BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 November, 2005, 11:40 GMT 16:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عنان کا دورہ، مارچ کی اجازت نہیں

 کوفی عنان صدر مشرف کے ساتھ مظفرآباد میں
کوفی عنان صدر مشرف کے ساتھ مظفرآباد میں
اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل کوفی عنان نے جمعہ کو صدر پرویز مشرف کے ہمراہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں زلزے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقےمظفرآباد کا دورہ کیا۔

کوفی عنان اور جنرل پرویز مشرف کی آمد پر علاقے میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور جس راستے سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور پاکستان صدر کو گزرنا تھا اس پر اسلحہ سے لیس سکیورٹی اہکار تعینات کیے گئے تھے۔ مسلح گارڈز بعض گھروں کی چھتوں پر بھی پہرہ دے رہے تھے۔

پولیس نے ایک کشمیری جماعت کے پچاس کے قریب افراد کو جو مارچ کر رہے تھے آگے بڑھنے سے بھی روک دیا۔ تاہم کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔

اس دورے کے دوران کوفی عنان نے ایک خیمہ بستی میں موجود بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے اور متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہاں اپنی آنکھوں سے صورت حال دیکھنا آیا ہوں اور میں لوگوں کی ضروریات کے بارے میں سننے اور حکومت کے ساتھ تبادلہ کرنے آیا ہوں۔‘

کوفی عنان نے کہا کہ انہوں نے مظفرآباد میں جو کچھ دیکھا اس سے وہ بہت دکھی بھی ہوئے ہیں اور متاثر بھی۔’دکھی اس لئے کہ بہت سےگھر تباہ ہوئے ہیں اور ان کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ میں تعاون کی سطح اور عزم سے متاثر ہوا جو آج صبح میں نے دیکھا۔‘

اقوامِ متحدہ کے سیکٹری جنرل نے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے لیے بہت رقم درکار ہے۔ ’ہمیں پانچ اعشاریہ دو بلین ڈالر کی ضرورت ہے اور جتنی ضرورت ہے اس لحاظ سے وہ زیادہ نہیں ہے ۔ مجھے امید ہے کہ حکومتیں اور افراد ، اور نجی تنظیمیں متاثرین کی دل کھول کر مدد کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ سونامی کے بعد اقوامِ متحدہ نے فنڈز کے آڈٹ اور ان پر نظر رکھنے کے لئے ایک نظام قائم کیا تھا جو اب بھی موجود ہے۔’ہم اپنے پارٹنرز کے ساتھ مل کر یہ کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔لیکن مجھے سمجھ نہیں کہ آیا مجھے صدر سے بات کرنی چاہیے یا نہیں۔ وہ خود اس پر بات کر سکتے ہیں۔‘

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ امداد کے درست استعمال اور اس کے صحیح لوگوں تک پہنچے کے لئے حکومت نے دو سطح کا نظام بنایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صحیح لوگوں تک رقم پہنچانے کے لئے حکومت نے پارلیمنٹ کے ممبروں ، بلدیاتی حکومتوں کے نمائندوں اور فوج پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی ہے۔

صدر مشرف نے کہا کہ اس حوالے سے مزید انتظامات کیے گئے ہیں جس کی تفصیل وہ ہفتے کو وہ ڈونر کانفرس میں بتائیں گے۔

اسی بارے میں
ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ
18 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد