنے کا فیصلہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے ہاتھ میں۔ امدادی سامان کے تبادلے کے بارے میں بھی انہوں نے کہا کہ اس کی علامتی حیثیت ہے۔ ابتدائی طور پر خیال تھا کہ دونوں ممالک ایل او سی کے پار ان علاقوں میں سامان پہنچائیں گے جہاں وہاں کی منتظم حکومت کے لیے پہنچنا مشکل ہے لیکن اب دونوں ان علاقوں میں امدادی سامان کا تبادلہ کر رہے ہیں جہاں دونوں کا پہنچنا ممکن ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بدھ کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ کشمیری جمعرات کو لائن آف کنٹرول پر کھولے جانے والے پانچ مقامات میں سے ایک چکوٹھی-اُوڑی سیکٹر سے پیدل چل کر لائن آف کنٹرول پار کریں گے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کی طرف سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے تراسی افراد کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر آنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ستر کشمیری لائن کے اس پار جائیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جمعرات کو صرف وہی لوگ کنٹرول لائن پار کر سکیں گے جن کے ناموں کی تصدیق کا کام مکمل ہو چکا ہوگا۔ دونوں ممالک کے حکام گزشتہ ماہ کی انتیس تاریخ کو لائن آف کنٹرول پر پانچ مقامات کھولنے پر متفق ہوئے تھے۔ یہ مقامات کھل تو گئے مگر ابھی تک کسی کشمیری کو ان مقامات سے لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ دونوں جانب سے بڑی تعداد میں کشمیری ہر کھلنے والے مقام پر اس امید پر آتے تھے کہ ان کو لائن آف کنٹرول کے اس پار رہنے والے اپنے رشتہ داروں کی ایک جھلک دیکھنے کو مل سکے یا زلزلے کے بعد ان کی خیریت معلوم ہو سکے۔ | اسی بارے میں وہاں بڑی بے بسی ہے06 November, 2005 | انڈیا لائن آف کنٹرول ، لوگوں کا غصہ، ہوائی فائرنگ07 November, 2005 | انڈیا ایل او سی کھلنے میں مزید تاخیر 09 November, 2005 | انڈیا کشمیریوں کی فہرستوں کا تبادلہ14 November, 2005 | پاکستان ایل اوسی کھل گئی، کشمیری اب تک منتظر 14 November, 2005 | پاکستان پانچواں کراسنگ پوائنٹ کھل گیا16 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||