’نمونیہ سب سے بڑا خطرہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طبی ماہرین نے کہا ہے کہ زلزلہ سے متاثر پہاڑی علاقوں میں انہیں سب سے بڑا خطرہ نمونیہ دکھائی دے رہا ہےاور شدید سردی میں بچوں اور بوڑھوں کی بڑی تعداد میں اموات کا خدشہ ہے۔ ضلع باغ کے مرکزی سرکاری ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عتیق زاہد کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں کے بعد جو معاملہ قابو سے باہر ہو سکتا ہے وہ نمونیہ ہے۔ ان کے مطابق باغ اور اردگرد کے پہاڑی سلسلوں میں ابھی موسم سرما کا آغاز نہیں ہوا ہے لیکن نمونیہ کے کیس آنا شروع ہوگئے ہیں۔ زیادہ تر مریضوں کو ایک تو مقامی ہسپتال میں طبی امداد دی گئی جبکہ جن چند مریضوں کی حالت زیادہ خراب تھی انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد منتقل کیا گیاہے۔ بالائی پہاڑی علاقوں میں چند بچوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے جس کی ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال باغ کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے تاہم ان کے نام اور پتے نہیں بتاۓ۔ وادی نیلم اور وادی کاغان کے درمیان بعض علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کاغان کے متاثرہ علاقوں جرید اور پارس سے لے کر راجوال تک شدیدٹھنڈ پڑنا شروع ہوگئی ہے زلزلہ متاثرین سخت بے بسی کا شکار ہیں۔ایک طرف سردی انہیں موت کے منہ میں کھیچتی ہے تو دوسری طرف زلزلے کے جھٹکے انہیں اپنے بچے کچھے مکانوں میں پناہ نہیں لینے دیتے۔ مقامی لوگ ٹوٹے گھروں پر گھاس پھونس کی چھت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کاغان میں کل سے چلنے والے سرد ہواؤں کے جھکڑ ان جھونپڑیوں کو اڑا لے جاتے ہیں۔ جن کے پاس خیمے ہیں وہ سردی سے بچاؤ کے لیے آگ نہیں دہکا سکتے کیونکہ اس سے خیموں کو آگ لگ سکتی ہے۔ ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر عتیق زاہد کے مطابق انہیں خدشہ ہے نمونیہ سے بڑی تعداد میں لوگ مر جائیں گے۔
ڈاکٹر عتیق زاہد نے بتایا کہ پچھلے سال جب حالات ایسے خراب نہیں تھے تب بھی صرف باغ ضلع میں نمونیہ سے پانچ سو کے قریب اموات ہوگئی تھیں۔ یوں تواس بیماری کا شکار چھوٹے بڑے سبھی ہیں لیکن انہوں نے بتایا کہ بچے اور بوڑھوں کا اس بیماری کا مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے چھوٹے اور بوڑھوں کے کمزور پھیپھڑوں کے لیے اس بیماری سے بچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر عتیق زاہد نے بتایا کہ پچھلے سال جب حالات معمول پر تھے توتقریباً پانچ سے دس فیصد بچے نمونیہ کا شکار ہوۓ تھے اور اس بیماری سے متاثرہ بوڑھوں میں سے نصف ہلاک ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ ہزارفٹ بلندی کے علاقوں میں جہاں لوگوں کے سرپر چھت نہیں ہے اور پہننے کو گرم کپڑے نہیں ہیں وہاں پر بارش یا برفباری کے آغاز کے بعد سردی سے لگنے والی بیماری نمونیہ قابو سے سے باہر ہوجاۓ گی۔ انہوں نے کہا کہ’ میں توکہتا ہوں کہ اس وقت کھانا نہ دیں خیمے نہ دیں کچھ نہ دیں اب سردی آرہی ہے لوگو ں کو صرف اور صرف ٹین کی چھتیں دیں جن سے وہ اپنی زندگیاں بچانے کی کوشش کر سکیں۔‘ آج زلزلہ سے متاثر ہزاروں بچے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے پہاڑوں پر کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ ان بچوں اور نمونیہ کے درمیان اب شدید سردی کی لہر کی کمی ہے جو کسی وقت بھی آ سکتی ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ، سردی: مزید ہلاکتوں کا خدشہ 14 November, 2005 | پاکستان باغ: ساتویں شب آسمان تلے15 October, 2005 | پاکستان بارش: زلزلے کے متاثرین مشکل میں11 November, 2005 | پاکستان ’650 افرادکےاعضاء کاٹے جا چکے ہیں‘17 November, 2005 | پاکستان ’ عالمی امداد بالکل ناکافی ہے‘ 21 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||