BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 November, 2005, 15:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امید ہے مایوسی نہیں ہوگی‘

کوفی عنان
افر مطلوبہ رقم نہ ملی تو ایک بار پھر اپیل کریں گے: کوفی عنان
پاکستان میں زلزلہ زدگان کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے سنیچر انیس نومبر کو اسلام آباد میں عالمی امدادی کانفرنس کے تمام انتظامات مکمل ہوچکے ہیں اور بیشتر امدادی ممالک اور اداروں کے وفود پہنچ چکے ہیں۔

کانفرنس سے کچھ گھنٹے قبل جمعہ کی شام گئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک، نجی شعبہ اور امیر لوگ انہیں مایوں نہیں کریں گے اور مطلوبہ فنڈز مہیا کریں گے۔

پاکستان حکومت نے عالمی اداروں کی مشاورت سے جو تخمینہ لگایا ہے اس کے مطابق انہیں پانچ ارب بیس کروڑ ڈالر کی رقم درکار ہے۔

کانفرنس سے ایک روز قبل یعنی جمعہ کو امریکہ نے پندرہ کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر، برطانیہ نے بارہ کروڑ ڈالر اور یورپی یونین نے دس کروڑ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

جبکہ چین، سوئیڈن، جاپان، ترکی، ناروے، لبیا، سعودی عرب، مصر، ملائیشیا، ایران اور دیگر ممالک کے علاوہ عالمی اور ایشیائی بینکوں کے نمائندے اپنی امداد کا اعلان کانفرنس کے موقع پر کریں گے۔

پاکستان کی کوشش ہوگی مطلوبہ رقم عطیات کی صورت میں حاصل کرے اور بصورت دیگر ان کی خواہش ہے کہ بقایا رقم بلا سود قرضوں کی صورت میں انہیں ملے۔

کوفی عنان نے مقامی ہوٹل میں سخت ترین حفاظتی انتظامات میں پریس کانفرنس کے دوران کھل کر سوالات کے جواب دیے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر سنیچر کی کانفرنس میں مطلوبہ تعداد میں فنڈز حاصل نہیں ہوسکے تو وہ دنیا سے دوبارہ اپیل کریں گے اور مطلوبہ مقدار میں رقم کے حصول تک اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا امداد کے ایک ایک ڈالر کا حساب ہوگا اور انٹرنیشنل آڈیٹر بھی اس کا آڈٹ کریں گے۔

انہوں نے جمعہ کے روز صدر جنرل پرویز مشرف کے ہمراہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور خیمہ بستیوں میں مقیم بعض خاندانوں سے ملے اور خیمہ سکول بھی دیکھے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ سونامی سے بڑی تباہی آٹھ اکتوبر کے زلزلہ کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن دنیا نے سونامی کی نسبت زلزلہ زدگان کے لیے امداد میں سست رفتاری کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سونامی کے دسویں روز اسی فیصد مطلوبہ فنڈز مل چکے تھے جبکہ زلزلے کے دسویں روز بارہ فیصد رقم مل سکی اور پانچ ہفتے گزر جانے کے بعد بھی محض تیس فیصد فنڈز حاصل ہوسکے ہیں۔

ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ زلزلہ سے پاکستان اور بھارت کو ایک تاریخی موقع ملا ہے کہ وہ اپنے تعلقات بہتر بنائیں اور اختلافی امور نمٹانے کے لیے مزید اقدامات کریں۔ تاہم انہوں نے کنٹرول لائن پانچ مقامات سے کھولنے سمیت دونوں حکومتوں کی جانب سے کیے گئے اب تک کے اقدامات کو بھی سراہا۔

اقوام متحدہ ، پاکستان حکومت اور زلزلہ زدگان کی آنکھیں انیس نومبر کی کانفرنس پر مرکوز ہیں اور انہیں امید ہے کہ دنیا کے امیر ملک، افراد اور ادارے انہیں مایوس نہیں کریں گے۔

66نیکی کر’بینر پرلکھ‘
امداد سے زیادہ دینے والوں کی تشہیر
وادیِ نیلم کا حال
بہت سے علاقے اب بھی ناقابلِ رسائی ہیں
اسی بارے میں
ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ
18 November, 2005 | پاکستان
درد کا رشتہ، کیوبا کے ڈاکٹر
18 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد