پانچواں کراسنگ پوائنٹ کھل گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے پاکستان اور بھارت نے کنٹرول لائن پر بدھ کے روز حاجی پیر اور اڑی کے درمیان پانچواں کراسنگ پوائنٹ بھی کھول دیا ہے۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد دونوں ممالک نے اتفاق رائے سے کنٹرول لائن کو پانچ مقامات سے کھولنے پر اتفاق کیا تھا اور اس سلسلے میں پانچویں اور آخری مقام کو بھی کھولا گیا ہے۔ دیگر کھولی گئیں کراسنگ پوائنٹس میں نوسیری- ٹیتھوال، چکوٹھی-اُڑی، راولاکوٹ- پونچھ اور تتاپانی- میندھر شامل ہیں۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں حاجی پیر کے مقام پر موجود مقامی صحافیوں نے بتایا کہ اس مقام سے سرحد کھولنے کے موقع پر دونوں جانب کے فوجی اور سول انتظامیہ کے افسران اور سرحد کے دونوں اطراف کشمیری خاصی تعداد میں موجود تھے۔ کشمیری ایک دوسرے کو ہاتھ ہلاکر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے لیکن تاحال کسی طرف سے عام کشمیریوں کو ملنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔ دونوں حکومتوں کی جانب سے زلزلہ زدگاں کی مدد کے لیے پانچ مقامات سے کنٹرول لائن تو کھولی گئی ہے لیکن کشیریوں کی آمد و رفت میں مقامی صحافیوں کے مطابق اب بھی دفتری رکاوٹیں حائل ہیں۔ واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ دونوں جانب کے کشمیریوں کو آنے جانے کی سہولت ہوگی لیکن دفتر خارجہ نے اپنی تحریری تجویز میں لکھا کہ منقسم خاندانوں کو ملنے کی اجازت ملنی چاہئے۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ کہیں اس سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شدت پسند نہ گھس آئیں اور وہ اس خدشے کے پیش نظر آنے جانے والے کشمیریوں کی تفصیلی چھان بین کرتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے ’سیکورٹی معاملات‘ کی وجہ پانچ مقامات سے کنٹرول لائن کھولنے کے باوجود بھی عام کشمیریوں کو اتنا فائدہ تاحال نہیں ہوا جس کی توقعات کی جارہی تھیں۔ | اسی بارے میں ایل او سی کھل گئی مگر09 November, 2005 | پاکستان کشمیریوں کی فہرستوں کا تبادلہ14 November, 2005 | پاکستان ایل اوسی کھل گئی، کشمیری اب تک منتظر 14 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||