BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 November, 2005, 13:48 GMT 18:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک بے بس وزیرِ اعظم سے ملاقات

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم سردار سکندر حیات خان
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم سردار سکندر حیات خان
جب میں ، محمد حنیف اور ذوالفقار علی سہ پہر کے بعد مظفرآباد کے پرائم منسٹر ہاؤس پہنچے تو نہ سائلوں کا ہجوم ، نہ ہٹو بچو کی صدائیں، نہ فون کی نہ ختم ہونے والی گھنٹیاں، کچھ بھی نہیں تھا۔

صرف دو سپاہی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم سردار سکندر حیات کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر کھڑے تھے اور انہیں بھی اس بات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں لگ رہی تھی کہ کون آ رہا ہے یا کون جا رہا ہے۔

کچھ دیر وزیرِ اعظم کے پریس سیکرٹری نے روائتی انتظار کروایا اور پھر ہم اس ہال میں پہنچا دیے گئے جہاں وزیرِاعظم مہمانوں سے ملتے ہیں۔ اس ہال کے باہرلان میں ایک بڑا سا سبز خیمہ نصب تھا جہاں شاید دفتری کام ہوتا ہے یا شاید وزیرِاعظم خود رہتے ہیں یا ہوسکتا ہے کہ علامتی خیمہ ہو۔اس بارے میں زیادہ کرید نہیں کی گئی۔

 ایل او سی اس لیے تو نہیں کھولی گئی تھی کہ پانچ تھیلے تم دو پانچ ہم دیتے ہیں۔مقصد یہ تھا کہ دونوں طرف کے متاثرہ لوگ بالخصوص منقسم خاندان ایک دوسرے کی مدد کرنے آسانی سے آجا سکیں۔لیکن ایسا بھارت کے لیت ولعل کے سبب نہیں ہوسکا۔

رسمی علیک سلیک کے بعد سردار سکندر حیات سے یہ دریافت کرنے کی کوشش کی گئی کہ فوج جو کام کررہی ہے وہ تو کر رہی ہے خود حکومتِ کشمیر اپنے طور پر بحالی کے کون کون سے کاموں میں مصروف ہے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ فوج نے کشمیر میں صرف ریسکیو اور ریلیف کا کام کیا ہے۔ باقی کام جس میں پانی بجلی اور فون کی بحالی اور صفائی کا کام شامل ہے وہ مقامی حکومت نے ہی کیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ فوج سے تو یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہاتھ میں جھاڑو بھی پکڑ لے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہماری حکومت نے متاثرین کی فہرستیں بھی مرتب کی ہیں حالانکہ صوبہ سرحد کی حکومت اب تک یہ کام مکمل نہیں کر پائی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ معاوضوں کی تقسیم کا کام بھی تیزی سے ہو رہا ہے۔ چنانچہ جب لوگ کہتے ہیں کہ کشمیری حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے تو مجھے دکھ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود زلزلے سے متاثر ہوا ہوں میرے کئی وزیر، ارکانِ اسمبلی اور اعلٰی افسر جاں بحق ہوئے ہیں یا ان کے گھر اور اہلِ خانہ متاثر ہوئے ہیں۔پھر بھی ہم سے جو بن پڑ رہا ہے کر رہے ہیں‘۔

سردار سکندر حیات سے ملاقات سے قبل یہ بات بھی کسی سرکاری زریعے سے معلوم ہوئی کہ زلزلے کے فوراً بعد لندن اور اسلام آباد میں نیشنل بینک کی برانچوں میں پرائم منسٹر آزاد کشمیر ریلیف فنڈ کے نام سے دو اکاؤنٹ کھولے گئے لیکن یہ اکاؤنٹس حکومتِ پاکستان کے کہنے پر چیف سیکرٹری کشمیر نے حکومتِ کشمیر کے علم میں لائے بغیر ازخود بند کروا دیے اور ان میں جمع ہونے والی رقم کو حکومتِ پاکستان کے صدارتی فنڈ میں منتقل کردیا گیا۔

 مظفرآباد میں چونکہ جگہ کم ہے اور اس تناسب سے آبادی زیادہ ہے۔اس لیے یہ بطور دارالحکومت تو برقرار رہے لیکن ضلعی دفاتر گڑھی دوپٹہ منتقل کر دیے جائیں اور سیکرٹیریٹ بھی منتقل کیا جائے تاکہ ایک کشادہ شہر وجود میں آسکے۔

اس تناظر میں جب سردار سکندر حیات سے پوچھا گیا کہ ماجرا کیا ہے تو انہوں نے تصدیق کی کہ اس طرح کے دو ریلیف اکاؤنٹس انکے نام سے کھولے گئے تھے جبکہ صدارتی ریلیف فنڈ بعد میں وجود میں آیا۔ اس کے بعد ایک دن فنانس سیکرٹری کا فون آیا کہ اوپر سے پوچھا جا رہا ہے کہ وزیرِاعظم کشمیر کے ریلیف اکاؤنٹ کی کیا ضرورت ہے جبکہ صدارتی ریلیف اکاؤنٹ کام کر رہا ہے چنانچہ ہم نے کسی غلط فہمی سے بچنے کے لیے یہ اکاؤنٹ بند کرا دیے تاکہ یہ تاثر نہ پیدا ہو کہ ہم علیحدہ سے کوئی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رہے ہیں حالانکہ اگر یہ اکاؤنٹ جاری رہتا تو وہ لوگ جو کسی وجہ سے صدارتی اکاؤنٹ میں رقم نہیں دینا چاہتے وہ بخوشی وزیرِاعظم کشمیر ریلیف اکاؤنٹ میں پیسے جمع کراسکتے تھے۔

اگرچہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ایک قانون ساز اسمبلی کام کر رہی ہے لیکن اتنی بڑی تباہی کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد بھی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب نہیں کیا گیا تاکہ ریلیف کے کام پر بحث مباحثہ ہو سکتا۔

اس بارے میں سردار سکندر حیات نے کہا کہ اس طرح کا اجلاس یوں نہیں طلب کیا گیا کہ ارکان نے صرف شورشرابہ اور خواہ مخواہ کی تنقید کرنی تھی لیکن بحالی کے کام کے دوسرے مرحلے کے بارے میں اسمبلی کو ضرور اعتماد میں لیا جائےگا۔

متاثرین کو معاوضہ دینے کے بارے میں متضاد تاثر ابھرنے کے تعلق سے سردار سکندر حیات نے بتایا کہ شروع میں صدرِ پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ہر ہلاک شدہ کے وارث کو ایک لاکھ روپئہ فی کس معاوضہ ملے گا۔اور اگر کسی خاندان کے پانچ سے زائد افراد مرے ہیں تو انہیں زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ روپے ملیں گے۔ بعد میں کہا گیا کہ چونکہ وسائل کم ہیں اس لیے فوری طور پر فی خاندان ایک لاکھ روپے دے دیے جائیں لیکن اب پاکستانی وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے ایک بار پھر وضاحت کی ہے کہ معاوضہ فی کس کی بنیاد پر ملے گا۔

سردار سکندر حیات سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں یقین ہے کہ فی کس معاوضہ مل جائےگا توان کا جواب تھا کہ میں کیسے یقین سے کہوں یہ میرے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔دینا تو حکومتِ پاکستان نے ہے۔

فوج نے کشمیر میں صرف ریسکیو اور ریلیف کا کام کیا ہے۔ باقی کام جس میں پانی بجلی اور فون کی بحالی اور صفائی کا کام شامل ہے وہ مقامی حکومت نے ہی کیا ہے۔

دارالحکومت مظفرآباد کی تعمیرِ نو کے حوالے سے سردار سکندرحیات نے بتایا کہ زلزلہ زدہ علاقوں کی بحالی اور تعمیرِ نو کی اتھارٹی کو میں نے یہ تجویز دی ہے کہ مظفرآباد میں چونکہ جگہ کم ہے اور اس تناسب سے آبادی زیادہ ہے۔اس لیے یہ بطور دارالحکومت تو برقرار رہے لیکن ضلعی دفاتر گڑھی دوپٹہ منتقل کر دیے جائیں اور سیکرٹیریٹ بھی منتقل کیا جائے تاکہ ایک کشادہ شہر وجود میں آسکے۔

زلزلے سے سینکڑوں سرکاری عمارات اور ہزاروں اسکول تباہ ہوئے ہیں کیا اس کے زمہ داروں کے تعین کے لیے کوئی کمیشن قائم کیا جائے گا۔اس سوال کا وزیرِ اعظم نے دوٹوک جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر جو عمارات گری ہیں وہ سن ستر اور اسی کے عشرے کی ہیں۔انہیں بنانے والے بھی پتہ نہیں کہاں مرکھپ گئے ہوں گے اور ان کی منظوری دینے والے بھی کبھی کے ریٹائر ہوگئے ہوں گے۔ البتہ جو پچھلے سات آٹھ برس میں بننے والی عمارتیں گری ہیں جیسے کمبائنڈ ملٹری اسپتال جس کا میں نے خود تین سال پہلے افتتاح کیا تھا تو اس کی تحقیقات ضرور کی جائیں گی۔

سردار سکندر حیات سے پوچھا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر پانچ مقامات جس مقصد کے لیے کھولے گئے ہیں کیا وہ مقصد حاصل ہوگیا۔وزیرِ اعظم کا جواب تھا کہ یہ مقامات اس لیے تو نہیں کھولے گئے تھے کہ پانچ تھیلے تم دو پانچ ہم دیتے ہیں۔

مقصد یہ تھا کہ دونوں طرف کے متاثرہ لوگ بالخصوص منقسم خاندان ایک دوسرے کی مدد کرنے آسانی سے آجا سکیں۔لیکن ایسا بھارت کے لیت ولعل کے سبب نہیں ہوسکا۔

اسی بارے میں
زلزلہ بطور پروڈکٹ
20 November, 2005 | پاکستان
’نمونیہ سب سے بڑا خطرہ ہے‘
20 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد