کشمیریوں کی فہرستوں کا تبادلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان پیر کو لائن آف کنٹرول کو پار کرنے والے کشمیریوں کی فہرست کا تبادلہ ہوا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے اسّی سے زائد افراد کو لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ پاکستان نے ستر سے زائد افراد کی فہرست بھارت کو بھجوائی ہے جو لائن آف کنٹرول کے پار جانے کے متمنی ہیں مگر ابھی تک یہ طے نہیں ہوا ہے کہ یہ لوگ کب لائن آف کنٹرول عبور کریں گے۔ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم کرنے والی لائن آف کنٹرول چوتھے مقام تتہ پانی ۔مینڈھر سیکٹر سے بھی زلزلے سے متاثرہ منقسم کشمیری خاندانوں اور امدادی سامان کی آر پار ترسیل کے لیے کھول دی گئی ہے لیکن کسی کشمیری کو تاحال لائن آف کنٹرول کے آر پار جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انتیس اکتوبر کو دونوں ممالک کے حکام نے لائن آف کنٹرول کو دونوں جانب کے کشمیریوں کے لیے کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔ لائن آف کنٹرول کھلی تو مگر کوئی کشمیری لائن کے دوسری جانب کیوں نہ جا سکا۔ کیا اس معاہدے میں امدادی سامان کا تبادلہ کرنا طے پایا تھا یا کشمیریوں کی آمدو رفت؟ اس سوال پر دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے واضح طور پر جب لائن آف کنٹرول کھولنے سے متعلق بیان دیا تھا تو یہی کہا تھا کہ منقسم کشمیری خاندانوں اور کشمیریوں کے لیے لائن آف کنٹرول کھولی جائےگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں کسی کے ذہن میں کوئی الجھن نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہی اس معاہدے کا بنیادی نکتہ ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ بھارت نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کھلنے والے کراسنگ پوائنٹ ہفتے میں صرف ایک بار کھولے جائیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کی خواہش تھی کہ یہ مقام ہر روز کھلے مگر بھارت کی مجبوریوں کے پیش نظر پاکستان نے بھارت کی درخواست کو قبول کر لیا ہے۔ سفارتکاری اپنی جگہ مگر حقیقت یہی ہے کہ دونوں جانب کے کشمیری لائن آف کنٹرول کے اس پار اپنے بچھڑے ہوؤں سے ملنے اور اس مصببت کی گھڑی میں ان کی خیریت جاننے کے لیے بے چین ہیں۔ جب گزشتہ ہفتے لائن آف کنٹرول کو راولا کوٹ ۔ پونچھ کے مقام سے کھولا گیا تھا تو لائن آف کنٹرول کے نزدیک جانے والوں پر پولیس نے آنسو گیس پھینکی تھی اور ان کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ بھی کی تھی۔تاہم جب پیر کو تتہ پانی ۔ مینڈھر سیکٹر کھولا گیا تو کشمیریوں کو لائن آف کنٹرول کے نزدیک آنے دیا گیا۔ اس مقام سے لائن آف کنٹرول صرف دس سے پندرہ میٹر لمبی ہے اور ایک میٹر چوڑی باڑھ دونوں جانب کے کشمیر کو جدا کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے فوجی حکام نے اپنے اپنے علاقے سے ڈیڑھ سے دو کلومیٹر تک بچھی بارودی سرنگوں کو بھی صاف کیا ہے۔ | اسی بارے میں ایل او سی کھل گئی مگر09 November, 2005 | پاکستان کنٹرول لائن، لوگوں کا غصہ07 November, 2005 | پاکستان ایل او سی:سخت حفاظتی انتظامات06 November, 2005 | پاکستان امدادی ٹرک تیار، کنٹرول لائن کھلےگی06 November, 2005 | پاکستان ایل اوسی کھل گئی، کشمیری اب تک منتظر 14 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||