’بہترین بھارتی امداد تنازعہ کشمیر کا حل ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ تنازعہ ہمیشہ کے لیے حل ہونا چاہیے۔ زلزلہ زدگان کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے اسلام آباد میں سنیچر کو عالمی امدادی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امداد دینے کے لیے یہ تمام ممالک کے لیے ایک سنہری موقع ہے اور تنازعہ کشمیر کا حل بھارت کی طرف سے کشمیر کے لیے بہترین امداد ہو سکتی ہے۔ آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد سے پاکستان اور بھارت نے لائن آف کنٹرول پر پانچ مقامات سے سرحد کھول دی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ کانفرنس میں امدادی اداروں کے علاوہ پچاس ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے۔ کانفرنس ان تیس لاکھوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے جو زلزلے کے بعد بے گھر ہو گئے ہیں اور انہیں زندگی دوبارہ شروع کرنے کے لیے مدد درکار ہے۔ کانفرنس کے آغاز سے پہلےصدر جنرل پرویز مشرف جنہوں عالمی برادری سے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ رقم کی اپیل کر چکے ہیں۔ بدھ کو انہوں نے ایک بیان میں عالمی اداروں سے اب تک ملنے والی امداد کو نا قابل ذکر کہا تھا۔ صدر مشرف اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ گزشتہ سال سونامی کے مقابلے میں میں جنوبی ایشیا کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے کم امداد دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بھی کہا کہ سونامی سے بڑی تباہی آٹھ اکتوبر کے زلزلہ کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن دنیا نے سونامی کی نسبت زلزلہ زدگان کے لیے امداد میں سست رفتاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے تنبیہ کی تھی کہ ان علاقوں میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان علاقوں میں تباہی دیکھ کر مایوس ہوئے ہیں۔
جبکہ چین، سوئیڈن، جاپان، ترکی، ناروے، لبیا، سعودی عرب، مصر، ملائیشیا، ایران اور دیگر ممالک کے علاوہ عالمی اور ایشیائی بینکوں کے نمائندے اپنی امداد کا اعلان کانفرنس کے موقع پر کریں گے۔ پاکستان کی کوشش ہوگی مطلوبہ رقم عطیات کی صورت میں حاصل کرے اور بصورت دیگر ان کی خواہش ہے کہ بقایا رقم بلا سود قرضوں کی صورت میں انہیں ملے۔ کوفی عنان نے کہا کہ اگر سنیچر کی کانفرنس میں مطلوبہ تعداد میں فنڈز حاصل نہیں ہوسکے تو وہ دنیا سے دوبارہ اپیل کریں گے اور مطلوبہ مقدار میں رقم کے حصول تک اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا امداد کے ایک ایک ڈالر کا حساب ہوگا اور انٹرنیشنل آڈیٹر بھی اس کا آڈٹ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سونامی کے دسویں روز اسی فیصد مطلوبہ فنڈز مل چکے تھے جبکہ زلزلے کے دسویں روز بارہ فیصد رقم مل سکی اور پانچ ہفتے گزر جانے کے بعد بھی محض تیس فیصد فنڈز حاصل ہوسکے ہیں۔ |
اسی بارے میں ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ18 November, 2005 | پاکستان ڈونر کانفرنس ایک امتحان ہے: آکسفیم18 November, 2005 | پاکستان درد کا رشتہ، کیوبا کے ڈاکٹر18 November, 2005 | پاکستان ’650 متاثرین کے اعضاء کاٹے گئے‘18 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||