BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 November, 2005, 08:04 GMT 13:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کشمیر کا حل، بہتر بھارتی امداد‘

صدر مشرف اور کوفی عنان
پاکستان زلزلے کے متاثرین کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے پانچ ارب ڈالر چاہتا ہے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھارت سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کریں اور یہ ان کا زلزلہ زدگاں کے لیے بڑا عطیہ ہوگا۔

آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد تعمیر نو اور بحالی کے لیے پانچ ارب بیس کروڑ ڈالر کی مطلوبہ رقم حاصل کرنے کی خاطر بلائی گئی عالمی امدادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی تقریر میں تین بار بھارتی وفد کو مخاطب کیا۔

انہوں نے کہا کہ امداد دینے کے لیے یہ تمام ممالک کے لیے ایک سنہری موقع ہے اور تنازعہ کشمیر کا حل بھارت کی طرف سے کشمیر کے لیے بہترین امداد ہو سکتی ہے۔

صدر نے کہا ’میں بھارت کے صدر، وزیراعظم، حزب اختلاف، عوام، کاروباری برادری، میڈیا، بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت، آل پارٹیز حریت کانفرنس اور دیگر سیاسی گروپوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حل نکالیں‘۔

انہوں نے کہا ’آئیے ہمیشہ کے لیے مسئلہ کشمیر حل کریں اور یہ بھارت کا کشمیر کے لیے اصل عطیہ ہونا چاہیے‘۔

آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد سے پاکستان اور بھارت نے لائن آف کنٹرول پر پانچ مقامات سے سرحد کھول دی ہے۔

امدادی کانفرنس کی افتتاحی سیشن سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان، صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے خطاب کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ زلزلہ زدگاں کی امداد کے لیے فراخدلی سے عطیات دیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے مطابق گزشتہ ماہ آنے والے زلزلے سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے چار اور صوبہ سرحد کے پانچ اضلاع میں تہتر ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک اور اتنی ہی تعداد میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ تیس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے اور چار لاکھ مکانات تباہ ہوئے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں زلزلہ سے چودہ سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ مطلوبہ تقریباً سوا پانچ ارب ڈالر کی رقم میں سے ساڑھے تین ارب ڈالر تباہ حال ’انفرا سٹرکچر، اور مکانات کی تعمیر نو کے لیے جبکہ باقی رقم بحالی اور امداد کے کاموں پر خرچ ہوگی۔

گڑھی دوپٹہ
بڑھتی ہوئی سردی کشمیر کے باسیوں کے لیے بری خبر ہے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان صدر جنرل پرویز مشرف کی درخواست پر خصوصی طور پر اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے تاکہ وہ عالمی برادری کو زلزلے کی تباہی کا احساس دلاسکیں اور مطلوبہ فنڈز حاصل کرنے کے لیے دنیا کی توجہ مبذول کراسکیں۔

کانفرنس میں دنیا کے پچاس ممالک، عالمی، ایشیائی اور اسلامی ترقیاتی بینکوں اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف سمیت مختلف اداروں کے وفود شریک ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور پاکستان کے صدر نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ ان کی طرف سے امداد میں دیے گئے ایک ایک ڈالر کا حساب کتاب ہوگا اور عالمی ماہرین آڈٹ کریں گے۔ جبکہ تمام تر اخراجات کی تفصیل ویب سائیٹ پر بھی دستیاب ہوگی۔

صدر مشرف کے تنازعہ کشمیر حل کرنے کے بارے میں بیان کے جواب میں بھارت کے جونیئر وزیرخارجہ ای احمد نے کہا کہ ’ اس سلسے میں ہماری پوزیشن سب کو معلوم ہے۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ بھارت کشمیر سمیت دونوں ممالک کے درمیان تمام معاملات دہشت گردی اور تشدد کی فضاء سے پاک ماحول میں دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ای احمد نے مزید کہا کہ ’ میری حکومت نے مجھے خصوصی طور حکومت پاکستان اور زلزلہ متاثرین کی بحالی اور تعمیرنو کے لیے بھارت کی طرف سے مکمل حمایت اور مدد کا پیغام دینے کے لیے بھیجا ہے۔‘

’میں ایک بار اس بات کو دھراتا ہوں کہ ہم زلزلہ زدگان کی بحالی کے لیے جاری کوششوں میں بھرپور تعاون کرتے ہیں۔‘

66نیکی کر’بینر پرلکھ‘
امداد سے زیادہ دینے والوں کی تشہیر
اسی بارے میں
ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ
18 November, 2005 | پاکستان
درد کا رشتہ، کیوبا کے ڈاکٹر
18 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد